
نزہت عثمان
انسان کی فطرت ہے کہ وہ اپنےمحبوب سے جتنی محبت کرتا ہےاپنےمحبوب کے دشمن کی نفرت میں اتنا ہی سخت
دشمن بھی بن جاتا ہے۔قرآن مجید میں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی یہ صفت کہ وہ کفار پر انتہائی سخت تھے، اس صفت کی تعریف میں اللّٰہ رب العزت نے فرمایا
وَ الَّذِیْنَ مَعَهٗۤ اَشِدَّآءُ عَلَى الْكُفَّارِ رُحَمَآءُ بَیْنَهُمْ
اوران کے ساتھ والے کافروں پرسخت ہیں اور آپس میں نرم دل
سورہ الفتح آیت انتیس
یہ کلام الہٰی کی محبت کی طاقت ہے، اسلام سے محبت کی طاقت ہے، 14 صدیوں سے عشق مصطفیٰ کی روایت برقرار رکھنےوالے، اللّٰہ ورسول صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت میں بیت المقدس سے محبت اور بیت المقدس کی محبت میں قربانیاں دیتے مسلمانوں کی محبت کا ثبوت دیا۔
علامہ اقبال کے اس شعر
ہو حلقہ یاراں تو بریشم کی طرح نرم
رزم حق و باطل ہو تو فولاد ہے مومن
کی عملی تصویر بنے وہ نوجوان جنہوں نے مشتعل ہو کرکےایف سی پر حملہ کیا، کے ایف سی کو آگ لگا کر مسلمانوں کے دل میں لگی آگ پر پانی کی اک ٹھنڈی پھوار برسائی، زندہ دلی اور زندہ ایمان ہونے کا ثبوت دیا اور اپنے عزم و جرآت سے ثابت کیا کہ فلسطین میں لگنے والی آگ صرف فلسطینیوں پر نہیں برس رہی مسلمانوں کے دلوں پر بھی برس رہی ہے۔
اسلم سے والہانہ محبت کی روایت برقرار رکھنے والے بندگان خدا کا یہ عمل قابل مذمت تو ہر گز نہیں البتہ قابل داد اور قابل تحسین ضرور ہے،کیونکہ کچھ روز سے اہل ایمان نوجوان کے ایف سی اور میکڈونلڈ میں جا جا کر تقریروں کے ذریعے لوگوں کو فلسطین پر ہونے والے مظالم کی یاد دہانی کروا کروا کر بائیکاٹ کی ترغیب دیتے رہے، جبکہ کچھ نا اہل لوگوں کے کانوں پر جوں تک نہ رینگی اورعید کے موقعہ پر فلسطین کی آہوں اور سسکیوں میں ڈوبی خون آلود عید کو بھول کر، اسرائیلی بربریت کو بھول کر ایف سی اور میکڈونلڈ پررش ڈالا تو ایسےمیں وہ جوانان اسلام جن کے دلوں میں ایمان ابھی زندہ ہے،ان کا مشتعل ہو کر کے ایف سی پر حملہ کرنا حق بجانب ہے، فلسطین کو جلتا دیکھ کر مسلمان کیا صرف نیرو کی طرح چین کی بانسری بجاتے رہیں، کیا ان کی آہ و بکا اورفلک شگاف چینخیں ہمارے کلیجوں تک نہیں پہنچتیں، کیا ان بچوں کی خوف و دہشت سے پھٹی آنکھیں، ملبے تلے دبے ان کے پیاروں کی لاشیں، زخموں سے چور چور فلسطین ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہمارے دل چیر کہ رکھ دینے کے لئے کافی نہیں۔
یہ وہ جہاد ہےجو انہوں نے باوجود خواہش کےفلسطین ناجاسکنےکی خواہش پراپنی استطاعت کے مطابق کیا ہو گا۔ یہ نوجوان ہماری قوم وملت کا وہ گراں قدراثاثہ ہیں جو اللّٰہ کی رسی کو تھام کر باطل طاقتوں کے سامنے سینہ سپر ہو جائیں، سپرطاقتیں ان کے سامنے سرنڈر ہوجائیں۔ ان باطل کھوکھلی قوتوں کا سر کچلنے کے لیےمسلمانوں کو ماضی کی طرح آج بھی فقط باہمی اتحاد کی ضرورت ہے۔ باہمی اتحاد ہوتا تو کروڑوں مسلمان 80 لاکھ یہود سے ہارنامانتے۔
آج بھی مسلمانوں کے ایمانی جذبات حضرت طلحہ رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ ،حضرت مصعب بن عمیر، شیرخدا خضرت علی رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ، سیف اللہ خضرت خالدبن ولید رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ کی یاد تازہ کر سکتے ہیں۔
آج اذن عام کا اعلان کرکے کچھ اسباب مہیا کر دیے جائیں تو دورصحابہ کی طرح ایک عظیم الشان لشک تیار ہو سکتا ہے، یہ ہمارے نوجوانوں کے جذبات بتا رہے ہیںاور فلسطینی مسلمانوں کی حمایت میں کیوں نہ ہوں ایسے جذبات۔۔۔
حدیثِ پاک میں ہے کہ
تم مسلمانوں کوآپس کی رحمت ،باہمی محبت اور مہربانی میں ایک جسم کی طرح دیکھو گے کہ جب ایک عُضو بیمار ہوجائے تو سارے جسم کے اَعضاء بے خوابی اور بخار کی طرف ایک دوسرے کو بلاتے ہیں ۔( بخاری، کتاب الادب، باب رحمۃ النّاس والبہائم، ۴ / ۱۰۳، الحدیث)۔




































