
حورعین اسماعیل
وہ پریشان نظروں سے ایزل پر رکھے خالی کینوس کو دیکھ رہی تھی۔ اس کی آنکھیں گواہی دے رہی تھیں کہ وہ کسی کشمکش
میں مبتلا ہے۔ اس کا چہرہ ملی جلی کیفیات کو ظاہر کر رہا تھا۔ انگلیوں کے درمیان پینٹ برش مستقل حل ریا تھا ، وہ شہادت کی انگلی پر گھومتا اور پھر دونوں انگلیوں کے درمیان آ کر رک جاتا ، شاید کوئی ٹرِک تھی پین فلپنگ ٹرِک۔۔۔
وہ اپنے اسکول کی بہترین پینٹر تھی ، اس کی پینٹنگز اسکول کی آرٹ گیلری میں ہمیشہ نمایاں رہتیں تھیں۔ لوگ اس کی پینٹنگز کے مداح تھے ۔۔۔۔لیکن اس کی پینٹنگز اس کے لیے کچھ اور معنی رکھتی تھیں، یہ اس کی دنیا تھی اور یہ رنگ اس کے خیالات کے آئینہ دار تھے ۔۔۔۔
"کیا سوچ رہی ہو؟" یہ اس کی امی کی آواز تھی جس پروہ چونکی تھی۔۔اس نے پیچھےمڑ کر دیکھا۔ وہ ٹرے میں چائے کے کپ لیے کمرے میں داخل ہو رہی تھیں۔۔
"کچھ نہیں، بس سمجھ نہیں آرہا کیا بناؤں۔۔" اس نے کھوئے ہوئے انداز میں کہا۔
"ویسے کوئی خاص موضوع ہے اس آرٹ ایکزیبیشن کا۔۔۔؟ " انہوں نے سوال کیا ۔
"نہیں" وہ مختصر سا جواب دے کر کینوس کو دیکھنے لگی۔
"اچھا چھوڑو۔۔ چائے پی لو پھر سکون سے سوچتی رہنا۔۔"
وہ اسٹول سے اٹھ کر اپنی امی کے پاس آکر بیٹھی۔
"اسماعیل ہانیہ کی شہادت کی خبر پڑھی۔۔؟" انہوں نے باتوں کا سلسلہ آغاز کیا۔
"جی صبح ہی پڑھی تھی۔۔" اور ایک غمگین سی مسکراہٹ اس کے چہرے پر بکھر گئی۔
"ماما، کیا مقام پایا ہے نا انہوں نے۔۔ اب سارے گھر والے ایک ساتھ جنت کے باغات میں ہوں گے۔۔" وہ چائے کا کپ ہاتھ میں اٹھاتے ہوئے بولی۔
"ہممم۔۔! اللہ تعالیٰ ہمارے ملک کو بھی ان جیسی قیادت کرنے والا عطا فرمائے۔" وہ پاکستان میں رہتی نہیں تھیں مگر ملک کی فکر اور اس کے لیے دعا ہمیشہ لبوں پر رہتی تھی ۔
"رہ رہ کر غـ.ـزہ کے لوگوں کا خیال آتا ہے۔۔ کاش میں بھی ان کے آواز اٹھا سکتی۔ کاش کسی پروٹیسٹ میں آزادی سے لبیک یا غـ.ـزہ کہ سکتی۔۔۔" اس نے بات کو جاری رکھا "بہت خوش قسمت ہیں پاکستان والے کم از کم آزادی سے اپنی رائے کا اظہار تو کر سکتے ہیں، ان کے اسکولز میں غـ.ـزہ کا نام لینے پر پابندی تو نہیں ۔۔۔یہاں تو غـ.ـزہ کا نام لینا بھی جرم بن گیا ہے۔۔۔"
"اپنی رائے کا اظہار تو تم بھی کر سکتی ہو۔۔۔!"
"سوشل میڈیا پر۔۔۔؟" اس نے چائے کا گھونٹ بھرتے ہوئےکہا۔
"ہاں لیکن اس کے علاؤہ بھی۔۔۔ " وہ اب کسی چیز کی طرف اشارہ کر کے اسے سمجھانا چاہ رہی تھیں۔۔۔
"میری پینٹنگ۔۔۔!" اس نے خالی کینوس پر نظرڈالتے ہوئے حیرت سے کہا۔۔
"بلکل۔۔! تمہاری پینٹنگ۔۔ تم خود ہی تو کہتی ہوکہ کینوس پر تمارے ہاتھ سے بنی ہر تصویر تمہارے خیالات کی عکاسی ہے۔۔" انہوں نے مسکراتے ہوئے کہا ۔۔
"اور اس کینوس پر بننے والی تصویر میرے جذبات کااظہار ہوگی۔۔۔ اہلِ غـ.ـزہ کے ساتھ یکجہتی کا اظہار"اس کی آنکھوں میں چمک واضح تھی۔۔۔
اس وقت اس کے اطراف میں پینٹ کے ٹیوبز اور ہر ناپ کے برش پھیلے تھے۔ اس نے لال رنگ کے دو شیڈز پیلٹ پر نکالے اور ان کو برش سے ملانے لگی۔۔۔۔
اب اس کا ہاتھ روانی سے سفید کینوس کو رنگوں سے بھر رہا تھا۔وہ کبھی رکتی کینوس پر بنی نامکمل تصویر کا معائینہ کرتی کبھی مختلف پینٹس ملا کر مطلوبہ شیڈ بناتی۔۔ کبھی اس کی نظریں باریک نوک والے برش کو ڈھونڈتیں تو کبھی وہ موٹے برش سے رنگ کرتے دکھائی دیتی۔۔۔۔
وہ بیرون ملک رہنے والے پاکستانی گھر سے تعلق رکھتی تھی۔ ملک کوسوں دور ہو کر بھی اس کے دل میں بستا تھا۔آزاد خیال معاشرے میں رہنے کے باوجود اسلام اور اہلِ اسلام سے محبت اس کی رگوں میں دوڑتی تھی۔ شاید اس ہی لیے غـ.ـزہ کا درد اس کا درد تھا۔ وہ چاہتی تھی کہ اس کے اسکول میں بھی غـ.ـزہ کے حوالے سے ورک شاپ کاروائی جائے بلکل ویسے جیسے اس کے پاکستانی کزنز کے اسکولز میں کروائی گئی تھی ۔۔
اگلے ہفتے اس کے اسکول میں آرٹ ایکزیبیشن تھا۔ وہ اس ہی کے لیے پینٹنگ بنا رہی تھی۔ اس کو ہمیشہ کچھ نیا کرنے کی عادت تھی کچھ ایسا جو سب کو حیران کردے کچھ ایسا جو اس کے نکتہ نظر کو واضح دے۔۔۔۔وہ رنگوں سے کھیلتی تھی اور رنگوں سے ہی بولتی تھی۔۔۔
رات گہرے اندھیروں میں ڈوب چکی تھی اور وہ رنگوں کی دنیا میں محو تھی۔۔۔ کوئی ساڑھے دس بجے کا وقت تھا جب وہ اپنی پینٹنگ کو آخری لمس دے رہی ہے۔ اس نے ایم ایم زیرو ون کے برش سے تربوز کے بیجوں کو مزید واضح کیا۔۔۔۔۔
اس کے ہاتھوں پر جگہ جگہ پینٹ کے دھبے لگے تھے،کہیں سرخ کہیں سیاہ۔۔ کہیں ہرا رنگ لگا تھا کہیں پیلا۔۔۔ وہ اسٹول سے اٹھی تھوڑے فاصلے سے اس نے پینٹنگ کو ہر زاویے سے دیکھا۔۔۔ ابھی وہ دیکھ ہی رہی تھی کہ اس نظر آس پاس کے پھیلاوے پر پڑی۔۔۔ پیٹنگ کرنا جتنا اسے پسند تھا اس سے زیادہ برا اس کو پینٹس اور برش سمیٹ کر رکھنا لگتا تھا۔۔۔"یا اللہ۔۔! کاش یہ کمرہ خود بخود صاف ہوجائے۔۔۔" اس نے خواہش کی۔۔وہ جانتی تھی اب اس کی صفائی اس ہی کو کرنی ہے۔۔۔۔
ہفتے کی صبح کا سورج بیدار ہو چکا تھا۔۔ لاؤنج میں رکھی اس کی پینٹنگز اب مکمل طور پرسوکھ چکی تھی۔۔۔کھڑکی سے جھانکتے سورج کی کرنیں چھن کر پینٹنگ پر گر رہی تھیں۔۔پیٹنگ میں بنی دیوار کے روشندان سے آنے والے روشنی سورج کی روشنی میں مزید واضح اور روشن لگ رہی تھیں ۔۔۔
وہ اپنے کمرے سے سیدھا لاؤنج میں آئی اور پینٹنگ کے آگے کھڑے ہو کر اس کو ایسے دیکھنے لگی جیسے کوئی مداح اپنے پسندیدہ مصور کی بہترین مصوری کو دیکھتا ہے ۔۔۔۔ "واٹ آ بریلینٹ پیس آف آرٹ" اس کے ذہن میں سرگوشی ہوئی۔۔۔
"ہممم۔۔! خون سے رستا تربوز کا ٹکڑا جو کسی زندان میں قید ہے۔۔۔"اس کی امی اس کو اٹھانے ہی جا رہی تھیں کہ اسے لاؤنج میں پیٹنگ کے سامنے کھڑا پایا۔۔۔
"وہ زندان میں قید تو ہے۔۔ مگرآپ غور سےدیکھیں وہاں ایک روشندان ہے۔۔۔ سفید سحر میں نمودار ہونے والے پہلے کرن پرنور صبح کی نوید ہوتی ہے، اندھیرے پر غلبہ پانے کی امید ہوتی ہے۔۔ یہ روشندان بھی امید ہے، فتح کی امید۔۔۔۔" اس کی پینٹنگز کے پیچھے چھپی ایسی ہی باتیں سب کے لیے حیران کن ہوتی تھیں۔۔ خاص طور پر جب وہ اردو میں اپنے گھر والوں سے پینٹنگ کے مطعلق بات کرتی، اب اس کے گھر والوں کو یقین ہونے لگا تھا کہ بھلے کوئی کتنی زبانوں پر عبور حاصل کر لے اپنے جذبات اور احساسات کو اپنی ہی زبان میں احسن طریقے سے بیان کیا جا سکتا ہے۔۔۔۔
اس کی امی کچھ دیر پینٹنگ کو دیکھتی رہی۔۔ وہ واقعی معمولی پینٹنگ نہیں تھی وہ کئی احساسات اور جذبات کو راز کی طرح اپنے اندر سمیٹے تھی۔۔۔"کیا لوگ سمجھ جائیں گے کہ اس پینٹنگ کے ذریعے میں کیا کہنا چاہ رہی ہوں۔۔۔؟" کچھ لمحے کی ہنوز خاموشی کو توڑتے ہوئے اس نے امی کو دیکھتے ہوئے پوچھا۔۔
"سمجھنے والے سمجھ جائیں گے ورنہ لوگ تووہ بھی ہیں جو ساری صورتحال دیکھنےکے باوجود اندھوں اور بہروں کی طرح اپنی زندگی گزارنے میں مصروف ہیں۔۔۔" انہوں نے جواب دیا اور کچن کی جانب چلی گئیں ۔۔۔
"اگر میں پاکستان کے کسی اسکول میں پڑھتی ہوتی نا تو غـ.ـزہ کی منظر کشی کرتی وہاں کے حالات واضح طور پر اپنی پینٹنگ کا حصہ بناتی۔۔" اس نے سوچا۔۔۔خیالوں کا سلسلہ ابھی جاری تھا "بہت خوش قسمت ہیں جو اپنے ملک میں رہتے ہیں پاکستان جیسے ملک میں رہتے ہیں جہاں ان کے پاس آزادی اظہار رائے ہے۔ جہاں وہ لوگ آواز صرف سوشل میڈیا پر ہی نہیں بلکہ ہر طرح اٹھا سکتے ہیں۔۔۔۔ جہاں کم از کم ڈھکے چھپے الفاظ میں اظہار یکجہتی نہیں کرنا پڑتا۔۔۔۔۔ قائد نے پاکستان کو صرف انگریزوں سے آزادی نہیں دلوائی تھی بلکہ انہوں نے تو۔۔۔۔۔۔" کچن سے امی کی آواز آنے تک وہ خیالات میں غوطہ زن رہی۔۔
آرٹ گیلری میں اس کی پینٹنگ آویزاں تھی۔ پینٹنگ کےساتھ ہی وہ کھڑی تھی۔ اس نے بہت ہمت کر کے اپنے اسکول آرٹ ایکزیبیشن میں کوفیۃ پہنا تھا۔۔۔ وہ فخر سے اپنے پینٹنگ کے ذریعے اپنے خیالات کی ترجمانی کر رہی تھی ۔۔۔
اپنی پینٹنگ کی تصویر کے نیچے کچھ ہیشٹیگز ڈالنے کے بعد ،وہ تصویر انسٹاگرام پر پوسٹ کر نے جا رہی تھی۔ وہ مقدس سرزمین کے لیے ممکنہ جہاد کر رہی تھی وہ الجہاد فی الاسلام کے لیے ہر وہ کوشش کر رہی تھی جو وہ کر سکتی تھی۔۔۔ "پوسٹ" کے بٹن پر انگلی رکھتے ہی اس کو دل میں حرکت محسوس ہوئی ذہن میں ایک آواز گونجی یا حرم الاقصیٰ اتنا فی قلوبنا۔۔۔




































