
سنعیہ یعقوب
آجکل کے دور کےبڑھتے ہوئے فتنوں میں سےایک نامحرم سے تعلق ہے۔ نا محرم سے گفتگو، دوستی ، ہم آ ہنگی، میل جول ،گھومنا پھرنا، دعوت طعام یہ
سب اس نسل کو برباد کررہا ہے۔ والدین،بہن بھائی اس کو ذرہ برابر برانہیں سمجھتےبلکہ وہ عموماً ایسی محفلوں میں شریک ہوتےہیں ۔
کسی نسل کو تباہ کرنےکو یہ ہی کافی ہے کہ اس میں تباہی پھیلانے والا عمل اس قدرعام ہو جائے کہ وہ کسی کی نظر میں برا ہی نہ رہے،کسی کو عجیب ہی نہ لگے۔
یہ گناہ مسلمان معاشروں میں اتنےعام ہیں کہ اگرکسی خود سےچھوٹے کی زبانی اصلاح بھی کی جائے تو یہ صورت متنازع اختیارکر جاتی ہے۔ نوجوان نسل (ماڈرنزم) جدیدیت کے نام پر کھلےعام "برہنگی ،بے پردگی ،آرائشوں زیبائش ،ناچ گانےجیسےگناہ میں ملوث ہے۔ آپ کسی بھی ادارے کارخ کریں ،زندگی کےکسی بھی پہلو کی طرف نظردوڑائیں توموجودہ مثالیں ہرجانب نظر آئیں گی۔
والدین آسائشوں کی دوڑمیں اولاد کی تربیت سےبلکل غافل ہو چکےہیں ۔وہ کسی کوتربیتی یاحوصلہ افزائی کا درس تودےسکتےہیں،وہ وقت اپنے بچوں کی تربیت اور مشق میں نہیں لگائیں گے۔ والدین بچوں کی پرورش اسلام کے بتائے گئےطریقے پرنہیں کرپاتے۔ پورے معاشرے میں سات سےدس فیصد بچے بھی نہیں ہوں گےجو والدین کے لئےصدقہ جاریہ بنیں۔والدین ، بزرگ اور استاذہ کوچاہیے کہ نوجوان نسل کی اصلاح کریں۔انہیں سکھائیں کہ !
نامحرم نامحرم ہی رہےگا پھر چاہے وہ آپ کا کزن ہو،بہنوئی ہو، نندوئی،خالو ،چاچویاکوئی بھی رشتہ جسےاللّٰہ نے حلال نہیں کیا۔ آپ پریا دوسری جنس کا دوست ہو،منگیترہو،استاد ہو، کوئی عالم ہو،کسی مسجد کا مولوی ہو،تبلیغی جماعت کےساتھ جاتا ہو یا پھرحافظ قرآن ہو۔۔۔ نامحرم ہمیشہ نامحرم ہی رہے گا سوائے ان کےجن کو اللّٰہ رب ذوالجلال نے آپ کا محرم بنا دیاہے ۔
کسی کو دینی حلیہ میں دیکھ کر ان پر نامحرم کے قوانین لاگو کرنا بھول مت جائیں ۔ خود کو بچائیں ان دور کے فتنوں سے ۔اللہ رب ذوالجلال ہم سب کو صحیح راستے پر چلنے اور اس پر قائم رہنے کی توفیق دیں ۔




































