
رملہ کامران
لہو میں بھیگے تمام موسم
گواہی دیں گے کہ تم کھڑے تھے
داداسرا گاؤں میں ایک اورصبح طلوع ہوئی، ظلم و ستم کی ایک اوررات بیت گئی تھی...اسی غلامی کی زنجیروں میں جگڑے ایک اور دن کا آغاز ہو چکا تھا.. وسیع و عریض آسمان ، سبز ہرے بھرے باغات اور اطراف میں بڑے بڑے پہاڑ اپنے اندر نجانے کتنی شہیدوں کی داستانیں سمیٹے اسی جاہ و جلال سے کھڑے تھے۔ ہر سو خاموشی تھی ایسے میں ایک عجیب سی بو ہر طرف پھیلی تھی، ایسی بو جیسے وہ اس ماحول میں رچ بس گئی ہو۔ جیسے اس ماحول میں رہنے والے لوگ اس کے عادی ہوں۔ قابض فوج نے آج بھی سڑکیں بند کر رکھیں تھیں۔ ہر طرف سپاہی چوکنا کھڑے تھے، ہر طرف دھواں ہی دھواں پھیلا تھا، کچھ فاصلے پر ایک دو منزلہ خوبصورت سا گھر موجود تھا۔ البتہ دھویں کےباعث اب اس کی خوبصورتی ماند پڑ گئی تھی..اردگرد درختوں میں گھرا وہ گھر جو کہ عظیم کارناموں کا مرکز بننے جا رہا تھا،
نہ نجانے کیوں لیکن اس ظلم و ستم اور سفاکیت کے درمیان بھی موسم نہایت خوش گوار معلوم ہوتا تھا. اندر جاؤ تو بائیں طرف کشمیری طرز پہ بنایا گیا ایک خوبصورت سا کمرہ تھا،سامنے پلنگ پہ خاتون لیٹی تھیں اور ساتھ ہی ایک شخص اپنی بانہوں میں ننھا سا پیارا سا بچہ لیے ہوئے کان میں اذان دے رہا تھا۔
زندگی تھوڑی سی اور آگے بڑھی۔۔
وہ بچہ جو کہ اب نوجوانی کی عمر کو پہنچ گیا تھا، اپنے کمرے میں ادھر سے ادھرچکر لگائے جارہا تھا، پریشانی اس کے چہرے سے عیاں تھی.۔ سفید رنگ کی گول گلے والی شرٹ پہنے ، کلائی پہ گھڑی باندھے یوں لگتا تھا جیسے وہ ابھی ابھی آیا ہو۔
وہ دکھنے میں خوش شکل سا محنتی نوجوان معلوم ہوتا تھا، کرکٹ سےگہرا لگاؤ رکھنے کے باجود کرکٹ کو اپنا مقصد کبھی نہ بنایا بلکہ وہ ابھی دسویں جماعت کا طالب علم تھا اور کافی ہونہار طلبہ میں شمار کیا جاتا تھااور اس بار پہلی مرتبہ بورڈ کے امتحانات دے رہا تھابورڈ کے امتحانات سے قریباً دس دن پہلے کی بات ہے........چکر لگاتے لگاتے کچھ دنوں پہلے کا منظر اسکی آنکھوں کے سامنے گھوم سا گیا، جب وہ، اس کا بھائی خالد اور اس کا دوست موٹر سائیکل پر جارہے تھے کہ راستے میں ہندو سپاہیوں نے انہیں روک لیا،
ان سے تمام چیزیں چھین لی گئیں اور انہیں تشدد کا نشانہ بنایا جس کی وجہ سے اس کا بھائی ابھی تک بسترپہ موجود تھا، ڈاکٹرز کے مطابق وہ کچھ مہینوں تک بلکل بھی چلنے پھرنے کے قابل نہ تھا اور یہ منظر انتہا سے زیادہ تکلیف دہ تھا۔ وہ اسکو قبول نہیں کر پارہا تھااور آج صبح اسے اپنے دوست کی پیش کش یاد آئی۔ جب وہ بولا تھا کہ چل یار ہم بھی کسی آزادی کی تحریک میں شامل ہوکےان کے خلاف لڑتے ہیں، انہیں سبق سکھاتے ہیں، انکے غرور کو مٹی میں ملاتے ہیں۔ اس کے دو کزنز پہلے سےاس تحریک کا حصہ تھے، لیکن وہ جانتا تھا کہ اس کے والد کبھی اسے اجازت نہ دیں گے۔وہ ایک فیصلے پہ نہیں پہنچ پا رہا تھا، یا تو اپنے بھائی کا بدلہ لے اور گھر چھوڑ دے، اپنی پڑھائی سے دستبردار ہو جائے، اپنے خوابوں کا گلا گھونٹ دے یا تو اسی غلامی کی زندگی میں خود کو ختم کر ڈالے لیکن گھر میں رہے اپنے گھر والوں کے ساتھ کچھ دیر تک وہ ادھر سے ادھر چکر لگاتا رہا، لگاتا رہا اور پھر وہ ایک فیصلے پہ پہنچ گیا، آنکھوں میں ایک عزم تھا، ایک جذبہ تھا۔اپنے بھائی کا بدلہ لینے کا، موت کو خوش آمدید کہنے کا اور گھر کو الوداع کہنے کا۔۔




































