
حورعین اسماعیل
چراغ برقی ہو یا ایندھن سے روشن ہونے والا مقصد ایک ہی ہوتا ہے اجالا کرنا ۔۔۔ سورۃ نور میں آیت نور ہے۔۔ آیت نور میں المصباح یعنی چراغ کو
دل سے تعبیر کیا گیا ہے۔۔ دل چراغ کی طرح ہوتا ہے، روشن پرنور اور دل روشن پتا ہے کیوں ہوتا ہے ۔۔۔؟ کیونکہ یہ خدا کا گھر ہوتا ہےاور خدا کا گھر تو ہمیشہ پاک صاف ہوتا ہے ۔۔۔ ہے نا۔۔۔۔؟ اگر یہ دل پاکیزہ ہو تو انسان خدا شناسی اور حب الہٰی جیسے جذبوں سے سرشار ہوجائے اور اس سرشاری کا عالم یہ ہو کہ ہر طرف اجالا ہو۔ہر طرف روشنی ہو اور ہر کوئی اس روشنی سے مستفید ہو بلکل ویسے جیسے چھوٹے سے چراغ یا قمقمے کی روشنی ہر جانب چھائی ہوتی ہے جو ہر ایک کو اس کی راہ دکھاتی ہے تو پھر جیسے چراغ کے شیشے کو صاف کیا جاتا ہے اور مدھم روشنی واضح ہو جاتی ہے، اسی طرح دل کے شیشے کو صاف کردینا چاہیے تاکہ دل کا نور تمام اطراف کو پرنور کردے اور ان اطراف میں موجود لوگ اس نور سے استفادہ کرتے رہیں۔
دل کا شیشہ نیکیوں سے صاف ہوتا ہے۔۔ میرے خیال میں اگر چھوٹی چھوٹی نیکیوں کو بجا لایا جائےتو قطرہ قطرہ نیکی کا ایندھن دل کے چراغ میں گرتا رہتا ہے اور یہ قطرہ قطرہ ایندھن مدھم روشنی کو پرنور اجالوں میں بدل دیتا ہے۔ دل صاف ہو جاتا ہے، اللہ تعالیٰ کا گھر پاک ہو جاتا ہے پھر اللہ تعالیٰ کی موجودگی کا احساس ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی محبت محسوس ہوتی ہے۔ نیکیوں کے چھوٹے چھوٹے ددیے جلائیں ،قطرہ قطرہ ایندھن دل پر ٹپکائیں۔
ہم اجالوں کے پیغامبر ہیں ،روشنی کی حمایت کریں گے
جو دیئے ہم نے روشن کیے ہیں ان دیوں کی حفاظت کریں گے




































