
انیہہ ماہین
اللہ تعالی نےمسلم ممالک کو خاص رحمتوں سےنوازا ہے پاکستان کوبھی اللہ تعالی نےان گنت نعمتیں عطا کی ہیں اللہ تعالی نے ہمارے درمیان
اپنے نیک اور خالص بندے ڈالے ہیں جو اپنی کوششوں سے ملک اور اسلام کا نام روشن کرتے ہیں
یوم تکبیر 28 مئی مسلمانوں اور پاکستانیوں کے لیے خاص دن اس دن پاکستان ایٹمی طاقت بنا یہ دنیا کا ساتواں مسلم ممالک کا پہلا ایٹمی طاقت رکھنے والا ملک ہے ۔
پاکستان جب ہندوستان سے 1947 میں الگ ہوا اس کے بعد ہندوستان سکون سےنہ بیٹھا اور 1965 اور 1971 کی جنگیں لڑی گئی ہیں مسلمانوں کے عظیم حوصلے کو دیکھ کر بھارت نے اپنا خوف بٹھانے کے لیے ایٹمی طاقت دکھائی بھارت نے ایٹمی طاقت کا زور پاکستان کو دکھانے کے لیے 1974 میں اپنے غیر اباد علاقے میں ایٹمی بم دھماکے کیے
نہ اگنی نہ پھرتوی نا ترشول سے ڈرا اے کافر
نہ زمین زمین رہے گی نہ اسماں اسماں رہے گا
مشرقی پاکستان کہ علیحدگی اور جنگ کے بعد پاکستان غم اور سوگ کی حالت میں مبتلا تھے ایٹمی طاقت رکھنے والے ملک کو جواب دینے کی ہمت نہیں رکھتے تھے۔ان حالات کو دیکھتے ہوئے ایک محب وطن پاکستانی ڈاکٹر عبدالقدیر خان جو اس وقت ایک ایٹمی پلانٹ پہ ہالینڈ پہ کام کر رہے تھے انہوں نے اپنے اپ کو رضاکارانہ طور پر حکومت پاکستان کو پیش کیا کہ وہ ملک کو ایٹمی طاقت بنائیں گے تقریبا
10 سال کے عرصے میں( 1976 سے 1986) پاکستان کو ایٹمی طاقت بنایا (ماشاءاللّٰه)
باطل سے دبنے والے اے اسماں نہیں ہم
سو بار کر چکا ہے تو امتحان ہمارا
پاکستان کا ایٹمی طاقت بننا تھا کہ دنیا بھر کے مسلمانوں کا سر فخرسے بلند ہو گیا اور سارےممالک جشن منانے لگے,مسلم ممالک جہاں خوش تھے وہیں غیر مسلم ممالک اور دشمنان اسلام رنج و غم اور غصے کی حالت میں رہے ،ایٹمی طاقت بنتے وقت یعنی عزت سال کے عرصے میں امریکہ اور بہت سے مالک کی طرف سےپیسے اور قیمتی چیزوں کا لالچ دیا گیا تاکہ ایک مسلم ملک کی قوت حاصل کر سکے۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو رسوا کیا گیا اور بدنام کیا گیا اتنی بڑی قوت حاصل کرنے کے بعد بھی پاکستان طاقتور ملک میں نہیں اتا؟
پاکستان اور دوسرے مسلم مالک شروع سے ہی اپنے مقصد کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں جس کی ایک بڑی مثال آزادی پاکستان کا تاریخی واقعہ ہے۔ اگر اس وقت جدوجہد نہ کی جاتی تو ہم ملک پاکستان حاصل نہیں کر سکتے تھے، ہمیں اب بھی اپنے ابا جیسی جوش جذبے اور ہمت کی ضرورت ہے۔ اسی وجہ سے ہم نے پہلے بھی بہت سی مہمات سر کی ہیں اور اگر ہم متحد ہو جائیں تو آگے بھی کامیابیاں حاصل کر سکتے ہیں۔ غیر مسلم ممالک اس بات سے ہی خوف کھاتے ہیں کہ اگر مسلمان متحد ہو گئے تو ہمیں ختم ہونے میں دیر نہیں لگے گی۔ ہمیں آج کے دور میں بھی صرف اتحاد تنظیم اور ہمت کی ضرورت ہے ،پھر ہم اپنے اللہ کی طرف فتح حاصل کر سکیں گے۔ اگر ہم ہمت اور حوصلے سے رکھیں تو اللہ تو ہر میدان میں ہماری مدد کرتے ہیں اورپھر ہم فلسطین کو بھی فتح کریں گے اور انشاءاللہ مسجد اقصی میں نماز بھی پڑھیں گے۔
توحید کی امانت سینوں میں ہے ہمارے
آسان نہیں مٹانا نام و نشاں ہمارا
شکریہ




































