
ام امامہ
"مقصد پاکستان'
میرے عزیز ہم وطنوں کو 77واں یومِ آزادی مبارک۔14 اگست کا نام سنتے ہی ہمارے ذہنوں میں ہمارےبزرگوں کی دی گئی
قربانیاں کسی فلم کی طرح چلنے لگتی ہیں کہ کس طرح ہمارے بزرگوں کی انتھک محنت،بہادری شجاعت اور شہادت کی بدولت ہم آزاد ملک پاکستان میں سانس لے رہے ہیں ۔ پاکستان کا مقصد ایسی اسلامی فلاحی ریاست بنانا تھا جہاں برصغیر کے مسلمان مکمل آزادی کے ساتھ اسلام کے مطابق زندگی گزار سکیں اور اس ملک میں بسنے والوں کو ان کے حقوق کا تحفظ مل سکے۔
قائد اعظم کا فرمان ہے کہ پاکستان کا مقصد اس کےسوااورکیا ہےکہ پاکستان میں اللہ کے دین کا نظام قائم ہو سکے ۔قائدِ اعظم نے 1938 میں ایک خطاب میں فرمایا مسلمانوں کے لیے پروگرام تلاش کرنے کی ضرورت نہیں ہے ان کے پاس 1300 برس سے ایک مکمل پروگرام موجود ہے اور وہ قرآن پاک ہے قرآن پاک ہماری اقتصادی تمدنی و معاشرتی اصلاح و ترقی کا سیاسی پروگرام بھی موجود ہے۔ میرا اسی قانون الٰہی پر ایمان ہے اور جو میں آزادی کا طالب ہوں وہ اسی کلام کی تعمیل ہےاسلامی نظام اور پاکستان۔
جنرل ضیاء الحق نے قائداعظم کےاس خواب کو پوراکرنےکی بھرپورکوشش کی جنرل ضیاء الحق نےاقتدارسنبھالتے ہی اسلامی نظریاتی کونسل کی تشکیل دی آزاد زکوٰۃ کونسل کا قیام عمل میں آیا بے حیائی کو روکنے کی کوشش کی۔
عصر حاضر اور پاکستان
عصر حاضر میں ہمارے حکمران پاکستان کے قیام کا مقصد بھلائےبیٹھےہیں عوام کے حقوق کی حق تلفی کی جا رہی ہے غریب عوام پر ٹیکس عائد کیا جا رہا ہے پاکستان کے قیام کا مقصد یہ نہیں تھا کہ جو حکومت میں آگیا وہ حکومت کا سارا پیسہ سمیٹے اور باہر کے ملکوں میں جا کر جزیرے خریدے اور جائدادیں بنائے بلکہ پاکستان کے قیام کا مقصد یہ تھا کہ یہاں قرآن کے مطابق نظام قائم ہو وہ نظام جو ہمارے پیارے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ کی ریاست قائم کرتے ہوئے نافذ کیا تھا وہ نظام جس میں عدل وانصاف صلوٰۃ و زکوٰۃ شامل تھی
قائد اعظم کا فرمان ہے کہ پاکستان کے قیام کا مقصد یہ ہےکہ ہم عصر حاضر میں اسلام کے اصول حریت و مساوات کا نمونہ
پاکستان کی صورت میں قائم کرکے دکھائیں گے
تلاشنا ہے اسی وطن کو اساس تھی کا آلہ جسکی
ہمارا ملک کلم ہ حق لا آلہ کی بنیاد پر قائم ہوا ہے اور اگر ہم چاہتے ہیں کہ ملک اسی بنیاد پر قائم رہے اور اسلام کے اصولوں کے مطابق یہاں قانون نافذ ہوں تو ہمیں ایسے باشعور لوگ تلاش کرنے ہیں جو اقتدار کے اہل ہوں اور ملک میں اسلام کا نظام قائم کرنا چاہتے ہوں جیسے آج کے دور میں عوام کو ہماری حکومت نے پیشانیوں میں دھکیلا ہوا ہے بلوں پر ناجائز ٹیکس عائد کر رکھے ہیں اس مشکل حالات میں امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن عوام کی آواز بنے ہوئے ہیں اس لیے عوام کو چاہیے کہ اپنے حقوق کے لیے سڑکوں پر نکل آئیں اور امیر جماعت اسلامی کا ساتھ دیں




































