
مسفرہ
اٹھائیس مئی 1998ء، تاریخ اسلام میں سنہرے حروف سےلکھا جانے والاواقعہ جس سےعالم اسلام کا سرفخرسےبلند ہوگیا۔14 اگست 1947ء کی آزادی، 6 ستمبر 1965ء کی
جنگ اور کئی واقعات کے بعد 28 مئی 1998ء کو ہونے والے واقعے نے دشمنان اسلام کو خاموش کردیا اور اس بات کی دلیل دی کہ
اسلام زمانے میں دبنے کو نہیں آیا ۔
تاریخ سے یہ مضمون ہم تم کو دکھائیں گے
اسلام کی فطرت میں قدرت نےلچک دی ہے
اتنا ہی ابھرے گا جتنا کہ دباؤ گے
اٹھائیس مئی کے دن محسن پاکستان، فخر پاکستان ڈاکٹرعبد القدیرخان نےاس ملک کے دفاع کو مضبوط بنانےکےلیےاور مستقبل میں عالم اسلام کو کوئی بھی دفاعی مسئلہ پیش آنے پر ایٹم بم جیسے جدید اسلحے سےپاکستان کو دنیا کے سامنے قابل احترام بنایا مگر کہانی کا دوسرا رخ بھی اگر دیکھا جائے تو پاکستان نے آج تک کبھی بھی اس اسلحے کو نہ تو اپنی دفاع کے لیے اور نہ مسلم دنیا میں موجود مسلم ممالک پرہونے والے ظلم کے خلاف استعمال کیا۔
دنیا کی ساتویں اور عالم اسلام میں پہلی ایٹمی طاقت ہونے کے باوجود بھی آج پاکستان اسی جگہ موجود ہے،جہاں پچھتر سال پہلے تھا۔
دور حاضر میں ارض مقدس فلسطین اور بالخصوص غزہ میں ہونے والےشدید مظالم اور نسل کشی پر پاکستان جیسے ملک اور یہاں کے بے ضمیرے حکمرانوں کی خاموشی اس بات کا چیخ چیخ کرپکار رہی ہے کہ
وضع میں تم ہو نصاری تو تمدن میں ہنود
یہ مسلماں ہیں جنہیں دیکھ کر شرمائیں یہود




































