
سنعیہ یعقوب
یکم مئی کی چھٹی کا بنیادی مقصد مزدورطبقےکی زندگیوں میں "یکسانیت ، ترقی،حقوق کی ادائیگی، بہتری، اُجرت کی مقدارکا تعین اورمسائل کا بہترحل ہے۔
دیکھا جائے تو!دنیا کی ساری بہاردراصل ان ہی کےدم سےہے،بلند قامت عمارتیں ہوں ، صاف ستھری سڑکیں ہوں یا دیہات کےسبزہ زارکھیت اوربَل کھاتی ہوئی نہریں ، سب کو ان ہی کے خون پسینہ اورقوت بازو سےغذا ملتی ہے۔ یہ بھی عجیب ستم ظریفی ہے کہ معاشی ترقی اورخوشحالی میں سب سے کم حصہ مزدوروں ہی کو ملتا ہےحالانکہ وہ سب سے زیادہ اس کےحقدارہیں ۔آج بھی جب اہل علم اوربرترطبقہ یوم مزدورمنارہا ہے، مزدور پیشہ لوگ اپنی آج کے دن کی روٹی کمانےمیں مصروف ہیں۔
آپ ﷺ نےحضرت حکیم بن حزامؓ سےارشاد فرمایا:سب سے حلال رزق وہ ہےجس میں دونوں پاؤں چلیں،ہاتھ کام کریں اورپیشانی عرق آلود ہو۔یہ بھی ہدایت دی گئی کہ مزدور کی اُجرت جلد سےجلد ادا کردی جائے۔ آپؐ نے فرمایا : مزدور کی اُجرت پسینہ خشک ہونےسے پہلےدے دو۔
رزق حلال کما کرکھانا بھی ایک عبادت ہے۔ہمیں یہ چاہیےکہ مزدوراورملازمین جو ہمارے ماتحت ہیں ان کی اجرت اتنی ہوکہ وہ اچھا کھا سکیں اورپہن سکیں ۔ ان کی ضروریات با آسانی پوری ہوں ۔انہیں کسی غلط رستےکا انتخاب نہ کرنا پڑے ۔ بے شک مزدور طبقہ کم وسائل کی وجہ سےزیادہ تکلیف برداشت کرتا ہے،جب تک حکومتی سطح پر بہتر پالیسی بن کرلاگو نہیں ہوتی جومزدوروں کے لیے فائدے مند ہو، ہمیں اپنی حد تک ہرممکن کوشش کرنی چاہیےکہ کسی کی حق تلفی نہ ہو ۔ ہم اللّٰہ رب العزت کے سامنے سرخرو ہوں۔




































