
ماہنور شاہد
الحمد میں تمام تعریفیں شامل ہوجاتی ہیں خواہ صفات اورحمد براہ راست رب سےمنسلک ہوں یا پھر کوئی خوبی رب نے اپنے کسی
بندے کو عطا کی ہوں، ان سب میں اللّٰہ کی رحمت اور بڑائی کار فرما ہے۔
کتنے ہی عالمین ایسے ہیں جو محض اللّٰہ رب العزت کے علم ہی میں ہیں اور نہ تو کسی آنکھ نے اسے دیکھا نا کسی کان نے ان کے بارے میں کچھ سنا اور کوئی ان کے بارے میں جاننے کی کوشش کرے بھی کیونکر جبکہ رب نے جن امور کی آگاہی عطا فرمائی ہے اسی پرغور و فکر کے لیے ہی یہ زندگی ناکافی ہے۔۔
اس کےاقتدار اورشان کے معترف ہونے کے لیے یہ ہمارے لیے بہت ہونا چاہیے کہ وہ اپنی تمام مخلوقات کو پالنےوالا،کھلانے والا،چلانے والا،نگرانی کرنے والا، مارنے والا اور مرنے کے بعد دوبارہ ژندہ کرنے والا ہے،خواہ وہ اللّٰہ کی ہمارے علم میں ہوں یا پھر نہ ہوں۔۔۔
صدق اللّٰہ العظیم
اس کی رحمانیت و رحیمیت کےمشاہدے سے بارہا ہمارے ظاہر وباطن دونوں کی بصارتیں واقفیت حاصل کرتی رہتی ہیں مگر ان کو پہچاننے،ان کا معترف اورسب سے بڑھ کر ان کاشکر ادا کرنے کا ہرشخص اہل نہیں ہوتا ۔
ہر شخص اللّٰہ رب العالمین کی رحمتوں کے نظاروں کی عکس بندی کرنے کا اہل نہیں ہو پاتا ، نہ ہی اس کی زبان و عمل اسکی بڑائی کے معترف ہوتے ہیں کیونکہ اللّٰہ خود قرآن میں فرماتے ہیں کہ انسان اپنے رب کا بڑا نا شکرا ہےکہ اکثر وہ اپنے اردگرد حتی کہ اپنے وجود میں بے شمار و بیش بہا نعمتوں اوررحمتوں کو دیکھ کر بھی اپنی آنکھیں بند کر لیتا ہے۔
نَعٰوذُ بِااللّٰہِ مِن ذَالِکَ ۔۔۔
"مالک ہےبدلے کے دن کا"
وہ دن جب ہر مظلوم اپنے اوپر ہوئے ظلم کی داستان اپنے رب کو سنائےگااور ہرظالم اپنے ظلم کا پورا پورا بدلہ پالے گاخواہ وہ ظلم اسنے اپنی ذات پر کیا ہو یا کسی دوسرے کی ذات پر کیا ہو خواہ چھپ کر کیا ہو یا اعلانیہ اسے وہ پورا پورا اپنے آنکھوں کے سامنے دیکھ لے گااور رہا دائیں ہاتھ والوں کا بدلہ تو میری دعا ہے کہ ان کے جیسا عظیم الشان استقبال اوران کی جیسی رحمت اللہ مجھےاورآپ کوعطا فرمائیں ۔۔۔
محض اللّٰہ رب العالمین کی عبادت اور اسی سےحاجت روائی کی درخواست درحقیقت دین برحق کا خاصہ ہے ۔۔۔
کیسے ؟؟؟
لفظ عبادت "عبد" سے ماخوذ ہے اور اس کے معنی "غلام" کے ہیں۔۔۔اب جب ہمیں معلوم ہوگیا کہ عبد غلام کو کہتے ہیں توہم اس چیزسے بھی بخوبی واقف ہیں کہ غلام کی اپنی کوئی مرضی نہیں ہوتی ہے۔
اس کا سونا ،جاگنا ،چلنا ،رکنا ،بولنا غرض ہر ہر عمل اس کے مالک کے حکم کے مطابق ہوتا ہے اس کی اپنی مرضی اسے مالک کےعتاب کا شکار کر دیتی ہے ۔۔۔
اسی طرح بلکل اسی طرح جب ہم دن میں پانچ مرتبہ اللّٰہ سے اس کی عبادت کا دعویٰ کرتے ہیں توگویا ہم اسکی غلامی کا دعویٰ کرتے ہیں اور اگر نماز مکمل ہوتے ہی ہم اپنے مالک کی نافرمانیوں میں لگ جائیں تو آخر یہ کیسا دعویٰ ہے؟؟؟
ایسے ہی طرز اعمال کےلیے اللّٰہ رب العزت فرماتے ہیں نا کہ
" اے ایمان والوں تم وہ بات کیوں کہتے ہو جو کرتے نہیں ہو ۔۔۔۔"
اب جب ایک غلام مکمل طور پر اپنے مالک کی غلامی میں ہے تو یہ بات بھی یقینی ہے کہ اس کی تمام حاجت روائی اس کے مالک ہی سے منسلک ہونی چاہیے ۔۔۔ادھر ادھردیکھنا اور کسی اور سے آس لگانا مالک کی ملکیت میں خیانت کےمترادف ہے ۔۔۔
الغرض عملاً ہمارا ایمان تبھی کامل ہوگا جب ہم غلامی کے تقاضے کو پورا کریں گے انشاء اللہ ۔۔۔
اللّٰہُمَّ جَعَلنَا مِنھُم.
قرآن کریم کی ابتدا میں پہلی دعا جوہماری نظروں سے گزرتی ہے، وہ ہے ہدایت اور تقوی کی دعا ، وہ سیدھے راستے کی رہنمائی کی دعا ہے۔ کیوں کہ دنیا کی کسی اورنعمت کی دعا اس قرآن کی پہلی سورۃ میں موجود نہیں یاکیوں صراط مستقیم کے علاوہ کوئی اور دعا ہماری نظروں سےاس قرآن میں پہلی دعا کے طور پرنہیں گزرتی۔ ہم سوچیں گےتو ہمیں معلوم ہوگا تب ہی اس قرآن کے بیش بہا موتیوں کو ہم سمیٹ سکیں گے آیئے تھوڑا سا غور کریں کہ کیوں پہلی دعا اس قران کو کھولتے ہی ہمیں ہدایت اور سیدھے راستے کی رہنمائی کی ملتی ہے۔
اس کی سب سے اہم وجہ جو میری ناقص عقل سمجھ سکی ہے،وہ یہ ہے کہ ہدایت ہی وہ نعمت ہے اور وہ واحد نعمت ہے جو مانگے بغیر نصیب نہیں ہوتی۔ اللہ ہر نعمت بے شمار نعمتیں بغیر طلب کے بغیر درخواست کے ہمیں عطا فرما دیتا ہے لیکن ہدایت وہ نعمت ہے جو اللہ تب تک کسی کو نصیب نہیں فرماتا جب تک وہ خود اس کی چاہت اور دعا نہیں کرتا۔
درحقیقت سیدھےراستےکی طرف رہنمائی اور ہدایت ہی وہ بیش بہا اورعظیم نعمت ہے جو دنیا اور آخرت دونوں کے انعامات کا دروازہ ہے ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ کوئی اگر ہدایت پر نہیں ہےتو اس کے پاس اللہ کی نعمتیں بھی نہیں ہیں ہاں اس کے پاس اللہ کی اور نعمتیں تو ہوں گی لیکن عظیم الشان نعمت جو اللہ کی رضا ہے وہ ہرگز اس کے پاس نہ ہوگی ۔
درحقیقت سیدھے راستے والےپرسب سے بڑاجو اللہ کا انعام ہوتا ہے،اس دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی وہ اللہ کی رضا اور اس کی محبت ہے ،وہ اللہ کا رنگ ہے جو ہر ایک کو نصیب نہیں ہوتا وہ صرف اس کو نصیب ہوتا ہےجو اللہ کے راستے پر اورنبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بتائے ہوئےراستے پر چلتا ہے اورحقیقت تو یہ ہےکہ جب دل صراط مستقیم پر گامزن ہوجاتا ہےتو اس کو اللہ کی رضا اورنبی صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کےسوا کسی اور نعمت کی حاجت اورچاہت بھی باقی نہیں رہتی اوریہی وہ عظیم الشان نعمت ہے جو اس کودنیا اور آخرت دونوں میں ذلت اور رسوائی سے بچاتی ہے اور اس عظیم الشان کامیابی یعنی جنت کی کامیابی سے ہم کنار کرتی ہے۔
اللہ ہمیں ان لوگوں میں شامل فرمائے ۔
کوئی راستہ کوئی منزل فائدہ مند تب ہوتی ہےجب اس پر چلتے ہوئے آس پاس کے نظاروں عارضی فائدوں اور رنگینیوں میں ملوث اورمگن نہ ہوا جائے اور نہ ہی ان کی طرف توجہ دی جائے۔ اگر بندہ اس راستے میں آنےوالی رنگینیوں کو حرف آخر اور انجام سمجھ لےتو جس منزل کے حصول کے لیے اس راستے پرگامزن ہوا ہوتا ہے،اس منزل کو وہ کھودیتا ہے، وہ بھول جاتا ہے کہ وہ اس راستے پر آیا ہی کیوں تھا ۔ اسی طرح جب ہم کہتے ہیں کہ ہمیں سیدھا راستہ دکھا سیدھے راستے پرچلا تو اس کی ایک منزل ہے۔۔۔ وہ ہے صبغت اللہ اور یقینا صبغت اللہ کا انعام جنت ہےاورجنت سے پہلے اس دنیا میں اللہ کی محبت اس کی معرفت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت ہے جو نہ تو ہر ایک کو نصیب ہوتی ہے اور نہ ہی ہر ایک کو اس کی طلب ہوتی ہے ۔ اللّٰہُمَّ جَعَلنَا مِنھُم آمین.
" *مَغضُوبِ"
یہ لفظ غصے اور غضب کے لیےآتا ہے،اس کے معنی ہیں وہ لوگ جن پر اللہ کاعذاب اور غضب نازل ہوا اور ان سے مراد یہود ہیں ۔
یہودی انتہائی ڈھیٹ اور ہٹ دھرم قوم ثابت ہوئی تھی ، ان پر جتنے اللّٰہ کے انعامات ہوئے کسی اور قوم کو اس سے پہلےعطا نہ ہوئے لیکن انہوں نے اللہ کی ہرنعمت کی خلاف ورزی کی یاپھر اپنے مطابق راستے نکال کر حجت کے ساتھ انہیں مانا۔
دوسری طرف وہ مسلمان ہیں جن کے پاس حق پہنچ جاتا ہےلیکن اس پرعمل کرنے کی زحمت نہیں کرتے، وہ اسے دل سے قبول نہیں کرتے۔اسےعمل میں نہیں اتارتے۔ اللّٰہ کے لیے کچھ بھی قربان کرنے پر آمادہ نہیں ہوتے۔ اللہ کے بجائے نفس کی حکم پرکان دھرتے ہیں بلکل اسی طرح جس طرح یہود نےکیا اوراللہ کے غضب اس کی ناراضی اور ذلت و رسوائی کا شکار ہوگئے اور اب تک
ہیں اور ہمیشہ رہیں گے۔ انشاء اللہ ۔۔۔
الضَّالِّینَ
یہ لفظ گمراہی کے لیےآتا ہے ۔ان سے مراد عیسائی ہیں جو گمراہ ہیں اوروہ اس گمراہی سے نکلنے کی کوشش بھی نہیں کرتے ۔۔۔
اسی طرح اس سے مراد وہ وہ مسلمان بھی ہیں جو نہ تو حق سے واقف ہیں اور نہ ہی اسےجاننے کی زحمت اور کوشش کرتے ہیں کہ اس کو عمل میں اتار سکیں ۔۔۔
اللّٰہ ہمیں اپنے غضب سے اور گمراہی سے اپنی پناہ عطا فرمائیں آمین




































