
اسماء شاہین / بہاولنگر
ملی نہیں یہ ارض پاک تحفے میں
لاکھوں دیپ بجھے تو یہ چراغ جلا
ہمارا پیاراوطن اسلامی جمہوریہ پاکستان
قائداعظم محمدعلی جناح اور ان کے ساتھیوں کی انتھک کوششوں سےکلمہ طیبہ کی بنیاد پر پاکستان قائم ہوا۔ لاکھوں مسلمان اپنے گھروں سے بے گھر ہوئے لاکھوں لوگ شہید ہوئےکیونکہ برصغیر میں مسمان اور ہندو دو الگ قومیں اور اپنی اپنی الگ شناخت رکھتی تھیں۔
اس لیے مسلمانوں نے اپنا الگ وطن بنایا لیکن آج تک اس میں اسلامی ریاست قائم نہ ہوسکی کیونکہ ملک کی باگ ڈورہمیشہ سے نا اہل اور مفاد پرست حکمرانوں کےپاس رہی ہے جس وجہ سے ہمارے ملک کا نظام درہم برہم ہو چکا ہے۔
ہر طرف کرپشن، رشوت اورسود خوری عام ہےمہنگائی آسمانوں کو چھو رہی ہے۔کوئی قانون نہیں۔نوجوان روزگار کی تلاش میں ملک چھوڑ کر بیرون ملک جا رہے ہیں۔ پانی، بجلی، گیس کا کوئی خاطر خواہ سسٹم موجود نہیں ۔سیوریج ملا پانی لوگ استعمال کرتے ہیں جس وجہ سے دن بدن بیماریوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔ تعلیمی نظام بہت خراب ہو چکا ہے۔ غریب لوگوں کا جینا محال ہو رہا ہے،لیکن حکمرانوں کے ساتھ ساتھ عوام بھی کسی سے پیچھے نہیں ۔
"خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی
نہ ہو جس کو خیال خود اپنی حالت کے بدلنے کا "
اللہ تعالی نے ہر انسان کو عقل اور شعور دیا ہوا ہےجس سے وہ اچھے اور برے میں اچھی طرح فرق محسوس کر سکتا ہے لیکن عوام لاشعور ہیں ۔اپنے حق کی خاطر،چند پیسوں کے عوض لوگ اپنا ایمان بیچ دیتے ہیں۔ووٹ ایک امانت ہے لیکن پھر لوگ نااہل اور مفاد پرست لوگوں کو ووٹ دیتے ہیں۔بہت سارے مارشل لاء لگنے کی وجہ سے ملک کمزور ہوتا چلا گیا۔ فوج چاہے تو بہت کچھ کر سکتی ہے لیکن اس وقت اسٹیبلشمنٹ کے سیاسی کردار کی وجہ سے پاکستان بہت زیادہ مشکلات کا شکار ہے ۔
موجودہ دور میں فلسطین، غزہ ،مسجد اقصی (قبلہ اول ) کامسئلہ مسلمانوں کےلیے بہت بڑاچیلنج ہے۔اسرائیل کا مقابلہ ایک عام آدمی نہیں کر سکتا۔ فوج ،حکمران اوعوام سب مل کر فلسطین اور غزہ کو اسرائیل کے ظلم سے نجات دلا سکتے ہیں، حکمران ملک میں اسرائیلی پروڈکٹس کا مکمل بائکاٹ کروا سکتے ہیں لیکن سب غفلت کی گہری نیند سو رہے ہیں اور مسلم امت کٹ رہی ہیں۔
نام نہاد سیاستدان ملک میں لوٹ مار کررہےہیں،ملک کو قرضوں کے بوجھ تلے دبا کہ عوام پہ ٹیکس لگا رہے ہیں، بجلی کے بل میں ٹیکس روز بروز بڑھتا جارہا ہے ،کچھ دن پہلے میں مسجد کا بل دیکھ کر حیران رہ گئی کہ مسجد کو بھی ٹیلی ویژن کا ٹیکس لگتا ہے ۔
حکمران خود عیاشیاں کر رہے ہیں ،باہر کے ملکوں میں بینک بیلنس بنا رہے ہیں ۔ عوام غربت کی چکی میں پس رہی ہے۔
الیکشن سے پہلے عوام کو بہت ساری سہولیات دینے کے وعدے کرتے ہیں ۔یہ وعدہ ایک بار نہیں بلکہ ہر الیکشن سے پہلے کیے جاتے ہیں لیکن کبھی بھی عمل درآمد نہیں ہوتا لوگ الیکشن میں اندھا دھن ووٹ دیتے ہیں پھر جب مہنگائی کا زور شور ہوتا ہے تو آنکھوں کی پٹی خودبخود کھل جاتی ہے ،پھر 5 سال تک حکمرانوں کو برا بھلا کہتے ہیں جس کا کوئی فائدہ نہیں ہوتا ۔
ان سب کی وجہ پاکستان بہت سے مشکلات سے دوچار ہے۔ خیبر پختونخوا کے ضلع بنوں میں ہونے والا سانحہ واقعہ کربلا کی یاد تازہ کروا رہا ہے لیکن نام نہاد سیاستدانوں نے اس واقعہ کہ خلاف مذمت تک نا کی ۔ جماعت اسلامی کے مشتاق احمد صاحب بنوں میں ہونے والے ظلم کے خلاف آواز اٹھا رہے ہیں،ان کی جان بھی خطرے میں ہے لیکن ایمان مضبوط ہے کہ یہاں سے لاش تو جائے گی میں اپنی زندگی میں حق کی خاطر لڑنے سے باز نہیں آؤں گا۔
پاکستان کے حالات کی بہتری کی ایک ہی صورتحال ہےکہ اس کی قیادت نیک اور صالح اور دیانت دارلوگوں کے ہاتھ ہوں۔ میں آپ کو سیاسی جماعت, جماعت اسلامی کا تعارف دیتی ہوں ج،ماعت اسلامی ایک کرپشن سے پاک جماعت ہے ملک کی بھلائی اور بہتری کے لیے ہمیشہ سے کوشش کر رہی ہے ،ہر غلط کام کےخلاف امیر جماعت پاکستان کی کال پہ پورے ملک میں احتجاج کرتی ہے۔
جماعت سچے دیانت دار تعلیم یافتہ اور صالح افراد کی جماعت ہے۔جماعت اسلامی کرپشن سے پاک جماعت ہے۔ ان کا مقصد اللہ کی زمین پر اللہ کا قانون نافذ کرناآپ سب جماعت اسلامی کا ساتھ دیجیے اس میں مفاد پرست لوگ نہیں ہے جماعت کے نئے امیر منتخب ہوتے ہی سابقہ امیر درویشانہ انداز میں واپس چلے جاتے ہیں۔
جماعت اسلامی کی قیادت سے یہ ملک اسلامی جمہوریہ پاکستان بن سکتاہے۔ملک کی بہتری کے لیےاسلامی قیادت کی صورت ہی ممکن ہے۔
یہ ملک بناتھا اسلامی
درکار قیادت اسلامی
ہم اپنے ملک کو اسلامی جمہوریہ اور خوشحال پاکستان بنائے گے ان شاء اللہ۔۔۔
اللہ تعالی سے دعا ہے کہ ملک پاکستان کی سرحدوں کی حفاظت فرمائے ،آمین یا رب العالمین
نوٹ : ایڈیٹر کا بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں ( ادارہ رنگ نو )




































