
لبنیٰ مزمل
رات کوکسی سرگوشی سےزینب کی آ نکھ کھلی۔ یہ کون بول رہا ہے۔ زینب نے خود سے سوال کیا اور آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر کمرے میں دیکھنے لگی مگر تاریکی کی وجہ سے
کچھ دکھائی نہ دیا-ہو سکتا ہےغزان بھائی آگئے ہوں اور سوتے ہوئے بول رہے ہوں
پورے دن اتنی محنت بھی تو کرتےہیں ۔ زینب نے خود سے قیاس کیا اورآ نکھیں موند کر نیند کی وادیوں میں گھومنے پھرنےنکل گئی۔
فجرکی اذان کےساتھ ہی زینب اٹھ بیٹھی امی جائےنمازبچھائے نماز کی ادائیگی میں مصروف تھیں ۔ زینب بھی ضروریات سے فارغ ہونے کےبعد وضو کرکے نماز کے لیے جائےنماز پر کھڑی ہو گئیں، نماز کے دوران بھی اسے غزان بھائی کا خیال آ گیا ،جائے نماز اٹھانے کے بعد زینب نے امی سے غزان بھائی کے بارے میں دریافت کیا۔
امی جان رات کو مجھے غزان بھائی کے بولنے کی آ وازیں آرہی تھیں۔ ارے نہیں بیٹی غزان تو بہت زیادہ مصروف ہو گیا ہے،اب تو رات کو بھی نہیں آپاتا۔
امی مجھے غزان بھائی بہت یاد آرہےہیں پورے پندرہ دن ہوگئے ہیں میں نے بھائی کی صورت نہیں دیکھی ۔زینب کی آ نکھوں میں نمی اترآئی نہیں بیٹا روتے نہیں ۔ غزان ہماری خاطر ہی تو اتنی محنت کرتا ہے۔اللّٰہ اسے کامیاب کرے آ مین زینب نے آ مین کہا اور اسکول جانے کی تیاری کرنے لگی۔
چارسال پہلے تک یہ چارنفوس پر مشتمل گھرانہ فلسطین کے علاقے ویسٹ بینک کا ایک خوبصورت گھرانہ تھا ، پھر رمضان المبارک میں اسرائیل کے حملوں میں غزان اور زینب کے والد شہادت کے رتبےپرفائز ہو گئے۔اس واقعے نے غزان اور زینب کی زندگیوں پر گہرا اثر ڈالا۔ چھوٹی ہونے کی وجہ سے زینب غزان میں باپ کو تلاش کرنے لگی جبکہ غزان بیت المقدس کو آزاد کروانے کے لیےاور اپنے والد کا بدلہ لینے کے لیے حماس میں مزید متحرک ہو گیا۔
غزان کبھی دن میں گھر سےغائب ہوتا تو کبھی رات میں آہستہ آہستہ دن اور رات ہفتوں میں بدلنے لگےزینب کےاستفسار پر ماں کام کی زیادتی کا بتاتیں تو زینب خاموش ہو جاتی۔ غزان سے ملنے کی خواہش ظاہر کرتی توماں کا جواب ہوتا وہ رات کو تو آیا تھا تم سو رہی تھیں، میں نے اٹھانا مناسب نہیں سمجھا ۔دن گزرتے گئے ایک دن زینب اسکول سے گھرپہنچی ہی تھی کہ دروازے پر دستک ہوئی ۔ زینب نے دروازے کھولا سامنے غزان کھڑا تھا ، زینب حیرانی سےدیکھتی غزان سے لپٹ گئی ۔غزان نے بھی بہن کو پیار کیا اوربولا بہنا میں زرا جلدی میں ہوں۔
کیوں ؟ کیا طوفان آنے والا ہے زینب نے پوچھا۔ نہیں میری بہن طوفان آنے والا نہیں ہےبلکہ ہم تو خود طوفان ہیں جہاں جاتے ہیں ہر چیز کو تہس نہس کردیتے ہیں – اچھا تو یہ طوفان کہاں ٹکرا ے گا ۔
زینب نے ہنستے ہوئے بھائی سے پوچھا۔تمہیں بہت جلد ایک خوشخبری ملے گی ۔غزان یہ کہتا ہواامی کو پکارنے لگا ، امی کے آنے پر غزان نے ایک بیگ امی کے حوالے کیا اوراسے حفاظت سے رکھنے کی تاکید کرتے ہوئے فی امان اللّٰہ کہا واپس پلٹ گیا۔
رات کو زینب کی آ نکھ پھر سرگوشی سےکھلی کمرے میں ہلکی سی روشنی تھی اور دو سائے آپس میں محو گفتگو تھے۔ زینب بغیر حرکت کیےغور سے سننے کی کوشش کرنے لگی بھائی امی سے مخاطب تھا،امی شائد یہ ہماری آخری ملاقات ہوآپ اپنا اور زینب کا خیال رکھیے گا اگر یہودی فوجی میرے پیچھے آئیں توزینب کو ان درندوں کے سامنے مت آ نے دیجیے گا ، میں جنت میں بابا کےساتھ آ پ کا منتظر رہوں گا۔
غزان زینب کی جانب آ یا اورزینب کی پیشانی کا بوسہ لے کر کمرے سے باہر نکلتا ہوا بولا امی میرا سامان میراکوئی ساتھی آ کرلے جائےگا ، فی امان اللّٰہ
امی دروازے بند کرنے کے لئے غزان کے پیچھے چلی گئیں۔ اسی دوران زینب خاموشی سے اٹھی اوربیگ کھول کردیکھنے لگی بیگ میں چند رائفل گولیاں اور ہینڈ گرنیڈ تھے زینب نے احتیاط سے ایک ہینڈ گرنیڈ نکال لیا اور اپنے بیڈ کے نیچے چھپادیا اور خود اپنے بستر پرلیٹ گئی۔
صبح ویسی ہی چمکدار تھی جیسی کہ روز ہوتی ہے ۔پرندے بھی اسی طرح آسمان پر غوطہ زن تھے،جیسے روز ہوتے ہیں مگر ایک بے چینی تھی جس میں زینب مبتلا تھی محسوس ایسا ہوتا تھا کہ جیسے کچھ ہونے والا ہےمگر کیا جواب ندارد۔
اسکول کے راستے میں بھی اسے کچھ الگ سا لگا لوگ ٹولیوں کی شکل میں کھڑےمحو گفتگو نظر آئے۔ ایسامحسوس ہوتا تھا کہ جیسے کسی خاص مسئلے پر گفتگو ہو رہی ہو اسکول پہنچنے پرمعلمات بھی گول دائرہ بنائے کھڑی نظرآئیں۔ بچیاں بھی قطاریں بنا کر کھڑی ہو گئیں پرنسپل صاحبہ تشریف لائیں اور مائیک سنبھالتے ہی انہوں نے طوفان الاقصی کی نوید دی اور ایک پر جوش تقریر کی تمام معلمات اور طالبات بے انتہا خوش تھیں اور اپنے بھائیوں کی کامیابی اور مسجد اقصی کی آ زادی کے لیے بارگاہ الٰہی میں۔ دعا گو تھیں
طوفان الاقصی شروع ہوئےآ ج دوسرا دن تھا۔گزشتہ رات حدید بھائی اسلحے والا بیگ بھی لے گئےتھے،امی تمام وقت اللّٰہ کا ذکر کرتی رہتیں۔ اسرائیل کی جانب سے شدید بمباری جاری تھی اورحماس کے حملے بھی اسرائیل کو خوفزدہ کررہے تھے، حملوں میں تیزی آتی جا رہی تھی حماس کے حوصلے بلند سے بلند تر ہوتے جا رہے تھے ۔ فلسطین کا ایک ایک بچہ مجاہد تھا اور جام شہادت نوش کرنے کے لئے بے چین تھا ۔
رات بھی شدید بمباری آوازیں متواتر آرہی تھیں نہ جانے کس پہر بمباری رکی اور زینب کی آ نکھ لگ گئی۔ دروازے پردستک بہت شدید تھی زینب اٹھ بیٹھی امی دروازے کی جانب گئیں زینب کو خطرے کی گھنٹی بجتی محسوس ہو رہی تھی
زینب بستر سے اٹھی اور ہینڈ گرنیڈ کو ہاتھ میں لے لیا.
امی نے دروازہ کھول دیا تھا اسرائیلی فوجی تیزی سے گھرمیں گھس آئے اور ہر جانب پھیل گئے،اسی دوران زینب نے تیزی سے بستر پردوتکیے رکھ کر ان پر چادر ڈال دی اسرائیلی فوجی کمرے میں داخل ہوئے۔زینب زور سے چیخی میرے بھائی کو کچھ مت کہنا زینب کی آوازسن کر تمام فوجی اسی کمرے میں آگئے اورامی بھی ۔ زینب نے نہایت پھرتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ہینڈ گرنیڈ سے پن کھینچ کر اسے زمین کی جانب پھینک دیا ایک دھماکہ ہوا اور قدس کی بہادر بیٹی جنت کی راہ پر گامزن ہو گئی۔
لبنی




































