
اُمِّ ابراہیم
فون کال پرایک عزیزہ سےگفتگوکےدوران وہ کہنےلگیں کہ ہرسال کی طرح اس سال بھی تمام بچوں کویوم آزادی
کےلیےہرےاورسفیدرنگ کےکپڑے، بیجز، جیولری اورلڑکیوں کےلیے کُھسَّہ خریدکردیاجس سےاگست کےمہینےکابجٹ کافی خراب ہوگیاہے۔ مہنگائی اتنی ہےکہ انسان کچھ خریدتےہوئےہاتھ روک لیتا ہے۔ وہ خاتون اتنی ساری فضول خرچی کرنےکےبعدبھی مہنگائی کارونارورہی تھیں اورمیں سوچ رہی تھی کہ کیا14اگست منانےکےلیےہرےاورسفید رنگ کےکپڑے، جیولری، جوتی، باجےاورپٹاخےلازم ہیں؟
چودہ اگست انیس سو سنتالیس وہ تاریخی دن ہےجب ہم نےانگریزوں اورہندؤوں کےتسلط سےآزادی حاصل کی اورہماراپیاراوطن ”پاکستان“ معرض وجودمیں آیا۔ پچھلےکچھ سالوں سےجشن آزادی پہ نیارواج اپنایاگیا ہےکہ امیر وغریب سب اپنےبچوں کواپنےملک کےپرچم کےرنگ والےکپڑےپہناتےہیں۔ خاص طورپر 14 اگست کےلیےلگائےگئےٹھیلوں سےمختلف سجاوٹ کی چیزیں خریدی جاتی ہیں۔ ماہِ اگست کےآغازسےہی یوم آزادی ”مثلِ شادی “ منانےکی تیاریاں شروع ہو جاتی ہیں۔ صرف یہی نہیں بلکہ میڈیاپربھی بہت کچھ پڑھنے، سننےاوردیکھنےکوملتا ہے۔
تاہم یوم آزادی کےتناظر میں یہ عظیم دن پاکستانی قومسےکیاتقاضےکرتا ہےاوران تقاضوں کی تکمیل کےضمن میں ہماری ”من حیث القوم“ کیاترجیحات اورذمہ داریاں بنتی ہیں؟یہ توہم نےکبھی سوچا ہی نہیں۔ خریداری میں مصروف ان معصوم بچوں کودیکھ کربےاختیاریہ خیال آتا ہےکہ کیایہ بچےاس دن کی اہمیت سےآگاہ ہیں؟
یایہ اس دن کوبھی محض ایک تہوارسمجھ کرمنا رہےہیں؟
کیاہرسال 14 اگست، یوم آزادی کےطورپرجوش وخروش سےمنانےکےبعداس سال بھی ہم نےبچوں کی تعلیم وتربیت کےلیےوہ اقدامات کیےجوکرنےچاہیے تھے؟
اس سوال کاجواب اگرآپ کےپاس نہیں توذراجشن آزادی پرسجائےگئےٹھیلوں پرنظرڈال لیجئےگاجہاں آپ کوہرےاورسفید رنگ میں، مختلف ڈیزائنز میں، ایک سال سےلےکر20 سال تک کےلڑکےاور لڑکیوں کے کپڑے نظرآئیں گے۔ جنہیں ایک بارپہن کرالماری کےکسی کونےکھدرےمیں ڈال دیا جاتا ہے۔ جھنڈے اورجھنڈیاں نظرآئیں گی جنہیں گھروں اورگلی محلوں کی سجاوٹ کےلیےخریداجاتا ہے۔ 14 اگست کےاگلےدن لوگ انہیں اپنےپاؤں تلےروندتےہوئےگزرجاتے ہیں۔
کیایہی ہےہماری حب الوطنی کہ ہم اپنےملک کےجھنڈےکاعزت واحترام نہ کرسکے؟
اس کےوقار کوقائم نہ رکھ سکے؟*
صرف اتنا ہی نہیں بلکہ ان سب کےساتھ آپ کوایک ”باجا” ضرورنظرآئےگا۔
بس! یہی ہماری مردہ دلی ثابت کرنےکےلیےکافی ہے۔
بچےجوملک وملت کا سرمایہ ہوتےہیں انہیں ہم نےوہ اہمیت دی ہی نہیں جودی جانی چاہیےتھی۔ظاہر ہےاس میں قصوربچوں کا نہیں بلکہ ہم والدین اور اساتذہ کرام کا ہے۔ بچوں کوتوخیال بھی نہیں آیا ہوگا کہ وہ یوم آزادی پرباجوں اورپٹاخوں کےذریعےدوسروں کےلیےتکلیف کا باعث بن رہےہیں۔ یہ کیساجشن ہےکہ جس میں آپ دوسروں کےلیےاذیت کاباعث بننےکےساتھ ساتھ اپنےلیے بھی تکلیف کاسامان کررہےہیں؟
ایسی باتیں توبڑےہی سمجھایاکرتےہیں نا!
چودہ اگست کادن ہرسال ہم سب پاکستانیوں کےلیےحریت اوراستقلال کاپیغام لےکرآتا ہے۔ جدوجہدِآزادی اورقربانیوں کی یادذہنوں میں تازہ کرتا ہے۔ آج ہماری آزادی کو77 سال ہوچکےہیں۔ آزادی ایک بہت بڑی نعمت ہےاور ہرنعمت اپنےساتھ آزمائش بھی لےکرآتی ہے۔ آج مسلمانانِ پاکستان، نونہالانِ پاکستان اورنوجوانانِ پاکستان آزمائش کی لپیٹ میں ہیں۔
مقبوضہ فلسطین کی آزمائش، مقبوضہ کشمیرکی آزمائش، پاکستان کی بیٹی ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی قید کی آزمائش، پاکستان کی معاشی بدحالی کی آزمائش اورمیڈیا پربےہودگی اورعریانی کی آزمائش۔
برطانوی اقتدارکےخاتمےکےلیےبرصغیرکے مسلمانوں نےآج سے77 سال پہلےجس جذبۂ قربانی اوربےمثال جدوجہد کامظاہرہ کرکےاس ملک کوحاصل کیاآج بھی پاکستان کےہرہرفردبچے، بوڑھے، جوان اورعورتوں کواُسی جذبہ قربانی اورجہدِمسلسل کی ضرورت ہے۔
فلسطین کواسرائیلی قیدسےآزادکروانےکے لیےاورکچھ نہیں کرسکتےتو اسرائیلی مصنوعات کابائیکاٹ توکرسکتے ہیں نا! کیا اسےقربانی نہیں کہیں گے؟ بالکل یہ بھی قربانی کاہی جذبہ ہے۔
مقبوضہ کشمیرکی آزادی کےلیےہندوستانی مصنوعات کابائیکاٹ کیجئے۔ بالخصوص اپنےبچوں کوہندوستانی کارٹونزچینلزاور خود ہندوستانی انٹرٹینمنٹ چینلز(ڈرامہ، کارٹونز اور فلمیں) سے اجتناب کیجئےیہی ان کی سب سےبڑی شکست ہوگی۔ ان شاءاللہ
پاکستان کی بیٹی، میری اورآپ کی بہن ”ڈاکٹرعافیہ صدیقی“ کورہائی دلانےکےلیے کچھ نہیں کرسکتے توکم ازکم اپنی دعاؤں میں ضروریادرکھیں۔
پاکستان کی معاشی بدحالی کامقابلہ صدقات، فضول خرچی سےاجتناب اور زکوۃ کی ادائیگی سےکریں۔ جوپیسےہم صرف ایک دن کےپہناوے، باجوں اورپٹاخوں کی بھیانک سمعی خراشی پرخرچ کرتےہیں وہ کسی ضرورت مندکوبھی دیےجاسکتےہیں۔ ان سےپودےخریدکر لگائےجاسکتےہیں کہ جن کی پاکستان کی آب و ہوا کوسخت ضرورت ہے۔ مسکینوں، یتیموں اور مزدوروں میں پکاہوا لکھانا تقسیم کرکےاپنےاگست کےمہینےکےبجٹ کوآؤٹ کرناتو باعث فخرہوگا نا!
چودہ اگست کوضرورت مندوں کی ضرورت پوری کرکے، یتیموں کےسرپرہاتھ رکھ کے، مسکینوں کوگلےلگاکر، مزدوروں کوپیارجتا کربھی تویوم آزادی منایاجاسکتاہے۔ اپنے معاشرےکےکمزورلوگوں کویہ احساس دلائیں کہ وہ اپنےآزاد ملک میں ہیں، اپنوں کےدرمیان زندگی گزاررہےہیں، ان کےاورہمارے دکھ سکھ سانجھےہیں، یہ ملک میرانہیں ہم سب کا “پیارا پاکستان” ہے۔ ایسےبھی تویوم آزادی منایاجاسکتاہےنا!
اگراس نہج پر یوم آزادی منانےکی ترغیب بچوں کودی جائےگی اوربڑےبھی اپنےعمل سے ثابت کریں گے توان کی تربیت اورماحول میں خودبخود فرق آئے گا۔ ہم والدین اور اساتذہ کرام شاید اس طرح ہی اپنی ذمہ داری کاحق اداکر سکیں۔ ہمارا یوم آزادی اپنی روایتی حلاوت اورمقصدیت کےجذبے کوپہنچ سکے۔
بس اتناکام کیجیے! اپنی نسلوں کویہ سمجھادیجیےکہ پاکستان اس امت کا سالارہے۔ پاکستان اسلام کاقلعہ ہے۔ پاکستان نے باقی ممالک کا بھی سہارابننا ہے۔
آئیے عہد کریں! پاکستان کو ”پیارا پاکستان“ بنائیں گے، دنیائے اسلام کا سہارا بنائیں گے کیونکہ یہ ہماری شناخت ہے، ہماری پہچان ہے، ہمارا ایمان اور ہماری جان ہے۔ ہمیں اس جشن آزادی پر پاکستان اور دنیائے اسلام کی خاطر سوچنے اور عمل کرنے کا پختہ ارادہ کرنا چاہیے۔ یہ نہیں سوچنا کہ پاکستان نے کیا دیا؟ بلکہ یہ سوچنا ہے کہ ہم نے پاکستان کو کیا دیا؟
اللہ تعالی ہم سب کو اپنی ذمہ داریاں احسن درجے پر پوری کرنے کی توفیق عطا کریں۔ آمین
ہے جذبۂ جنوں تو ہمت نہ ہار
کرے جو جستجو وہ چھوئے آسماں
محنت اپنی ہوگی پہچان، کبھی نہ بھولو
سب کی نظروں میں پاکستان
کبھی نہ بھولو
پاکستان ہے ہمارا، پاکستان ہے تمہارا




































