
حبیبہ اسماعیل
مسلمان اورمضبوط مسلم معاشرہ وہ روشن مثال ہےجس کی چکا چوندآج سے نہیں ازل سے دشمنان اسلام کے لیےاذیت، تکلیف
اور شدید خوف کاسبب بنی ہوئی ہے ۔
مسلم قوم اور ممالک مضبوط ومستحکم ہو کردنیا بھر میں عظیم قلعہ بن سکتے ہیں ،یہ ممالک دشمن کو شکست دےسکتےہیں۔ پاکستان جس عظیم مقصد کیلئے حاصل کیا گیا ،جدوجہد آزادی سےتکمیل پاکستان تک کےتمام مراحل میں مسلمانوں کو متحد دیکھنا دشمن کو گوارہ نہیں تھااوروہ مسلسل سازشوں میں مصروف رہے۔
بدنصیب کچھ مسلمان ہی اپنے لوگوں کےدشمن بن کرصرف اپنی اجارہ داری اوردولت کی ہوس میں ڈوب گئے اور چاند کی مانند روشن نظر آنے لگے۔ منظم اور متحد مسلمانوں کے ایک ہی ملک کو دو ٹکڑوں میں کرکےپہلے انہیں مشرقی ومغربی پاکستان میں تقسیم کر دیا ۔اس پر بھی ان کا بس نہیں چلا تو اپنے ناپاک عزائم سےمسلمانوں میں پھوٹ ڈلوا کرمشرقی پاکستان کوبنگلہ دیش کا نام دلوا دیا۔مغربی پاکستان کے لوگوں میں نفرت کا بیج بو دیا گیا اوریہ نفرت اتنی بڑھی کہ انہیں اپنےسےجدا کر دیا گیا ۔
یہ بات اب سب پر کھل چکی ہےکہ سقوط ڈھاکہ صرف ایک سازش تھی مخالفین نہیں چاہتےتھے کہ مسلمانوں میں ہم آہنگی اوریک جہتی رہےجبکہ جو لوگ مخلص تھے۔وہ ہمیشہ ان سازشوں سےدوررہے اوراسے ناکام بنانے کی کوششں کرتے رہے۔
انہیں اس کی سزا بھی بھگتنا پڑی ۔آج بھی وہ اور ان کی نسلیں بنگلہ دیش کے مسلمانوں سے سچی محبت کےدعوے دارہیں۔ اللہ اپنے کرم سے ہمیشہ اسلام دشمنوں تباہ وبرباد فرمائے۔




































