
خالدہ خرم
جیسا کہ آپ سب جانتے ہیں کہ ہماری اس بھیڑ چال والی سوسائٹی سےچاروں طرف سے ایک ہی آواز آرہی ہے۔۔۔۔ عورت کے حقوق عورت کے
حقوق۔
خواتین کوحق نہیں دیا جا رہا۔۔۔۔ خواتین کو آزادی نہیں مل رہی۔۔۔۔۔ اورخواتین کو ظلم کی چکی میں پیسا جا رہا ہے۔۔ خدانخواستہ میں خواتین کے خلاف بات نہیں کر رہی۔۔۔۔ خواتین تو بہت قابل احترام ہستی ہیں۔۔۔۔۔ میں خود بھی خاتون ہوں۔۔۔لیکن سچ یہ ہے کہ اچھائی اوربرائی ہرجگہ پر موجود ہے۔۔۔۔۔
میرا سوال صرف ان خواتین سے ہےجو خود کوبے پردہ کرکےاوربےحجاب ہو کر اپنے حقوق مانگ رہی ہیں۔۔۔۔۔ کیا ان کے شعور میں کہیں بھی اللہ کے احکام، ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ والہ وسلم کےفرمان نہیں۔۔۔۔ کیا انہیں معلوم نہیں کہ اسلام نےعورت کےلیےکیادائرہ کار متعین کیے ہیں۔۔۔۔۔
کیا آج کی عورت وہ وقت بھول گئی،جب زندہ دفنائی جاتی تھی۔۔۔۔ خرید و فروخت ہوتی تھی اورپیرکی جوتی سمجھی جاتی تھی، کیا اسلام نے اس لیے عورت کواس قدر۔۔۔ قدرو قیمت والی منزلیں عطا کی ہیں۔۔۔۔جنہیں رحمت ،نعمت، برکت، جنت جیسے عظیم ترین القاب سے نوازا کہ وہ بغیر حیا اور حجاب کے باہر بازاروں اور سڑکوں پر نظر آئیں ۔۔۔۔۔
اور جس قسم کے ان کے لباس ہوتے ہیں( ان کمپلیٹ) وہ بھی کسی سے ڈھکے چھپے نہیں ہیں۔۔۔۔ اللہ تعالی نے عورت کو خزانے کی مانند کہا ہے اس لیے کہ خزانہ چھپا کر رکھاجاتا ہے۔۔۔۔۔ اسلام نے بالغ عورت کو اپنے ذاتی معاملات میں کافی آزادی دی ہے۔۔۔۔۔ لیکن بالغ مرد کے برابر نہیں مرد کی حیثیت قوام کی ہے۔۔۔۔۔ اور ہمارے دین اور اسلام نے ہی مرد کو یہ حکم دیا ہے کہ چاہے وہ باپ ہو، بھائی ہو، شوہر ہو ۔۔۔۔۔۔ان پر لازم ہے کہ خواتین کےلیے زندگی کی تمام بنیادی سہولتیں ان کو فراہم کی جائیں۔۔۔۔ اور ان کو حدود میں رہتے ہوئے ایسے مواقع فراہم کئے جائیں جس سے وہ اپنی تمام تر صلاحیتوں کو بروئے کارلا سکیں۔۔۔۔ اور اپنی زندگی کوبہتر اور احسن طریقے سے گزار سکیں۔۔۔۔۔
سنن ابھی ماجہ میں ہے کہ" ہر دین کا ایک اخلاق ہوتا ہے اور اسلام کا اخلاق حیا ہے"
صحیح بخاری میں پڑھا" جب تجھ میں حیا نہیں تو جو تیرا جی چاہے کر" تو میری پیاری بہنوں اگرآپ اس بے حیائی اور بے پردگی کو نیا دور نئی صدی سمجھتی ہیں تو یہ سراسر بے وقوفی ہے۔۔۔۔۔ یہی جہالت ہے۔۔۔۔۔ کیونکہ جہالت کے دور میں ہی تو اللہ کی طرف سے ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو یہ وحی آئی تھی کہ "تمام عورتیں اپنے اوپر اوڑھنیاں ڈال لیں"
پیاری بہنوں آپ جسےنئی صدی نیا دورسمجھتی ہیں وہ تواسلام سے پہلےکا دورہےوہی تو جہالت کا دورتھا، وہ شرم وحیا سے بےگانگی کا دور تھا ،اسلام سے پہلےکا دوریہی بے حیائی کادور تو تھا۔۔۔۔۔
بہنوں ہم آگے نہیں پیچھےجا رہےہیں ۔میری باتوں پرغور ضرورکیجئے گا۔۔
اندازِ بیان اگرچہ میرا کچھ شوخ نہیں
شاید کہ تیرے دل میں اترجائے میری بات




































