
حرا سعید/ ملتان
اے وطن! قائد کے مقاصد کی زمیں
خواب اقبال کی تعبیر دل آویزحسیں
تیری مٹی سے فروزاں ہے عقیدت کی جبیں
تو کہ ہے خون شہیداں کے تقدس کا امیں
پاکستان کا مطلب کیا؟ لا اله الله. اسی بنیاد پرپاکستان آزاد کرایا گیا اوراس زمینی خطےکا نام اسلامی جمہوریہ پاکستان رکھا گیا۔آئیے
آج ہم سب مل کرجائزہ لیں کہ "اسلامی جمہوریہ پاکستان" آج صرف پاکستان کیسے رہ گیا؟ اسلامی جمہوریہ کہاں گیا؟.....
تعمیرپاکستان کا مقصد درحقیقت دو قومی نظریہ کی بنیاد پرقائم تھا،برصغیر میں مسلمان اور ہندو دوایسی قومیں آباد تھیں جومذہب، رہن سہن اور اقلیتوں کے اعتبار سےبالکل مختلف تھیں جن کا آپس میں میل جول کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا ان کی رسومات الگ ان کے رہن سہن کے آداب الگ حتی کہ ان کے سوچ و افکار بھی الگ الگ تھے ۔.
یہی وہ دو قومی نظریہ تھا جس کی بدولت پاکستان آزاد کرایا گیا اوراس مقصد عظیم کی خاطرلاکھوں کروڑوں مسلمانوں نے سر دھڑ کی بازی لگادی،جانے کتنی ہی قربانیاں، جانیں، مال و دولت اورعزتیں قربان کی گئیں۔خواب صرف ایک اللہ کی زمین میں اللہ کا نظام " پاکستان کا مطلب کیا؟ لا الہ اللہ
ہم نے اپنے آباؤ اجداد کی عظیم قربانیوں کی بدولت پاکستان توحاصل کر لیا مگر پھراسلامی ریاست قائم نہ کر سکے۔قائد نے کیا خوب فرمایا
قیام پاکستان جس کے حصول کے لیےہم جد و جہد کر رہے تھےآج وہ حقیقت بن کر ہمارے پاس ہے. ایک مملکت حاصل کرنا مقصود نہ تھا بلکہ یہ نصب العین کے حصول کا ذریعہ ہے۔.
وہ نصب العین کچھ اور نہیں بلکہ اسلامی نظام کا قیام تھا دستور قرآن ہی اصل نصب العین تھا جو کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کی پہچان تھا ،اگرآج ہم اپنے ایمان کا جائزہ لیں جو قیام پاکستان کا مؤجب بنا اوروہ مقصد جس کی خاطر لاکھوں کروڑوں جانی مالی ہر نوعیت کی قربانیاں پیش کی گئیں تو کیا آج بھی ہم اس دین پر ثابت قدم ہیں؟؟؟
ہم نے کیا کیا؟ ہم آزاد وطن کے حصول میں تو کامیاب ہو گئےمگر اپنے آباء کے مقصد عظیم کو بھلا بیٹھے ہیں ۔ ہم نے محض ایک زمینی خطہ تو حاصل کر لیا مگر اپنا نصب العین بھلا بیٹھے. ہمارے آباء اسلامی جمہوریہ پاکستان کا خواب اپنی آنکھوں میں سجائے دفن ہو گئے، ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ان کا خواب بھی انہیں کے ساتھ دفن ہو گیا کیونکہ وہ جذبہ رکھنے والے تو اس دنیا سے چلے گئےاور مقصد ان کے ہاتھوں میں رہ گیا جو اپنی اصلیت سے ہٹ گئے۔ اپنا مقصد چھوڑ کر دوسروں کے مقصد کو اپنا مقصد سمجھ بیٹھے۔
آج پاکستان کا جو حال ہے یہاں ہر شخص شکایت کرتا نظر آتا ہے،یہاں آٹا مہنگا،سبزی مہنگی، بجلی مہنگی، گیس مہنگی، صاف پانی کی عدم دستیابی حتی کہ ضروریات زندگی تک سےمحرومی کا سامناہے۔یہ تمام اپنے مقصد کو کھو دینے کی طرف اشارہ ہے۔پاکستان بےمقصد لوگوں کا ایک گروہ بن چکاہے۔ یہاں کےحکمرانوں کا مقصد ملک و قوم کو نفع پہنچانے کی بجائے اپنا بینک بیلنس بھرنا اوراپنی ذاتی زندگی کو نفع پہنچانا بن چکا ہے۔حکومت ملک وقوم کی محافظ بننےکی بجائے چور لٹیروں اور ڈاکوؤں کا فریضہ انجام دے رہی ہے۔ہرچیز پر ٹیکس لگا کر عوام سے جینے تک کہ حقوق چھین رہی ہےیہاں تک کہ مرنے پر ہی ٹیکس باقی رہ گیا ہے۔.
عوام بیچارے مظلومیت کا رونا رونےمیں مصروف ہیں جہاں دیکھو ظلم و بر بریت کا بازار گرم ہے،عدالتوں میں انصاف نہیں ہے۔ مظلوموں کو سزائیں مل رہی ہیں جبکہ مجرم سرعام آزاد گھوم رہےہیں۔ رشوت کا بازار سرگرم ہے۔ نوکری تک کےلئے رشوت جیسے مراحل سے گزرنا پڑتا ہے۔ سفارش بھی رشوتوں سے چلتی ہیں۔ ذرا تصور کیجئے یہ نظام اس ملک میں قائم ہے۔دین میں صاف صاف بتایا گیاہےکہ رشوت دینے والا اورلینے والا دونوں جہنمی ہیں. افسوس صد افسوس جہاں سودی نظام قائم ہوجہاں حق حقدار تک نہ پہنچتا ہو جہاں مسلمانوں کوحرام کھانے پر مجبور کردیا جائے کیا وہ مسلمانوں کا ملک ہو سکتا ہے؟؟ نہیں, بالکل بھی نہیں۔
آج کا مسلمان صرف نام کا مسلمان رہ گیا ہے۔اگر مسلمان یک جان اورہم آواز ہو جائیں تو ان کا کوئی کچھ نہیں بگاڑسکتامگر یہاں ان میں بھی ایک ایسی کمزوری پائی گئی ہےجو انہیں ایک ہونےنہیں دیتی اور وہ ہے"لادینیت" جی ہاں یہ ایک ایسی کمزوری ہےجس سے نہ تو مسلمان مسلمان رہ گئے ہیں اورنہ ہی کافر۔۔۔انہوں نے منافقانہ رویہ اختیار کر لیا ہے،وہ آزاد وطن میں رہ کر بھی ذہنی طورپرغلام ہیں اس کی ایک واضح مثال فیشن کی دنیاہےجہاں جو فیشن نکل آئےسب اندھا دھند اسی کے پیچھےلگ جاتے ہیں جوٹرینڈ چل جائے سب اسی کے ساتھ چل پڑتے ہیں ۔ اس نکتے کو ملحوظ خاطررکھےبغیر کہ آیا دین میں اسکا کیاحکم ہے؟اور ہمارے دین اسلام میں یہ حلال ہےکہ حرام. ہمارا لباس، رہن سہن، کھانا پینا حتی کہ پسند اورنا پسند کا معیاراہل مغرب کے مشابہ ہے۔ہائے وہ قوم جو آزادی وطن لے کر بھی
اپنی آزادئ افکار لٹا بیٹھی ہےیہاں پرسارا قصور نہ تو صرف حکومت کا ہے اورنہ صرف عوام کا یہ دونوں ہی برابر کےشریک ہیں کیونکہ یہ دونوں اپنے مقصد سے ہٹ گئے ہیں۔ ہم نے اپنے دین سے دوری کی بنا پراپنے لئےگمراہی اور ناکامی کی راہیں کھول لیں ہیں جوقومیں اپنے مقصد کو بھول جاتی ہیں وہ شیاطین کا کارخانہ ہوجاتی ہیں پھران کے درمیان نفرتیں، لڑائی جھگڑے،شکایتیں اورچھینا جھپٹی رہ جاتی ہیں مگر اب بھی کچھ لوگ اندھیروں میں مشعل کا کام سرانجام دےرہے ہیں جودین پرخود بھی عمل کرتےہیں اور دوسروں کی بھی تعمیرکررہے ہیں جوکہ داعوت دین کا کام سر انجام دے رہے ہیں۔ یہی وہ واحد فریضہ ہے جو ہم سب کے لیے راہ نجات کا باعث ہے.
اگر قوم کے جوانوں میں داعئ دین کا سا اخلاق و کردارپیدا کردیا جائےتو ہم اپنےمقصد عظیم کوپانے میں کامیاب ہو سکتے ہیں اگر ہم پاکستان کو اسلامی ریاست بنانا چاہتےہیں تو پاکستان کےباشندوں میں اسلامی شعور، اسلامی اخلاق و کرداراور اسلامی سو چ و افکارپیدا کرنا ہوں گے،یہاں کے جوانوں میں داعیانہ صفات پیدا کرناہوں گی، تب ہی جا کر یہاں سے عمر فاروق رض اورابو بکر صدیق رض جیسے حکمران تیار ہوں گےاوراسلامی جمہوریہ پاکستان کا خواب پایہ تکمیل تک پہنچے گا اورہم اپنے مقصد عظیم میں کامیاب ہوں گے (ان شاء اللہ).
(اللہ ہمیں اس مقصد میں کامیابی عطا کرے. آمین ثم آمین)
آنکھ پھر منتظر صبح قیادت ہے ابھی
ایک فاروق کی دنیا کو ضرورت ہے ابھی
پاکستان زندہ باد پائندہ باد
نوٹ : ایڈیٹر کا بلاگر کے خیلات سے متفق ہونا ضروری نہیں ( ادارہ رنگ نو )




































