
ام امامہ
پاکستان کو وجود میں آئے ہوئے نصف صدی سے زیادہ عرصہ گزرچکا ہے ہم ابھی تک یہی فیصلہ نہیں کرسکے کہ یہ خطہ
کیوں الگ کیا گیا تھا ہمارے بزرگوں نے اتنی قربانیاں کیوں دیں۔ماؤں۔ بہنوں۔۔بیٹیوں نےعزتیں،عصمتیں کیوں لٹائیں ،قتل و خون کیوں کروایا سب کچھ لٹا کر پاکستان پہنچے لیکن وہ مقصد حاصل نہ ہو سکا
وائے ناکامی متائع کارواں جاتا رہا
کارواں کے دل سےاحساس زیان جاتا رہا
قائد نے اخری دنوں میں فرمایا تھا جب مجھے یقین ہو گیا اورعلم ہو گیا کہ پاکستان ازاد ریاست بن چکی ہے تو میرے دل کو میری روح کو سکون ہو گیا اقبال نے بھی ایسے پاکستان کا خواب نہیں دیکھا تھا کہ جس میں تعصب فرقہ واریت دو کو ہوا دی جائے قتل و غارت ہہ، رشوت نا انصافی ، حرام کا دور دورہ ہو مغربی اور ہندوانہ تہذیب رائج ہو اقبال نے تو ایسے وطن کا خواب دیکھا تھا کہ جس میں محمد عربی کی تعلیمات رائج ہوں ، جس میں انصاف کا بول بالا ہو جس میں حلال و حرام کی تمیز ہو اسلامی جمہوریہ پاکستان کو تو مدینہ کی طرز پر ریاست بنانے کا خواب دیکھا تھا وہ خواب تھا اسلامی پاکستان خوشحال پاکستان بنانے کا وہ خواب تھا یہاں کی ماؤں بہنوں بیٹیوں کو فاطمہ خدیجہ اور عائشہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کی طرح پاک دامن بنانے کا، وہ خواب تھا یہاں کے نوجوانوں کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کا وہ خواب تھا تمام اداروں میں اسلامی قانون رائج کرنے کا وہ خواب تھا اللہ کی زمین پر اللہ کا نظام نافذ کرنے کا
افسوس صد افسوس اقبال کا خواب اور قائد کے جہد مسلسل لا الہ الا اللہ کےاصل مقصد کو ہم عملی تعبیر نہ دے سکے پاکستان جس کو لا الہ الا اللہ کی بنیاد پر حاصل کیا گیا تھا الہ الا اللہ کا مطلب ہی بھول گئے ماؤں بہنوں کی عصمت لٹ گئی پاکستان کا بچہ بچہ اپنے جسم کے بالوں سے بھی کئی گنا زیادہ مقروض ٹھہرا نوجوانوں کو روزگار کے لیے بیرون ملک ہجرت کرنا پڑی پاکستانی عوام کو تعلیم یافتہ طبقہ بنانے کی بجائے جہالت کے راستے پرچلنے پر مجبور کر دیا گیا روزگار سے زیادہ ٹیکسوں کے بوجھ تلے دبا دیا گیا بےجا مہنگائی اور روز بروز بڑھتے ہوئے بجلی کے بلز نے پاکستانیوں کو خودکشیوں پر مجبور کر دیا یہاں تک کہ پاکستانی عوام دو وقت کی روٹی سے بھی محروم کر دی حیاءکی جگہ فحاشی بے حیائی نے لے لی۔ جن کی غلامی ہم نے اختیار کی جن کی تہذیب کو ہم نے اپنایا انہوں نے تو ہماری کتاب قران مجید، تعلیمات محمد عربی اور فاروق دور سے اپنی ریاست کے لیے قوانین ترتیب دے لیے اور اج پوری دنیا کو اپنا غلام بنا رکھا ہے،انہوں نے صرف لا الہ الا اللہ کا قرار ہی نہیں کیا تمام اسلامی تعلیمات کی روشنی میں اپنے قوانین کو ترتیب دیا اور پوری دنیا کو اپنا غلام بنا لیا۔ ا اور ہم نے لا الہ الا اللہ کا اقرار کیا اس کی عملی تفسیر نہ بن سکے اسی لیے ہم بھول گئے کہ اسلامی جمھوریہ پاکستان کو حاصل کرنے کا مقصد کیا تھا دراصل مسلمانوں کے اندر رسم اذاں ہی رہ گئی روح بلالی سے مسلمان خالی ہو گئے یہ کلمہ لا الہ الا اللہ تو ہمیں اخوت و اتحاد کا درس دیتا ہے اقوام عالم اور عالم اسلام سے بہترین بھائی چارے کا درس دیتا ہے لیکن ابھی قریب کی عملی مثال نے ثابت کر دیا کہ ہم عالم اسلام کے ساتھ اخوت و اتحاد کے علمبردار نہیں ہم تو یورپ کے منشی اور غلام بنے ہوئے ہیں ابھی قریب میں عملی مثال دیکھ کر اور سن کر میرا دل خون کے انسو رو رہا ہے کہ امت مسلمہ کے لیڈر حماس کے سربراہ فلسطین کے باب اسماعیل ھنیہ رحمہ اللہ کو شہید کر دیا گیا تو پاکستان کے حکمران سفیر امت کے جنازے تک نہ پہنچ سکے۔ ایسے میں حافظ نعیم الرحمن نے ان کے جنازے میں شریک ہو کر ہمیں اقوام عالم کے سامنے شرمندہ ہونے سے بچا لیا لیکن میں چاہتی ہوں میرا خیال ہے کہ ابھی وقت ہے ہم سنبھل جائیں ۔سمجھ جائیں کہ لا الہ الا اللہ کا مطلب کیا ہے پاکستان کو لا الہ الا اللہ کی بنیاد پہ کیوں الگ ریاست بنایا گیا تھا بزرگوں نے اتنی قربانیاں کیوں دی تھی ابھی بھی اسلامی ریاست کی ساکھ کو بچایا جا سکتا ہے ابھی بھی اسلامی جمہوریہ پاکستان کو لا الہ الا اللہ کی عملی تعبیر دی جاسکتی ہے ابھی بھی لا الہ الا اللہ کے تقاضوں کو پورا کیا جا سکتا ہے لیکن بشرط یہ یوم ازادی سے قبل ہم تجدید عہد کریں کہ ہم واعتصموا بحبل اللہ عملی تفسیر بن جائیں محمد عربی کی تعلیمات کو اپنا لیں قائد و اقبال کے فرمودات کے مطابق اس ریاست کو چلانے کی کوشش کر لیں پاکستان کی باگ ڈور صالح حکمرانوں کے ہاتھ میں دے دیں
تو ان شاءاللہ اللہ رب العزت ضرور ہی ہمیں کھویا ہوا وقار بھی واپس لوٹائے گا۔ اور لاالہ الااللہ کی صورت میں پاکستان کی سرزمین بھی ریاست مدینہ جیسی مثالی ریاست معرض وجود میں آئے گی۔ ان شاءاللہ




































