
صبااحمد
وہ یاد گار دن جس دن پاکستان پہلی اسلامی ایٹمی پاور بنا بے یشک اللہ تعالی کا کرم اور سائنسدان قدیر خان کی ٹیم کے ساتھ کوششیں اور محنت
رنگ لائیں، اب وہ اس دنیا میں نہیں مگر ان کا نام اور کارنامہ ہمیشہ اس دن کی طرح زندہ وجاوداں رہے گا ۔
28 مئی1998 قیام پاکستان 14 اگست کی طرح ہماری آزادی وخود مختاری کی ضمانت بنا کیونکہ بھارت ہماراازلی دشمن ہے وہ پہلے ایٹمی پاور بنا اور یہ پاکستان کی سلامتی کے لیے بہت بڑا خطرہ تھا اور اس خطے کی بھی کیونکہ بھارت سپر پاور رہنا چاہتا ہے ، بر اعظم ایشیا میں چین اور پاکستان اس کے دشمن ہیں بقول بھارت کے۔
وہ دن یاد گار تھا جب خبروں میں کامیاب ایٹمی دھماکے کی خبرسنی خوشی کے ساتھ پریشانی یہ تھی کے اب امریکہ پاکستان پراقتصادی پابندیاں لگائے گا مگر عوام اس کے لیے تیار تھی ۔۔پچس برس گزر گئے ایٹمی طاقت بنے ہوئے عوام غربت کی چکی میں پس رہے ہیں۔
آئی ایم ایف کے قرضے حکمرانوں نے لیے ملک کوئی ترقی نہیں کر رہا، امریکی ماہرین اقتصادیات کے بیانات ہیں کہ جب پاکستان نے ایٹمی دھماکہ کیا تب سے اس پر ہماری کڑی نظر ہے ،یہ ہمیں کڑی شرائط پر قرضہ دیتے ہیں ۔ہماری حکومت قرض لیتی ہی کیوں ہے ۔انہوں نے مغربی ممالک میں اتنی اپنی جائیدادیں کہاں سے بنائیں نیب تحقیق کرے ۔
قدیر خان صاحب نے یرغمال بن کر زندگی گزاری ۔ پاکستان کو ایٹمی پاور بنا یا مگر یہ ایٹم بم جوں کا توں پڑا ہے کہ
جب دنیا کے مسلمان تکلیف میں ہوتے ہیں، یہ کسی کے کام نہیں آتا بوسنیا کی آزادی کے بعد پاکستانی فوج اپنے مشکل میں گھرے بہن بھائیوں کی مدد نہیں کر سکتا ۔ مغرب نے ہمارے ہاتھ پاؤں باندھ دیے ہیں ۔
اس وقت فلسطین اور کشمیر یرغمالی کی سے زندگی گزار رہے ہیں۔57 اسلامی ممالک ان کے لیےآواز نہیں اٹھا سکتے ۔۔۔چھ ماہ سےغزہ پر اسرائیل امریکہ اور اتحادیوں کی مدد سے اس پر کئی ٹن بمباری کر چکا ہے ۔سلفر بم 40ہزار سے زائد بچے شہید ہوچکے ہیں۔
مسلم ممالک اور سعودی عرب کے شاہ سلمان نے دنیا بھر میں شرمندہ کردیا ،شراب خانے کسیونا کھول کر قمار بازی فحاشی ،نائٹ کلب کھول کر حج عمرے پر ہزاروں مسلمان روزانہ آتے ہیں ۔ وہ کمائی کم ہے کہ برے کاموں کے اڈے کھول کر زر مبادلہ کما رہے ہیں۔
اس وقت فلسطین کی آزادی اور مسجد اقصی قبلہ اول کی بازیابی ہر مسلم ملک کا فرض عین ہے، ہم دنیا کے سامنے اسلحے کی نمائش تو کرتے ہیں مگر مسلمانوں کی آزمائش اور مشکل میں کام نہیں آتے۔ قائد اعظم پاکستان کو اسلام کا قلعہ بنانا چاہتے تھے ۔وہ پاکستان کو ایسی تجربہ گاہ بنانا چاہتے تھے جہاں اسلام قرآن وسنت کے سنہرے اصولوں کو نافذ کیا جانا تھا ۔قرآن کاآئین ودستور نافذ کرنا تھا ۔افسوس پچھتر برس بیت گئے وہ خواب پورا نہ ہوسکا ."تمام مسلمان آپس بھائی بھائی ہیں، جسد واحد کی مانند ہیں ،جسم کے ایک حصے میں زخم ہو تو تکلیف سارے جسم میں ہوتی ہے ۔"
تو مسلمان خود غرض ہوگئےہیں، ناروے لندن ساؤتھ افریقہ امریکا کی عوام حکومت کے خلاف جاکر انسانیت کے لیے ان کی آزادی کے نعرے لگا رہے ہیں۔ جنگ بندی کا مطالبہ کر رہے ہیں ۔فلسطین میں بھوکے پیاسے لوگوں کی مدد کر رہے ہیں ۔ہم مسلم ممالک اک زبان ہوکر جنگ بندی کا مطالبہ نہیں کر رہے۔ سفارتی تعلقات منقطع نہیں کر رہے ۔کیوں ۔۔۔۔۔۔۔!
ہم خاموش تماشائی بنے بیٹھے ہیں ۔وہ فلسطینی ہماری راہ تک رہے ہیں۔ وہ اللہ کی غیبی مدد پر یقین رکھتے ہیں مگر مسلم ممالک سے مایوس ہیں ان کا بچہ بچہ مجاہد ہے ۔تو روز قیامت یہ ایٹمی پاور اللہ تعالی کو کیا جواب دیں گے ۔ جب وہاں کے بچے اللہ تعالی کو بتائیں گے ہمارا قتل عام ہوا یہ لوگ ہماری مدد کو نہ آئے آواز نہیں اٹھائی۔




































