
عرشیہ شاہد
حج کے معنی "کسی جگہ کا قصد اور زیارت کاارادہ کرنا"حج ایک ایسی جامعہ عبادت ہےجس میں مسلمان
بیت اللّٰہ پہچ کر کچھ مخصوص عبادات اورعمال کرتا ہے,حج بندوں پر اللّٰہ کا حق ہے جو لوگ بھی بیت اللّٰہ تک جانے کی استطاعت رکھتے ہو تو ان پرفرض ہےکہ وہ اس گھر کا حج کریں۔
حج کا مقام اور اسکی عظمت و اہمیت پر تفصیل سےروشنی ڈالی گئی ہے:۔"لوگوں پراللّٰہ کایہ حق ہے کہ جو بیت اللّٰہ تک پہنچنے کی استطاعت رکھتا ہو وہ اس کا حج کرے اور جو اس حکم سے انکار کریں اور کفر کی روش اختیار کریں وہ جان لیں کہ اللّٰہ تعالیٰ جہاں والوں سے بے نیاز ہے۔"
حج کی فضیلت کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ:۔"جب کسی زائرین حرم سے تمہاری ملاقات ہو اس سے پہلے کہ وہ گھر پہنچے تم اسکو سلام کرو،اس سے مصافحہ کرو ،اس سے درخواست کروکہ وہ تمہارے لیے اللّٰہ تعالیٰ سے مغفرت کی دعا کریں اسلیے کہ اسکے گناہ معاف ہوچکے ہے." (مسند احمد)
حضرت عباس کا بیان ہے کہ" ایک شخص نے آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم سےکہا کہ:. اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم میرا جسم کمزور ہے اور میرا دل بھی۔۔۔۔تو آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے اس شخص سے فرمایا "تم ایسا جہاد کیا کروجس میں کانٹا بھی نہ لگے "تو سائل نے کہا اے اللہ کے نبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم ایسا کون سا جہاد ہے جس میں تکلیف کا اندیشہ نہ ہو؟تو آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے عرض کیا کہ " تم حج کیا کرو"(بحرانی)
ہماری یوتھ کے ذہن میں یہ سوال آتا ہےکہ حج کی فرضیت کب ہوئی ؟حج کی فرضیت سن 9یا 10ہجری میں ہوئی۔ اس طرح ہی حج کی فرضیت قرآن و حدیث کی روشنی سے ثابت ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں صاحب استطاعت کو حج کرنے کا حکم دیا اور صحیح مسلم سے روایت ہے ،رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا"اے لوگو تم پر حج فرض کیا گیا لہذٰا حج کرو"۔
حضرت جنید بغدادی کی نظر میں حج:۔
ایک مرتبہ آپ کی خدمت میں ایک شخص حاضر ہو ا آپ نے ان سے بھی دریافت فرمایا کہ توکہاں سے آیا ہے؟ اس شخص نے جواب دیا کہ میں حج کے لیے گیا تھا۔ آپ نے پوچھا تو کیا تم حج کرچکے؟ اس نےجواب دیا کہ جی ہاں حج کرچکا ہوں۔ آپ نے فرمایا کہ اچھا یہ تو بتاؤ کہ شروع میں جب تم اپنے گھر سے نکلے اور اپنے وطن کو چھوڑا تو کیا سب گناہوں کو بھی اپنے پیچھے چھوڑ دیا؟ اس نے جواب دیا نہیں آپ نے کہا کہ تو نے سفر حج اختیار ہی نہیں کیا۔
سوال: جب تم گھر سے روانہ ہوئے اور جس جگہ رات کوقیام کیا تو کیا اس مقام پرتو نے طریق حق میں سے کچھ بھی قطع کیا؟ یعنی قرب الہی کو بھی منزل طے کیا؟ جواب : نہیں جناب اس کا تو مجھے دھیان ہی نہیں تھا۔ آپ نے ارشاد فرمایا پس تو نے کوئی منزل طے ہی نہیں کی نہ ہی بیت اللہ کی طرف سفر کیا۔
سوال: جب تو نےمیقات میں احرام باندھا تو کیا تو نے اپنی بری عادات اور خصائل کو بھی زندگی سے ویسے ہی اتار پھینکا تھا جیسے کہ اپنے کپڑوں کو؟ جواب: جی۔۔ اس طرح تو میں نے غور نہیں کیا۔ آپ نے فرمایا اس طرح تو نےاحرام باندھا ہی نہیں۔
سوال: جب تو نے عرفات کے میدان میں قیام کیا تو کیا اس قیام میں کشف و مشاہدۂ حق کی سعادت بھی تجھے حاصل ہوئی؟ جواب: حضرت میں سمجھا نہیں۔ مطلب یہ ہے کہ عرفات میں مناجات کرتے وقت تو نے اپنے اندر یہ کیفیت محسوس کی کہ گویا تمھارا رب تمہارے سامنے ہے اور تم اسے دیکھ رہے ہو۔ حضرت یہ کیفیت تو نہیں تھی مسافر نے جواب دیا۔ پس تو نے میدان عرفات میں قیام ہی نہیں کیا۔
سوال: جب تو مزدلفہ میں گیا اور تیری مراد حاصل ہوگئی تو کیا اس مراد کو پاکر تونے باقی تمام مرادوں کو ترک کردیا؟ جواب: جناب میں نے اس پر کوئی توجہ نہیں دی۔ آپ نے ارشاد فرمایا کہ تومزدلفہ میں بھی نہیں گیا۔
سوال: جب تو نے بیت اللہ کاطواف کیا تو کیا تونے جمال الہی کےجلوئے بھی دیکھے؟ جواب: حضرت اس سے تو میں محروم رہا۔ آپ نے ارشاد فرمایا کہ تو نے طواف بھی نہیں کیا۔
سوال: جب تو نےصفا و مروہ کےدرمیان سعی کی تو کیامقام صفا اور مروہ کی سعی کی حقیقت کا احساس و ادراک بھی تجھے ہوا؟ جواب: حضرت اس کا تو مجھے شعور نہیں۔ آپ نے ارشاد فرمایا کہ تو نے صفا اور مروہ کے درمیان سعی کی ہی نہیں۔
سوال: جب تو منیٰ میں پہنچا تو کیا تم نےاپنی آرزوؤں کوختم کردیا؟جواب: نہیں۔ آپ نے ارشاد فرمایا کہ تو ابھی منیٰ میں گیا ہی نہیں۔
سوال: قربان گاہ میں پہنچ کرجب تونےقربانی دی توکیااس کےساتھ ہی اپنی نفسانی خواہشات کو بھی قربان کر ڈالا تھا۔ جواب: نہیں آپ نے ارشاد فرمایا کہ تو نے قربانی بھی نہیں کی۔
سوال: جب تو نے کنکریاں پھینکیں توکیا تو نے نفسانی لذات و شہوات کو بھی ساتھ ہی پھینک دیا تھا؟ جواب: نہیں آپ نے ارشاد فرمایا کہ تو نے ابھی کنکریاں بھی نہیں پھینکیں
بھائی واپس چلے جاؤ ان کیفیات کےساتھ ایک بار پھرحج کرو تاکہ حضرت ابراہیمؑ کے ساتھ نسبت پیدا کر سکو جن کے ایمان و وفا کی قرآن نے شہادت دی۔
وَإِبْرَاهِيمَ الَّذِي وَفَّىٰ
اور ابراہیم کے جو پورے احکام بجالایا۔
اور ایسا شخص جس کہ پاس حج کرنے کی سواری موجود ہو وہ پھر بھی حج نہ کریں تو اس کے بارے میں سخت وعید ہے"جس شخص کہ پاس حج کا ضروری سامان موجود ہو جو اسکو اللّٰہ تعالیٰ کے گھر تک پہنچا سکے اور پھر وہ حج نہ کریں تو کوئی فرق نہیں کہ وہ یہودی ہوکر مرے یا نصرانی ہوکر" (ترمذی)
حج کرنے کے اہم فائدوں میں سے ایک فاںٔدہ یہ بھی ہے کہ انسان اپنے دل کو پاک کرسکتا ہے جیسا کہ آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اس گھر کی زیارت اسطرح کریں کہ اس دوران وہ ظاہر ی اور باطنی گناہوں سے بچا رہے تو وہ ایسے واپس لوٹے گا کہ آج ہی اسکی پیدائش ہوئی ہو۔(بخاری)
لیکن یہ عظیم صلہ صرف ان لوگوں کے لیے ہے جو حج اور عمرہ کو شرعی اصولوں و احکام کی روشنی میں انجام دیے۔
اگر وہ اس گھر کی برکت اور عظمت کو پالیں اور اپنی دعاؤں کے نتیجے میں پاک اور صاف ہوکر واپس لوٹے تو یہ ایک بڑی نعمت ہے۔
میں اس خاص موقع پر اللّٰہ تعالیٰ سے دعا کرتی ہوں کہحق بات کو پہنچا ننے اور عمل کرنے کی توفیق دی اور تمام حجاج کرم کی محنتوں اور مشقتوں کو قبول فرمائیں اور جب یہ واپس آئے تو ان کے سارے گناہ معاف ہوچکے ہوں اور نیکیوں سے ان کے نامہ اعمال بھرے ہوئے ہوں۔(آمین)




































