
تسبیحہ صدیقی
لڑکپن کے دور میں جب میں اپنے والدین کے ہمراہ کہیں باہر جایا کرتی تھی تو راستےمیں کئی گداگروں کو دیکھتی تھی۔اس وقت چونکہ میں
چھوٹی تھی تو مجھے ایسے افراد کو دیکھ کہ محض افسوس ہی ہوتا تھا اورمیرے دل میں ان کے لیے ہمدردی کےجذبات جنم لیتے تھے مگر جب میں عاقل ہوئی تو مجھے اس بات کا اندازہ ہوا کہ گداگری دراصل ہے کیا اور اسلام میں اس کے متعلق کیا احکام جاری کيے گئے ہیں۔
گداگری سے مراد ہے بھیک مانگنا یا اپنی ضرورت پوری کرنے کےلیے کسی کےآگے ہاتھ پھیلانا۔ایسےافراد جو دوسروں سے مالی امداد کا مطالبہ کرتے ہیں گداگر کہلاتے ہیں۔ ان کے متعلق اسلام میں بہت سخت احکام جاری کیے گئے ہیں اوراسلام میں گداگری کی سخت الفاظ میں مذمت بھی کی گئی ہے۔
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی سے سوال کرنے کےعمل کو نہایت ناقص قرار دیا ہےاور یہ بات حدیث مبارکہ سےثابت ہے۔ایسا کرنے والوں پردوزخ کی آگ واجب کردی گئی ہے۔سوال نا کرنے کی تاکید اس لیے کی گئی تھی کہ کہیں گداگری پیشہ نا بن جائے مگر افسوس موجودہ دور کا جائزہ لیں تو یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ معاشرے میں موجود کئی افراد نے گداگری کو بطور پیشہ اختیار کرلیا ہے اور اسے ذریعہ معاش بنا لیا ہے۔وہ اس بات سے بخوبی واقف ہیں کہ معصوم شکل پربیچارگی کےتعصورات کے ساتھ مفلسی کا لبادہ لیے اگر کسی کو اپنی ضرورت سے آگاہ کرکے سوال کریں گے تو یقیناً وہ نا چاہتے ہوئے بھی ان کی مدد کرنے پہ آمادہ ہو جائے گا۔کم یا ذیادہ اپنی حیثیت کے مطابق ان کو کچھ رقم دے ہی دے گا۔اب چاہے وہ یہ رقم انہیں باتیں سنا کر دے یا خوش دلی سے ان کو پروا نہیں کیونکہ عزت نفس نام کی چیز کا رائی کے دانے کے برابر اثر بھی ان میں پایا نہیں جاتااور یہ افراد اپنے کام میں اس قدر مہارت حاصل کر چکے ہیں کہ ان کو بخوبی اندازہ ہے کہ کس طرح لوگوں کے جذبات کے ساتھ کھیل کر ان کو اپنی مدد کرنے کےلیے مجبور کرنا ہےاور درحقیقت معاشرے میں ایسے افراد بھی پائے جاتے ہیں جو خوش دلی سے گداگروں کی مدد کرتے ہیں۔ اب یہ ان کی اچھائی ہے ،البتہ اسلام میں گداگروں کی مدد کرنے کے حوالے سے کوئی احکامات جاری نہیں کیے گئے ۔
دور حاضر پہ نظر ڈالیں تو معلوم ہوتا ہےکہ کس طرح گداگر ہمارے معاشرے کو گندا کر رہے ہیں ان کے پورے پورے گرہو سرگرم ہیں جو ایک سسٹم کے تحت کام کررہے ہیں۔
قابل افسوس بات یہ ہے کہ حکومتی سطح پر اس طرح کے کاموں کی روک تھام کے لیے کوئی مناسب اقدامات نہیں کیے جا رہے ہیں جس کی وجہ سے یہ غلاظت دن با دن ہمارے معاشرے کو آلودہ کر رہی ہے۔اس کا ایک بڑا نقصان یہ بھی ہے کہ در حقیقت جو لوگ ہماری مدد کے مستحق ہوتے ہیں اور اپنی سفید پوشی کا بھرم رکھ رہے ہوتے ہیں، ہماری توجہ ان تک جاتی ہی نہیں ۔حکومت کو چاہیے کہ پیشہ ور گداگروں کے خلاف جلد از جلد سخت سے سخت کاروائی کر کہ ان کو انکے منتقی انجام تک پہنچائے تاکہ ہمارا معاشرہ اس گندگی سے پاک ہو سکے۔




































