
احمد شفیق
پاکستان کا قیام برصغیر کے مسلمانوں کے لیے اپنی مذہبی و ثقافتی شناخت کی بقا کی خاطر ایک آزاد اور خودمختار اسلامی ریاست
کے قیام کی عظیم الشان جدوجہد کا نتیجہ تھا۔ یہ وہ خواب تھا جس کےحصول کے لیے لاکھوں مسلمانوں نے ارفع نثار قربانیاں دیں، خون کے دریا بہائےاور بے شمار معاشرتی و اقتصادی مشکلات کا سامنا کیا تاہم شدید رنج و غم کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ جس نصب العین کے لیے یہ بے پناہ قربانیاں دی گئیں، آج وہ خواب صرف ایک نعرہ ہی بن کر رہ گیا ہے۔
آج کا پاکستان ظاہری خود مختار ریاست ہے مگر عملی طور پر یہ سیاسی اور اقتصادی غلامی کی زنجیروں کےشکنجے میں قید ہے۔ مغربی طاقتوں کے زیر اثر ہونے کے باعث ملک میں انصاف اور مساوات کا نظام سنگین زوال کا شکا ر ہے۔ بدعنوانی نے ریاستی اداروں کی بنیادیں ہلا دی ہیں اور انصاف کی فراہمی میں تاخیر ایک معمول بن چکی ہے۔ یہ سب عوامل معاشرتی ناہمواریوں کو مزید گہرا کر رہے ہیں، جہاں ایک طرف اشرافیہ وسائل پر قابض ہے، وہیں عوام بنیادی حقوق سے محروم ہیں۔
اسلامی نظام کی بجائے، پاکستانی معاشرت میں اخلاقی انحطاط روز بروز بڑھتا جا رہا ہے۔ دھوکہ دہی، فریب، اور بے حیائی جیسے عناصر روزمرہ زندگی کا حصہ بن چکے ہیں، جبکہ سود کا نظام معاشرتی ڈھانچے کو مزید کمزورکرتا نظر آتا ہے ۔ معاشرتی انتشار اور اختلافات نے امت مسلمہ کے اتحاد و یگانگت کے تصورات کو بے معنی بنا دیا ہے۔یہ صورت حال اسلامی ریاست کے تصور کی کھلی نفی ہے۔
ملکی اقتصادی نظام میں اسلامی اصولوں کی عدم موجودگی محسوس کی جاسکتی ہے۔سود اور ربا جیسےغیراسلامی عناصر ریاستی معیشت کا حصہ بن چکے ہیں، جو معاشرتی ناہمواریوں کو بڑھاوا دے رہے ہیں ۔ یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ جس نظام کے خاتمے کے لیے پاکستان کا قیامِ عمل میں آیا تھا، آج وہی نظام اس کی بنیادوں کو متزلزل کرتا نظر آتا ہے ۔
ان تمام حالات کو مدنظر رکھتے ہوئےیہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا ہم اپنے مقصد سےدورہو چکے ہیں؟؟؟؟ پاکستان کے اسلامی تشخص کی بحالی اور ترقی کے لیے لازم ہے کہ ہم اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے بتائے ہوئے طریقوں کے مطابق معاشرتی زندگی کی تعمیر کریں تاکہ رضائے الہٰی کا حصول ممکن ہو سکے۔ ہمیں اپنی معیشت، سیاست، اور معاشرت کو اسلامی اصولوں کے مطابق ڈھالنا لازم ہے ۔
اخلاقی و روحانی اقدار کا"احیا" وقت کی ضرورت ہے۔ قوم کو اسلامی اصولوں اور وحدت کی بنیاد پر دوبارہ منظم ہونا ہوگا تاکہ اختلافات کا خاتمہ ہو اور مسلمان ایک مضبوط قوت بن کر ابھر سکیں۔ اسلامی اقتصادی نظام کے نفاذ کے لیے اقدامات کیے جائیں جو سود اور ربا کے خاتمے کے ساتھ اسلامی ریاست کے قیام کا سبب بنیں۔
ملک میں عدل و انصاف کے قیام کے لیے سخت اقدامات کی ضرورت ہےتاکہ معاشرتی تفریق کاخاتمہ ہوسکے۔خواتین کے حقوق اور اقلیتوں کا تحفظ ضروری ہے تاکہ انہیں اسلامی نظام اور مجموعی معاشرتی ترقی میں فعال طور پر حصہ لینے کے لیے بااختیار بنایا جاسکے۔عوامی اداروں میں شفافیت اور جوابدہی کا نظام مضبوط کیا جائے، تاکہ کرپشن کا خاتمہ ہو اور عوام کو بنیادی سہولیات فراہم کی جا سکیں۔
بلاشبہ ، پاکستان کو درپیش مشکلات کا مقابلہ کرنے کے لیے ایک جامع اور اسلامی حکمت عملی کی ضرورت ہے۔ یہ وقت ہے کہ ہم اپنے اصولوں کی طرف واپس آئیں اور اس ریاست کو اس مقصد کے مطابق ڈھالیں جس کے لیے یہ قائم ہوئی تھی۔ صرف اسی صورت میں ہم حقیقی معنوں میں آزادی کے ثمرات حاصل کر سکتے ہیں اور ایک مضبوط و خودمختار قوم بن سکتے ہیں۔
نوٹ : ایڈیٹر کا بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں ( ادارہ رنگ نو )




































