
ام عبداللہ
سرسبز وشاداب میدانوں اور ندی کے درمیان واقع بستی کا رہائشی عامراپنی چمکیلی آنکھوں اور ہمہ وقت مسکراہٹ کےسبب جانا جاتا تھا لیکن اس کے
خوش گوار چہرے کے نیچے ادھورے خوابوں اور نامساعد حالات کا بوجھ تھا جواسے دکھی رکھتا تھا۔
ہر سال رمضان میں وہ خود سےعہد کرتا کہ میں لازمی اپنی ان خواہشات کو پورا کروں گا جووہ کبھی نہیں کر پایا ۔ ہر بار عید اس کی ادھوری خواہشات کی تلخ یاد بن جاتی ۔ چھوٹی عمر سے ہی عامر نےسلائی کا فن اپنی دادی سے سیکھا تھا ج ایک ہنرمند اور کامیاب درزن تھیں۔
اس نے کئی گھنٹے احتیاط سے کپڑوں کی سلائی کرنے،خوبصورت ڈیزائن بنانےاور اس دن کا خواب دیکھنے میں گزارا جس دن وہ عید کے لیے اپنے ہاتھ سے تیار کردہ لباس پہنے گا۔۔پھر بھی اپنی لگن اورمحنت کے باوجود حالات کبھی بھی اس کے اتنے حق میں نہیں ہوئے کہ وہ یہ " عیاشی " افورڈ کرلے ۔
اس کے خاندان کی مالی مجبوریوں کا مطلب عیش وعشرت پرضروریات کو ترجیح دینا ہوتا ہے۔عید پر جیسے ہی چاند جگمگایا ، عامر کی آنکھوں میں خواہشوں کےنا مکمل ہونے کے دکھ سےآنسو چھلک پڑے بازار میں رات گئے تک رونقیں لگی رہیں۔ آخری پہروہ تھکا ہارا جب آسمان کوتک رہا تھا تواسے لگا صرف چاند اس کے دکھوں کا خاموش گواہ اوراس کے جذبات کا آئینہ دار ہے۔ اس قدر شدید شورو ہنگاموں کےبعد پرسکون ماحول نے اسے تازہ دم کردیا۔ اسے لگا کہ اگر اس نے عید کے کوئی کپڑے نہیں بنائےتو کوئی بات نہیں اس کے اندر حالات سے لڑنے کی جرات ہے ہمت اورحوصلہ ہے ۔اس ہاتھ سلامت ،جذبے جواں ہیں۔ اسے شکست نہیں کھانی، اس نےعید کی صبح کا پرجوش استقبال کیا اورنئےعزم کےساتھ سب کو مبارکباد دی۔ایک اور دن ہنگاموں ،رونقوں کےساتھ بیت گیا، پھر رات گئے چمکتے چاند پر گہری نظر ڈالتےاس نے اپنے آپ سے ایک وعدہ کیا-اپنے خوابوں کو کبھی نہیں چھوڑے گا کیونکہ خواب ہی ستارے کی مانند ہوتے ہیں جو روشن کل کی نوید دیتے ہیں۔




































