
مسرت جبیں/لاہور
اک کھلبلی سی مچ گئی ہے ۔۔؟
کچھ انہونی سی لگتی ہے ۔؟
تہلکہ سا مچا ہوا ہے پوری دنیا میں ۔۔؟
سب ایک دوسرے سے اس خبر کی تصدیق کے لیے بے چین ہیں اور وطن عزیزپاکستان کی فضاؤں میں اللّٰہ اکبر ۔ نعرہ تکبیر کی صدائیں بلند ہو رہی ہیں،جب کہ دشمن ممالک میں بے یقینی کے ساتھ حیرت اور غم وغصہ کا طوفان برپا ہے۔ یہ کیسے ہو گیا ۔؟28مئی1998ء کو پاکستان میں فضا اللّٰہ کبیر و قدیر کا نعرہ تکبیر گونج اٹھا ۔اور دنیا نے دیکھا کہ لا الہ الااللہ کے نام پر وجود میں آنے والی وہ قوم جسے روز اؤل ہی سے دشمن پاکستان دشمن اسلام مٹا دینے کے خواب دیکھ رہے تھے ۔
جس کی بنیادوں کو کمزور کر دینے کے ارمان پال رہے تھےجس کو غفلت اورعیش پرستی کے جام پلائے جا رہے تھے ۔اسی قوم نے ایٹمی دھماکہ کر کے پہلی اسلامی ایٹمی ریاست ہونے کا اعلان کر دیا ۔ الحمدللہ ، اس اعلان نے پورے عالمِ اسلام میں امیدوں کے چراغ روشن کر دیئے ۔عالم اسلام کا سر فخر سے بلند ہو گیا ۔ پوری دنیا کی نظریں پاکستان کی طرف اٹھ گئیں ۔ بہت ساری امیدیں بندھ گئی ۔
الحمدللہ زندہ قومیں اپنی بقاء کی حفاظت خوب جانتی ہیں ،جس قوم کے سینے میں نور قرآن ہو اس کی بنیادوں میں شہدائے اسلام کا لہو ہو وہ قوم کبھی مرتی نہیں ۔خواہ دشمن اس پہ لاکھ غفلت کے پردے پڑے دیکھ رہا ہو ۔ اس خبر نے میرے اندر بہت سے دریچے کھول دیئے ہیں ۔ ماضی وحال کے کئی ادوار نظروں سے گزر گئے ۔ سوچ رہی ہوں کہ ہم بہت مضبوط ہیں یا پھر شائد کمزور ترین ۔؟
اپنے معاشرے اپنی قوم کو بہت کمزور ڈوبتی ہوئی لہروں میں ہچکولے کھاتا دیکھ رہی ہوں لیکن نہیں میرے اندر میری طاقت ، میرا وجدان چیخ چیخ کر پکار رہا ہے کہ ہم کمزور نہیں ۔ہمیں کمزور نہیں ہونا ؟ کبھی نہیں ، اور دل کی اتھاہ گہرائیوں سے اٹھتی ہوئی کمزور صدا ہمیں وہ طاقت دے رہی ہے جو کفر کے طوفانوں سے ٹکرا جائے گی ۔ جو کفر کی سنگلاخ چٹانوں کو ریزہ ریزہ کر دے گی ۔آج ہم کمزور تنکوں کی طرح کفر کی تیز آندھی کے سامنے دنیا کے صحرا میں بکھرے پڑے ہیں جن کی کوئی وقعت نہیں ،کوئی قدر نہیں ، آج دشمن ہمیں کمزور جان کر بھوکے درندوں کی طرح ہم پر ٹوٹے پڑتے ہیں ۔
کیوں۔۔۔۔؟
رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا ،،عنقریب غیر مسلم قومیں تمہاری سرکوبی کے لیے ایک دوسرے کو بلائیں گی اور دھاوا بول دیں گی جیسا کہ بہت سے کھانے والے افراد ایک دوسرے کو بلا کر دستر خوان پر ٹوٹ پڑتے ہیں ۔
عرض کی گئی حضور صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی اس وقت ہماری تعداد تھوڑی ہو گی؟آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نےفرمایا نہیں بلکہ اس وقت تم تعداد میں کثیر ہو گے لیکن تمہاری حثیت سیلاب کے کوڑا کرکٹ اور جھاگ سے زیادہ نہ ہو گی ۔ اللہ کا فیصلہ ہو گا کہ دشمن کے دلوں سے تمہارا رعب ختم ہو جائے گا اور تمہارے دل وہن کا شکار ہو جائیں گے ،کسی نے پوچھا رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم وہن کسے کہتے ہیں آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا دنیا سے محبت اور موت سے نفرت۔ سنن ابو داؤد
اس حدیث مبارکہ کے تناظر میں ہمیں خود کو دیکھنا ہے ؟ جس دن سے پاکستان ایٹمی طاقت بنا تب سے دشمن نے اس کو کمزور تر بنانے کے لیے اپنی تمام قوتیں ،اپنی سب ہی چالیں ، اپنا ہر حربہ آزمایا ۔ گویا وہ تو پاکستان کا نقشہ ہی دنیا سے ،، اللہ نہ کرے ،، مٹا دیں مگر شائد دشمن کو خبر نہیں پھونکوں سے یہ چراغ بجھا نہ جائے گا ۔
فرمان قائد رح ہے ،، پاکستان قائم رہنے کے لیے بنا ہے اور قیامت تک قائم رہے گا ۔ان شاءاللہ ۔
سید ابوالاعلی مودودی رحمہ اللہ نے فرمایا کہ ،، یہ ملک ہمارے لیے مسجد کی حیثیت رکھتا ہے اور اس کے ایک ایک انچ کا دفاع ہم اپنا فرض سمجھتے ہیں مگر اج ہم خاموش تماشائی بنے ،اپنی ہی بربادی ،اپنی ہی موت کا جنازہ اٹھتے کیوں دیکھ رہے ہیں ؟
افسوس صد افسوس کہ شاہیں نہ بنا تو
دیکھے نہ تیری آنکھ نے فطرت کے اشارات
تقدیر کے قاضی کا یہ فتویٰ ہے ازل سے
ہے جرم ضعیفی کی سزا مرگ مفاجات
ہم االلہ سے دور ہوئے ،قران کو بھول گئے ، سنت رسول صلی اللّٰہ علیہ وسلم پر عمل پیرا ہونے کو دقیانوسی جان لیا ۔ ہمارے آبا کیا تھے ؟ اور ہم کیا ہیں ؟ تاریخ گواہ ہے کہ جب تک سینوں میں قرآن کا نور تھا تو تین سو تیرہ صاحب قرآن نے کفار کو کاری ضرب لگائی ۔ یہی ایمان کی قوت جب 1965ء کو کفر سے ٹکراتی تو پھر بے خبری میں کیے گئے ،بھارت کے دیو ہیکل ،کوہ شکن ٹینکوں ،دھاڑتئ شعلے اگلتی توپوں کو عضو معطل بنا دیا ۔ وہ جو پاکستان کے دل لاہور میں ناشتہ کے خواب دیکھ رہے تھے ۔ ان کو ان کے گھر میں اندد تک شکست سے دوچار کر دیا ۔قرآن ہی تو حوصلے بڑھا رہا ہے ۔
ولاتھنوا ولا تعزنوا وانتم الاعلون ان کنتم مؤمنین
سورۃ العمران ۔ایت 139.
اور نہ تم غم کھاؤ اور نہ سستی کرؤ تم ہی غالب ہو اگر تم مومن ہو ۔
شرط یہ ہے ان کنتم مؤمنین ؟ ایمان کامل ہی تو کامیابی کی دلیل ہے ۔ یہ نہیں ہو سکتا کہ مومن مغلوب ہو ؟
اسی ایمان کامل کے ساتھ عرب کی کمزور جاہل قوم چند مختصر سی جماعت جب کلمۃ اللہ بلندکرنے نکلی تو تاریخ نے رقم کیا کہ قیصری وکسریٰ پر اسلام کا پرچم چھا گیا ۔ دور کی بات کہاں ؟ کل ہی تو انگریز راج اور ہندوؤں کی مکاریاں جذبہ ایمانی کے سامنے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہو گئیں اور وطن عزیز کی صورت اسلامی ریاست کا سورج طلوع ہوا ۔ یہ سب کیسے اور کیوں کر ممکن ہو پایا تھا ۔ ہمیں یاد رکھنا ہے اور نسل نو کو یاد کرانا ہے کہ تحریک پاکستان ان کنتم مؤمنین ۔ کی تفسیر بن کر اٹھی تھی ۔پھر کیوں نہ کامیابی اس کے قدم چومتی ۔؟
آج ہمیں خود کو مضبوط بنانا ہے تو جذبہ جہاد کو زندگی دینا ہو گی ۔ یہی وہ روح ہے جو قوموں کی تقدیر بدل دیتی ہے ۔ ہم تو وہ تھے کہ
دو نیم ان کی ٹھوکر سے صحرا و دریا
سمٹ کر پہاڑ ان کی ہیبت سے رائی
آج ہم پہاڑ سے رائی ہو گئے ۔اج طاغوتی قوتیں ہمیں اوج ثریا کے خواب دکھا رہی ہیں ۔ اکیسویں صدی کے تقاضے اور روشن خیالی کے نام پر بے حیائی کو فروغ دیا جا رہا ہے ۔ بے حیائی کا عفریت میری نسل نو کو نگل رہا ہے ۔ بےحیائی نہ صرف روحانی بلکہ جسمانی قوت کو بھی کھا جاتی ہے اور یہی دشمن کا حدف ہے ۔اس خواب کی تعبیر بہت بھیانک ہے ۔مغربی طاقتیں گمراہی وذلالت کی بند گلی میں ہمیں قید کر دینا چاہتی ہیں ۔ یاد رکھیں فطرت سے دوری، جدیدیت کے فریب ،اغیار کی اندھی تقلید گہری کھائی میں گرا دے گی ۔
اللّٰہ سے مفر االلہ کی گرفت سے بچا نہیں سکتا ؟
پاکستان قائم رکھنے کے لیے مضبوط بنانے کے لیے اہل پاکستان کو نواجوان کو ریشمی قالینوں ،ایرانی صوفوں کو بھولنا ہو گا ۔ تن آسانی ،عیش پرستی ، کھاؤ پیو ،موج مستی کے نظریہ کو دل و دماغ سے کھرچنا ہو گا ۔
اپنی جغرافیائی سرحدوں کے ساتھ نظریاتی سرحدوں کی حفاظت نظریہ اسلام ،نظریہ پاکستان کو تقویت دینا ہے ۔نظریہ زندہ ہو تو سرحدوں میں شگاف نہیں پڑتے ۔ اپنی نسلوں کو تاریخ سے نظریہ پاکستان سے جوڑنے کی ضرورت ہے ۔۔ہمارا دشمن اب فوجیں سرحدوں پہ جمع نہیں کر رہا بلکہ وہ نظریاتی جنگ لڑ رہا ہے ۔ اب یہ جنگ میرے اور آپ کے دروازوں تک آ چکی ۔ ہمارے معصوم بچوں کے اذھان مغلوب ہو چکے ۔
دشمن اپنی چالیں کامیاب کرتا جارہا ہے ۔اک ہم ہیں کہ خود اپنے ھاتھوں اپنی تباہی کا سامان کر رہے ہیں ۔ اب جیسی جنگ ویسا ہی جوابی وار کرنا ہے ۔کسی قوم کی سرحدوں کی حفاظت ایک کہنہ مشق فوجی کرنا جانتا ہے تو اسی قوم کے اندر نظریہ کی آبیاری کے لیے اساتذہ ،والدین اور لکھاری اپنی قلم کی سیاہی سے قوم کی سیاہ ہوتی بدبختی کو خوش بختی میں بدلنے کا ہنر بھی رکھتے ہیں ۔
آج میڈیا کا دور ہے ۔ اور میڈیا پہ طاغوتی یلغار بہت بھیانک اور تیز تر ہے ۔ وطن عزیز کا خواب دیکھنے والے شاعر مشرق علامہ اقبال رحمتہ اللہ کی ریاضت اگر اسلامی ریاست کے خواب کو پورا کرنے میں معاون بن سکتی ہے۔ تو پھر اسی قوم کے شاہینوں کو نئی پرواز دینا ہے ۔ نسل نو کو لہو ولعب میں مستغرق ہونے سے بچانا ہے ۔ تب ہی ایٹمی ریاست اپنی ایٹمی طاقت کو بحال رکھ سکتی ہے
اقبال ہی تو جوانو کو سبق دے گئے ۔
کوئی اندازہ کر سکتا ہے اس کے زور بازو کا
نگاہ مرد مومن سے بدل جاتی ہیں تقدیریں
جب کسی قوم کا نظریہ مٹنے لگے تو اساتذہ ۔ قلم کار ہی اپنے لفظوں کے جادو سے صور اسرافیل ثابت ہوتے ہیں ۔ آج ذرائع ابلاغ کا وسیع میدان ہیں ۔ جہاں دشمن قوتیں گند جمع کر کے جوانو کی کردار کشی کر رہیں ہیں ۔وھاں اہل بصیرت کو اہل قلم کو اسوہ حسنہ کی سیرت سے قوم میں بیدار مغزی پیدا کر کے انقلاب لا سکتے ہیں ۔ اپنے اسلاف کے نقش پا پہ چلا کر ایک بار پھر تاریخ کو دھرایا جائے ۔
اے پیارے ہم وطنو ۔ آو اپنا احتساب خود کریں ۔
جب عزائم پختہ ہوں تو دشمن کے قدم اکھڑ جاتے ہیں ۔ہمیں یقین کامل ،ایمان کامل کے ساتھ دشمن کے ہر حربے ،ہر چال کے سامنے چٹان بن کر کھڑے ہونا ہے ۔ایسی چٹان جس سے دشمن سر پھوڑ پھوڑ کر خود ہیں ہلاک ہو جائے ۔مگر ہمارے عزائم کو کمزور نہ کر سکے ۔ہماری صفوں کو نہ توڑ سکے ۔
اپنی ایٹمی طاقت کی لاج رکھیں ۔ یاد رکھیں محض ایٹمی طاقت ہونا کافی نہیں ۔ہاں سامان حرب بھی ضروری ہے ۔جدید ٹیکنالوجی میں مزید ترقی وقت کی اشد ضرورت ہے مگر یہ طاقت یہ ترقی جذبہ ایمانی کے بغیر بے روح ہے ۔
کافر ہے تو شمشیر پہ کرتا ہے بھروسہ
مومن ہے تو بے تیغ بھی لڑتا ہے سپاہی
آج ضرورت ہے کہ خود غرضی ،نفسا نفسی ، عداوت دشمنی کو بھول کر اخوت ،اتحاد و اتفاق کا دامن تھام لیں ، کالی بھیڑیں ہمارے درمیان گھس کر تفرقات پیدا کر رہیں ہیں ۔ تفرقات ہی ہماری ہوا اکھاڑ رہے ہیں ۔ ہمیں کمزور بنا رہے ہیں ۔ دشمن کی دشمنی پہ کڑی نگاہ رکھنی ہے۔ اتنا شعور تو قوم کو دینا ہے کہ دوست دشمن کی پہچان ہو۔ اپنے ذاتی مفاد کو پش پشت ڈال کر اجتماعی مفاد کو مقدم رکھنا ہے ۔ قوم کی بقاء وسلامتی ،نظریہ کی بقاء وسلامتی ہمارا نصب العین ہونا چاہیے ۔ بے حیائئ ،فحاشی،عیش پرستی جیسی لعنت ہماری نسلوں کی جڑیں کاٹ رہی ہے ۔ اس کو خلوص دل سے جڑ سے اکھاڑنا ہے ۔
جب تک اسلامی ریاست میں نظام شریعت نفاذ نہیں ہوتا اس وقت تک ایٹمی قوت قوت نہیں رہتی ۔اج ضرورت ہے قوم کا ہر فرد اپنا حصہ ڈالے ۔ہر فرد ہر قسم کے حالات میں اپنی اپنی نوعیت طاقت اپنی صلاحیت اس وطن عزیز کو مکمل اسلامی ریاست بنانے میں لگا دے ۔
افراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر
ہر فرد ہے ملت کے مقدر کا ستارہ
قوم کے ساتھ ارباب اقتدار کو بھی خود احتسابی کے عمل سے گزر کر سنت خلفاء راشدین رضوان اللّٰہ اجمعین کو اپنانا ہوگا ۔آؤ اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام کر دنیا کی تمام چالوں کا رخ موڑ دیں اور وطن عزیز کو خواب اقبال وقائد کی سچی تعبیر دیں ۔ہم ایٹمی طاقت ہیں ۔پھر کیوں مغلوب ہوں ؟ دشمن ہم پہ کیوں حاوی ہو ؟یہ تیرا پاکستان ہے یہ میرا پاکستان ہے تجھے سوچنا ہے ؟ مجھے سوچنا ہے ؟ تیرا گھر ہے ۔میرا گھر ہے ؟ اپنے گھروں میں لگی آگ کون بجھانے گا ؟ اللّٰہ رب العزت نے ہمیں ایٹمی قوت دے کر عزت و توقیر دی ہے ۔ تو ہمیں بھی نعمت کی قدر کرنی ہے کیا ؟جب ہم ایٹمی قوت کے ساتھ ساتھ ایمانی قوت کا ہتھیار اٹھا لیں تو کوئی دشمن ہمارے خلاف جارحانہ عزائم رکھنے کا حوصلہ کیسے کر سکتا ہے ؟




































