
جویریہ ریاض
پھر بادِ بہار آئی اقبال غزل خواں ہو
غنچہ ہے اگر گل ہو، گل ہے تو گلستان ہو
امیدوں کے پنپنے کا موسم۔۔۔ محبتوں کی کلیوں کے چٹخنے۔۔۔ دعاؤں کے ثمر آور ہونے کا موسم۔۔۔یہ موسم کے جس میں ویران آنگن کی وحشتوں کو ختم کرتی ہریالی ۔۔۔بوسیدہ دیواروں کی درزوں سے اُگتی زندگی کی نوید ۔۔۔جی آپ صحیح پہچان گئے میرا اشارہ موسمِ بہار کی طرف ہے۔ جس کے آتے ہی چار سو رنگ ہی رنگ بکھر جاتے ہیں۔ اس موسم میں سوھنی دھرتی سبز چادر اوڑھ لیتی ہے، اور اس پر قوس و قزح کے رنگوں جیسے ہیرے موتی بکھیر دیے جاتے ہیں۔ بہار کے موسم کو دیکھ کر ہمیشہ میرے دل میں جنت کا جو خاکہ بنتا ہے، وہ اس طرح سے ہی ہوتا ہے کہ جنت میں ہر سو بہار ہو گی۔ ہر طرف پھول ہی پھول ہوں گے، رنگ ہی رنگ ہوں گے۔ ارض پاکستان کو اللہ تعالی نے سارے موسموں کی نعمت عطا کی ہے۔ باقی دو موسموں میں ماحولیاتی آلودگی کے باعث تبدیلی واقع ہو گئی ہے۔ موسم سرما اب شدید ترین سرد ہونے لگا ہے اور اس کی مدت بھی کم ہو گئی ہے، جبکہ موسم گرما طویل سے طویل ہوتا جا رہا ہے اور اس کی شدت میں بھی روز بروز اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ مگر بہار اور خزاں دو ایسے موسم ہیں جو اب بھی اپنی پوری شان سے آتے ہیں۔ جب خزاں آتی ہے تو دھرتی کے کینوس پر زرد و نارنجی رنگ انڈیل دیے جاتے ہیں۔ بہار آتے ہی قدرت کے تمام رنگ چار سو بکھر جاتے ہیں، جیسے ایک مصور اپنے تمام رنگوں کی ڈبیاں کھول کر سفید کاغذ کو رنگین کر دیتا ہے۔
قدرت کے حسین نظارے کس کے دل کو بھلے نہیں لگتے؟ اداس سےاداس روح بھی خوشگوار منظراور پھول دیکھ کرتروتازہ ہو جاتی ہے۔ اس موسم میں درجہ حرارت بھی معتدل ہوتا ہے، نہ بہت گرمی نہ بہت سردی۔ باغوں میں پرندے چہچہانے لگتے ہیں کوئل بھی اس موسم کے آنے سے جیسے خوش ہو جاتی ہے اور اپنی آواز کے سُر بکھیر کر مزید موسم بہار کو خوشنما بناتی ہے۔ قومی اور علاقائی سطح پر پھولوں کی نمائش منعقد ہوتی ہے اور اہل ذوق اس کو دیکھنے جاتے ہیں۔ جہاں انواع و اقسام کے پھول دیکھ کر اللہ تعالی کی ذات پر اور بھی پیار آتا ہے کہ اس نے ہم انسانوں کی خاطر کیا کچھ نہیں بنایا۔
ہر پھول اپنے آپ میں نایاب ہوتا ہےایک ہی مٹی سےنکلنےوالے ایک ہی پانی پی کراگنےوالے یہ رنگ برنگےنازک پنکھڑیوں والے پھول اس ذات کی کاریگری کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ اگر صرف ایک ہی طرح کا موسم ہوتا اور کوئی پھول کوئی سبزہ کوئی ہریالی نہ ہوتی تو ہم کیا کر سکتے تھے۔ وہ قادر مطلق ہے، وہ جو چاہے بنا دیتا، لیکن اس کے صفاتی ناموں میں سے ایک نام المصور بھی ہے۔ اس نے کائنات کو اتنا ہی خوبصورت بنایا کہ جتنا اس کی ذات خوبصورت ہے۔
موسم بہار عموماً دو مہینوں مارچ اور اپریل پر مشتمل ہوتا ہے۔
موسم بہار کی آمد پر مختلف علاقائی سطح پرمیلے سجتے ہیں۔ پرانےوقتوں میں باغوں میں جھولے ڈلنے کا موسم، موسم بہار ہی ہوا کرتا تھا۔ بدلتے وقت کے ساتھ اب یہ چیزیں بہت کم یاب ہو گئی ہیں۔
بہار کا موسم خوشیاں لے آتا ہے جو کہ اس بات کا ثبوت دیتا ہے کہ خزاں کے موسم کے بعد جب درختوں کے پتے بالکل جھڑ جاتے ہیں لیکن وہ اپنی جگہ پر اس امید پر قائم رہتے ہیں کہ بہار پھر آئے گی اور پھر سے وہ ہرے بھرے ہو جائیں گے۔ بہار کا موسم ہمارا یقین اس بات پر اور مضبوط کرتا ہے کہ ہر برے دن کے بعد اچھا دن آئے گا، ہر مایوسی کے بعد خوشی کے دن آئیں گے، ہر ناکامی کے بعد کامیابی ضرور ملے گی۔ بس امید کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑنا۔
بہر کیف بہار آتی رہے گی، اُمیدوں کے بیج بوتے رہیں گے، خوشیوں کی فصل کاٹتےرہیں گے۔ بہار کا موسم اس بات کی دلیل ہے۔۔۔ گود پھر سے ہری ہو گی، پھولوں سے پھر آنگن مہکے گا۔۔۔جو غُنچے بن کھلے مرجھا گئے، ان کی جگہ نئی کَلیاں ضرور کِھلکھلائیں گی۔۔۔
بس تم حوصلہ رکھنا۔۔۔
ناامیدی سے ذرا سا فاصلہ رکھنا۔۔۔۔!!۔




































