
حکیم سید صابرعلی شاہ
میں ایک زندہ لاش۔۔۔۔۔۔ کربلائے غزہ کے تناظر میں عالم اسلام کا نوحہ۔۔۔۔۔۔بچپن سے لے کر آج تک جب بھی سانحہ کربلا کا مطالعہ کرتا ہوں یا طلبہ کو ان کے
مرسیہ پڑھاتے اس ظالمانہ منظر کو دیکھتا ہوں کہ جنت کے پھول نواسہ رسول صلی اللّٰہ علیہ والہ وسلم کا کیا حشر ہوا عزت ماب عفت ماب ماؤں اور بیٹیوں کو کوفہ اور شام میں کن حالات سے گزرنا پڑا تو صبرو برداشت کا پیمانہ چھلک جاتا ہے اس حالت نے کیوں یزیدیوں کو ایسے ہی مذموم حرکات کی مہلت دی؟ کیوں دپٹوں کو تار تار کرنے کی نوبت آئی، ان درندوں کو عبرت کا نشان کیوں نہ بنایا گیا؟ ایک ہی جواب ہے کہ مشیت خداوندی اور خود جام شہادت نوش کرنے والوں نے فرمایا کہ اگر اللّٰہ تعالیٰ راضی ہے تو اس کی رضا میں راضی ہوں۔ اللہ اکبر ! اشکبار آنکھوں سے طلبہ سے یہی کہا کہ باقی کا مطالعہ طلبہ خود کر لیں۔
آج سے تقریباً 10ماہ پہلے جب غزہ کے معصوم لوگوں پرتنگ آمد کے جواب میں زمینی اور فضائی حملے شروع ہوئے توگمان یہی تھا کہ عالمی تناظر میں معصوم فلسطینیوں کو ان کی گستاخی پر گوشمالی کرتے ہوئے سزا دی جائے گی تو عالمی چوہدری اپنی روایت کے مطابق مہینہ دو مہینہ کے بعد سیز فائر کے فارمولا پرعمل کریں گے لیکن موجودہ دورکے ہلاکو اسرائیلی وزیراعظم نے دو ٹوک اعلان کیا اور عموماً اس کا مظاہرہ کیا کہ فلسطینی نسل کی بیخ کنی اور نسل کشی سے کم ان کی کوئی منزل نہیں۔ عالمی سطح پر امن کے ٹھیکے دار جوویٹو پاور بھی رکھتے ہیں اور دنیا میں اسلحے کی فروخت اور نت نئے اسلحے کی آزمائش کے لیے اسرائیل کی پشت پناہی کر رہے ہیں۔ جوبائڈن، برطانوی وزیراعظم اور فرانسیسی صدر نے کھل کر اسرائیل جیسے باؤلے کتے کا ساتھ دیا۔ ستم بلاۓ ستم کہ مظلوم اور زخمی انسانوں کی خوراک اور طبی امداد کے سارے راستے بند کردیے۔ صدافسوس کے مصر جس کے ذریعے مظلوموں کو امداد دی جا سکتی تھی اس نے بھی اسرائیل سے قابل جرم وعدوں کی وجہ سے پوری طرح تعاون کیا۔
روز بروز اس ظالمانہ جنگ میں جس کو ہم کربلائےغزہ کہہ سکتے ہیں ،شدت پیدا ہوتی گئی مرنے والوں کی تعداد کا گراف ہرروز اوپر جانے کی خبریں نشر ہوتیں۔ ہسپتال سکول مہاجر کیمپ جو بین الاقوامی معاہدوں کے تحت مشستی ہوتے ہیں ان پر بھی بار بار حملے کیے گئے نام نہاد سلامتی کونسل کا جب بھی اجلاس بلایا گیا مشستا گفتا برخاستا کا عملی نمونہ ثابت ہوۓ۔
برطانیہ امریکہ فرانس جرمنی اور دیگر مذاہب کے ملکوں میں لاکھوں کی تعداد میں حکمرانوں کے مظالمانہ رویہ کےخلاف احتجاجی جلوس نکالے گئے فلسطینیوں کے خلاف ظلم کو بند کرنے کا مطالبہ کیا گیا مگر ان ممالک کے سفاک سنگ دل بلکہ پتھر دل حکمرانوں نے جمہوریت کے اپنے ہی دعوے کو چھوڑ کراسرائیل کو اپنے شیطانی فعل کو جاری رکھنے کی اجازت دی ۔
مرنے والوں کی تعداد 50ہزار سے تجاوز کر چکی ہے،زخمیوں کی تعداد کاصحیح اندازہ نہیں شاید ہی کوئی گھرانہ ہوجس کےافراد ایک دوسرے کو دلاسہ دینے کے لیے زندہ ہوں ۔ شاندارعمارات ملبےکا ڈھیر بن چکی ہیں جو شاید دوبارہ تعمیر ہوں، ملبے کے نیچے دب کر مرنے والوں کی تعداد معلوم نہیں ساراعلاقہ لہولہو ہو چکا ہے۔ معصوم پھول اورکلیاں مسل دیے گئےآگر آج جنگ بندی بھی ہو جائے تو نسل کشی کا یہ کھیل بچےکھچےفلسطینیوں کو دوبارہ زندہ کرنے کی ہمت اورسکت کیسے دے گا ۔
گرتی لاشیں لہو لہان ماؤں کے دامن سسکتے بچوں کی چخیں، یہ شیطانی کھیل دیکھنے کی ہمت تھی جب دوبارہ یہ سلسلہ جاری رہا تو خبریں اور تبصرے سننے بھی بند کر دیے۔56اسلامی ممالک جن کے پاس مادی وسائل افرادی قوت فوجی سازو سامان ہے جس کے طیارے رنگی قوس وقزاح نہ کروانے والےحکمرانوں کومارچ پیش کرتے ہیں اپنی آزادی کی تقاریب مناتے ہیں عرب لیگ او آئی سی اور دیگر اسلامی تحریکیں کہاں ہیں الخدمت پرچم تلے امریکی سفارت خانےکےسامنے اجتماعی جلوس کی جرات صرف اور صرف جماعت اسلامی کوہوئی ۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا وہ فرمان جس ک مفہوم ہے
"عالم اسلام جسد واحد کی طرح ہے آنکھوں اور دانتوں میں درد ہو تو سارا جسم درد محسوس کرتا ہے"ہمارے حکمران کرسی کی جنگ لڑتے لڑتے قوم کو تباہ کر رہے ہیں وہ حکمران کہاں ہیں اور ان کی فوجی قوت کس کے لیے ہے۔
غزہ اجڑ چکانسل کشی کا اسرائیلی ہدف مکمل ہو چکا لیکن کیا فلسطین کی آزادی کا پرچم سرنگوں ہو گیا۔ زندہ لاش لرز رہی ہے کہ کل کو یہود کی طرح ہنود کو بھی اشارہ دیا گیا اس کا پٹہ بھی کھول دیا گیا تو کشمیرکی آزادی کی جنگ کو تو پہلے ہی سرد خانے میں ڈال دیا گیا ہے ۔مقصد حوصلہ شکنی نہیں ہے بلکہ آج جس رویے کا مظاہرہ ہوا ہے ہم نے فلسطینی اور کشمیری معصوم لوگوں کے لیے کیا کیا ہے؟؟؟ یہ زندہ لاش غزہ کی روشنی میں اپنے سوال کے جواب کی تلاش میں ہے۔




































