
ثمینہ مجید/ قصور
بائے بائے بائےفلسطین کا نام سنتے ہی پورے جسم میں ایک سنسی خیزلہردوڑ جاتی ہیں ۔۔۔ دل پھٹنا شروع ہو جاتا ہے کیونکہ
امت مسلہ کا ایک حصہ تڑپ رہا ہے،بلک رہا ہے ،جھلس رہا ہے
رکیں ذرا ٹھہریں،سوچیےذراایک لمحے کے لیے، اگران کی جگہ ہم ہوتے تو کیا ہونا تھا۔
آج وہاں مائیں ، بہنیں، بیٹیاں اپنے ہاتھوں سے بھائی شوہر اور خاندان کو دفن کر رہی ہیں، کہی خاندان کے خاندان شہید ہو چکے ہیں۔ یہ دیکھ کر اسلامی ممالک سب تماشائی بنے دیکھ رہے ہیں۔۔ میڈیا پر بس آکرتقریر کر کے ان کا ساتھ دے رہے ہیں۔اس وقت 57 اسلامی ممالک اور آپ اندازہ لگائے ان ممالک افواج ، کیا یہ کم ہے فلسطین کی حمایت کے لیے اور دشمن کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اپنے قبل اؤل کی حفاظت کے لیے ، کیا صرف فلسطین ، غزہ کے لوگوں کا حق ہے۔
اپنے قبل اؤل کی حفاظت ، ان اسلامی ممالک کے حکمرانوں کا عوام کا کوئی حق نہیں بنتا کہ وہ اسلام کی سر بلندی اور اپنے قبل اؤل کی حفاظت کے لیے اٹھے،میں اور آپ تو سکون سے اپنے اپنے گھروں میں زندگی گزار رہے ہیں ،جب کوئی بھی خبر سنی بس افسوس کرکے بات کو ختم کر دیا۔
ہائے ہائے دل پھٹ جاتا ہےجب ننھےمعصوم کودیکھتی ہوں ۔ ہم اپنی عیاشیاں دیکھتے ہیں اپنے بچوں کے ساتھ خوبصورت وقت گزارتے ہیں نرم بستروں پر آرام کرتے ہیں۔
یہ تو خوف نہیں ہے،صبح ہم میں سے کوئی بچے یا نہ بچےوہاں توایک لمحے کا پتہ نہیں، کب کس کی زندگی ختم ہوجائے۔ وہاں ہزاروں کی تعداد میں لوگ گھروں سے بے گھر ہور چکے ہیں۔ میں تو سلام پیش کرتی ہوں ان کی جرات ،حزیمت اورایمان کی مضبوطی کوجن کا حوصلہ نہیں ڈگمگمایا ،رکے نہیں جھکے نہیں۔ان طاغوتی طاقتوں کے سامنے، خاندانوں کے خاندان شہید ہوگئےمگرزبان پر شکوہ تک نہیں آیا بلکہ وہ خوش ہے اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی جنتوں کی مہمان نوازی کے لیےوہ تو آج بھی دنیا میں سرخرو ہو چکےہیں اورجنتوں کےاعلیٰ درجے پر بھی ہوں گے۔
فکر کرنی ہے تو مجھے اور آپ کو کو کرنی ہے اور امن پسند ، اسلامی ممالک کے نام نہاد حکمرانوں کو ضرورت ہے سوچنے کی اور فکر کرنے کی جب کل کو یہ فلسطینی ننھے منے بچے گریباں پکڑے گے کہ کیو تماشائی بنے رہے کیا قصور تھا ہمارا جو ہمارے ساتھ یہ ہوا۔
تب میں سوچتی ہوں ، کیا وقت ہوگا ،کیسے سامنےکرےگے،جب وہاں ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی موجود ہوں گے کس منہ سے ہم اپنے آپ کو انکا امتی کہے گےایک لمحے کے لیے سوچیے گا ضروربہت سارے لوگوں کو ابھی اس بات کا علم ہی نہیں ہے کہ فلسطین کے اندر جو مسجد اقصی ہے اسکی کیا اہمیت ہے اور فلسطین کی سر زمین کیو اہم ہے۔فلسطین کے اندر مسجد اقصی مسلمانوں کا قبلہ اول ہے۔مسجد اقصی میں نماز ادا کرنا حرمین شریفین کے بعد سب سے افضل ہے
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہےکہ مسجد اقصی اورمسجد نبوی میں ایک نماز ادا کرنا ثواب کے اعتبار سے پچاس ہزار نمازوں کے برابر ہے۔۔ (سنسن ابن ماجہ)۔
مسجد اقصی کو دوسری مسجد ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔مسجداقصی کوحرم قدسی بھی کہا جاتا ہے
مسجد اقصی میں چار سو انبیاء کرام علیہم السلام مدفون ہیں ۔ چارآسمانی کتب میں سے دو آسمانی کتابوں کے نازل ہونے کی جگہ مسجد اقصی ہے۔ زبور بھی اور انجیل بھی یہاں نازل ہوئی۔
قرآن کریم میں تقریباً 25 انبیاء علیہم السلام کا تذکرہ ہے جن میں سے 12 انبیاء کرام علیہم السلام وہ ہے جو ملک شام اور فلسطین تشریف لائے تھے۔ احادیث مبارکہ میں دجال کے بارے میں مخلتف روایات آتی ہے جن سے معلوم ہوتا ہے کہ دجال پوری دنیا کا چکر لگائے گا لیکن مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ نہیں جاسکے گا مگر بعض روایات میں اس پر اضافہ ہے کہ شادی مقامات پر دجال نہیں جاسکے گا
مکہ مکرمہ
مدینہ منورہ
مسجد اقصی
جبل طور
کیا شان ہے تیری کیا خوب کہا کسی نے
ہےتو ہی اؤل القبلتین ، ثانی المسجدین، ثالث حرامین
ہے تو ہی ہم مسلمانوں آنکھوں کی ٹھنڈک دلوں کا چین
میرے عزیز
وہ اللہ کے سرخرو ہورہے ابدیت والی حسین زندگی کی طرف گامزن ہے ، کتنی رونقیں لگی ہوں گی کتنا خوبصورت استقبال کیا گیا ہوگا۔اسماعیل ہانیہ رحمۃ اللہ علیہ اس صدی کا عظیم شہید،اس عظیم انسان کو میں سلام پیش کرتی ہوں جس کی آنکھوں کے سامنے پہلے دوست احباب، پھر خاندان کی شہادتیں چھوٹے ننھے منے پوتے پوتیوں کے جنازے پھرخود شہید ہوگیا اپنی سب متاعِ کے ساتھ اس دور کی کربلا کی داستان مکمل ہوئی مگر سوچنے کی بات یہ ہے میں اور آپ کیا کر سکتے ہیں ہم وہاں تو نہیں جا سکتے مگر اپنے اپنے حصے کی شمع روشن ضرور کریں تاکہ ہم کل کو سامنا تو کر سکیں ان کا۔
ہمارے اسلامی ممالک کے نام نہاد حکمرانوں کو جاگنے کی ضرورت ہے کیونکہ کوئی پتہ نہیں طاغوتی طاقتیں کب کس وقت ہمارے مقدس مقامات پر چڑھ ڈورے ، اور ہمیں مسل کر رکھ دیں
ضرورت اس امر کی ہے ہم آواز اٹھائے ، اپنے وسائل کو استعمال کرے اور جہاد کی راہ اختیار کریں ۔ان طاغوتی طاقتوں کے سامنے ایک سیسیہ پلائی دیوار بن کر کھڑے ہوں۔
جو لکھ سکتے ہیں ضرور ان مظلوموں کے لیے اپنے قلم کے ذریعےجہاد بالقلم کا فریضہ ادا کریں اور جو بول سکتا ، اور اپنے پیغام کے ذریعے کا انکا ساتھی بنے جو جتنی حیثیت رکھتا ، ان کے لیے مالی تعاون کریں تاکہ ہم بھی اپنا حصہ ڈال سکیں۔
سب سے اہم بات
ہم ان طاغوتی طاقتوں کی اشیاء کا بائیکاٹ کریں ، خود بھی کریں اور دوستوں رشتے داروں کو بھی روکیں ، تاکہ ان کی معشیت کمزور ہو۔اللہ سبحانہ و تعالیٰ ظالموں کو نیست ونابود کر دیں اور فلسطین کے مسلمانوں کی مدد فرمائے۔ آمین ثم آمین




































