
نزہت عثمان/ لاہور
جبر سہہ لیتا ہوں مجبور ہوں میں
میرا مطلب ہے کہ مزدور ہوں میں
" دکھ کیا ہوتا ہےمیرے مقام پر کھڑے ہوجاؤ اور دیکھ لو" دیکھ لو! انسانی حقوق کا راگ الاپنے والےامریکہ میں1886 میں ظلم کی چکی میں پستے ہوئےمزدوروں نے اپنے حقوق کے لئے آواز بلند کرکے اپنےزندہ ہونے کا ثبوت دیا کیونکہ ظلم پرخاموش صرف لاشیں ہواکرتی ہیں،اس صدائےاختجاج بلند کرنے کی پاداش میں حالات کےبے رحم دھارے میں بہنےوالے مزدور اپنی جان سےہاتھ دھو بیٹھے۔
یوم مزدورکی تاریخ سرخ خون سےرقم کرکےتا قیامت تاریح کا ناقابل شکست حصہ بن گئی مگرستم ظریفی لیجئےکہ اپنے حقوق کامطالبہ کرنےوالے مظلوموں کوسزاوارٹھہرانےکی ریت پرانی اک بارپھردہرائی گئی۔ برسوں سرمایہ داروں کی بربریت کا نشانہ بن کر"8 گھنٹے کام اور 8 گھنٹے آرام "پرامن اختجاج کرنے والوں پر فیکٹری میں گھس کر گولیوں کی بوچھاڑ کی گئی جس کے نتیجے میں اختجاج میں مزید اِضافہ ہوا۔ پر امن ریلیوں کا سلسلہ شروع ہوا تو ریلی پرعین اس وقت گولیاں برسائی گئیں، پیٹرول چھڑکا گیا، بم برسائے گئے متعدد شدید زخمی اور سیکنڑوں ہلاک ہوئےاورعین اس وقت قابل ذکرواقعہ یہ ہوا کہ ایک مزدورنے اپنی خون میں ڈوبی قمیض ہوامیں لہرائی جس کی وجہ سے اس دن کو مزدوروں میں سرخ رنگ کی یاد کہ طور کےپر منایا جانے لگا۔
ان ظلم کی چکی میں پستے،فاقہ زدہ مزدوروں کاقصورجائزحقوق کی فراہمی کے جائزتین مطالبات تھے۔
نمبر1 اوقات کار میں کمی لائی جائے
نمبر2 اجرتوں میں اضافی کیا جائے
نمبر 3 تنظیم کا حق دیا جائے
یوم مزدورصرف ایک رسمی تقریب کا دن نہیں ہےبلکہ انصاف کےلئےببانگ دہل کھڑے ہونےکا دن ہے۔یہ محض ایک تہوارنہیں بلکہ محنت کشوں کےخون میں ڈوب کرابھرنے والی ایک تحریک ہےجومسلمانوں کےعلاؤہ غیر مسلم لندن سےلاہوراورواشنگٹن سےشکاگو تک تمام انسان یکساں ہوکرثابت کرتے نظرآتے ہیں ۔امریکہ کے مزدوروں کا خون رائیگاں نہیں جائے گا۔
مزدوروں کےحق پر شب خون مارنے والےہردورمیں مزدروں کی آواز کوکچلنےاوران کا استحصال کرنے کی بھرپورکوشش کرتے رہے۔
ملوں اورفیکٹریوں کا گندہ پانی پینے پرمجبور،مزدوروں سےبیس بیس گھنٹے کام لینا، کسی قسم کی سہولت فراہم نہ کرنا، دروازوں کو کام کے اوقات میں مقفل رکھنا جس کے نتیجے میں بارہا آتش زدگی کے واقعات میں جان سے جانے جیسےانسانیت سوزمظالم کے خلاف کئی بارمحنت کشوں نے آواز اٹھانے کی کوشش کی اوران کی اس کوشش کو دبا دیا گیا جس پر محنت کشوں کے ترجمان کنگ سینئر ایڈووکیٹ شکاگو نے لکھا ہےکہ مزدور سال ہا سال سے غلاموں سے بدتر مصائب برداشت کررہے ہیں انہیں چوبیس گھنٹوں میں 18 سے 20 گھنٹے شدید محنت مشقت کرنی پڑتی ہے ۔
آہ بقول علامہ اقبال
توقادر و عادل ہے مگرتیرے جہاں میں
ہیں تلخ بہت بندہ مزدور کے اوقات
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
" مزدور کو مزدوری پسینہ خشک ہونے سے پہلے دو "
ہمارے معاشرے میں مزدور کا کردارنا صرف جفاکشی کی مثال آپ ہےبلکہ مزدوروں کےبغیرنظام ہائے زندگی مشکل ہےکیونکہ 70 فیصد کاموں کا بوجھ مزدور کے کاندھوں پرہے،لیبر پالیسیوں کےباوجود مزدور طبقہ زبوں حالی کا شکار نظر آرہا ہے۔
فیکٹریوں میں کام کرنے والے افراد کو کئی مسائل کا سامنا ہےجس کے خلاف آواز اٹھانےوالوں کو ڈرا دھمکا کرچپ کرا دیا جاتا ہے۔ سڑکوں کےکنارے ہر روز سینکڑوں مزدورآوازاٹھائےامید کے ٹمٹماتے دیپ جلاکرکام کے لئے منتظر بیٹھے ہوتے ہیں ، کام مل گیا تو ٹھیک ورنہ آج پھر گھرمیں فاقہ کا خوف لرزارہا ہوتا ہے۔اس کے علاؤہ چھوٹے چھوٹے کام کرنے والے مزدوروں کی حالت زارقابل رحم ہے۔اس پر ستزاد مہنگائی کا بے قابو ہوتا جن انہیں مزید پستی اوراذیتوں کے بھنورمیں دھکیل دیتا ہے۔
بھوک کے، پیاس کے خطرات سے ڈر جاتا ہے
مار کے اپنے ہی بچوں کو وہ مر جاتا ہے
ہر طرف اس کی ہی محنت کے مظاہر ہیں
بھوک کے ہاتھ سے مزدور بکھر جاتا ہے




































