
عالیہ رؤف
گدا گری کے اس بڑھتےرحجان کو بلکل ویسے ہی نظر انداز کیا جارہا ہےجیسے کہ باقی ملکی سالمیت کو نقصان پہنچا نے والے
باقی جراثیم کویا پھر یہ کہ سکتے ہیں کہ ہم موت کو دیکھ کر کبوترکی طرح آنکھیں بند کر لیں گے کہ جیسے ایسے موت آئے گی ہی نہیں،معامالات جب حد سے تجاوز کر جائیں تو جناب ہمیں ہوش آتا ہے مگر تب تک بہت دیر ہو چکی ہوتی ہے ۔
کہیں بھی چلے جائیں مختلف انداز میں گداگر سر گرم نظر آتے ہیں ۔نہ تو ان کی کوئی معذوری ہوتی ہے، نہ ہی مجبوری ،بس بیٹھے بٹھائے پیسہ کمانے کی لت لگ چکی ہوتی ہے ، یہ ایک ایسا اہم مسئلہ ہے جو قابل غور ہے۔ یہاں ریسٹورنٹ ،ہسپتال کہیں بھی عوامی مقام پرچلے جائیں آپ کو ایک کثیر تعدادمیں گداگر ملیں گے۔ان میں سے 95 فیصدتو بالکل مد د کے مستحق نہیں ہوتے ۔
میری نظر سے چند ایسے گداگر گزرے جیسے کہ ایک سکول کے باہر ایک آدمی، ایک بچہ اور عورت کے ساتھ بلکل ٹھیک حالت میں ہر روز بیٹھے ہوتے ہیں اور ان کو کوئی پوچھنے والا نہیں کہ آپ یہاں بیٹھ کر مانگ رہے ہیں۔ اس سے بہتر کوئی کام کاج ہی کر لیں مگر ہمارے میں سے ہی کچھ لوگ روزانہ ایسے لوگوں کی انجانے میں عادت پختہ کر رہے ہیں۔ ہم اس تیز ترین وقت کی دوڑ میں یہ بھی بھول جاتے ہیں کہ ایسے لوگوں کی وجہ سے اصل حقدار کس قدر نظر انداز ہوتے ہیں اور کچھ لوگوں کی تو جان پر بن آتی ہے ۔
زندگی کتنی ہی مصروف ہو مگر ہمیں ایک ذمہ دار فرد کی حیثیت کوفراموش نہیں کرنا چاہیےکہ اس سے کسی مجبور بے کس کی حق تلفی ہوتی ہے ۔ہمیں اپنے ارد گرد آس پڑوس میں کسی اصل حقدار کی تلاش کر کے اصل حقدار کو ہی مدد کرنا ہوگی تاکہ ایسے لوگوں کی حوصلہ شکنی ہو ۔
کچھ ماہ قبل جب اللہ کہ گھر کی زیارت کے لیےمیرا سعودیہ عرب جاناہوا تو وہاں بھی یہ اتفاق پیش آیاجی ہمارے پاکستانی تو ملک عظیم کا نام روشن کرنے کی غرض سے جاتے تو عمرہ کرنے ہیں مگر وہاں جا کر گداگری کو ایک پیشے کی طرح استعمال کر رہے ہیں۔ بہت دکھ کی بات ہے کہ ہم خود اپنے ملک کی جگ ہنسایئ کروا رہے ہیں۔ اللہ کی پاک سر زمین پر بھی ہم دھوکہ کر رہے ہیں اور ہمیں کوئی روکنے یا پوچھنے والا ہی نہیں۔ دکھ اس بات کا ہے کہ پاکستانی عورتیں ہی گداگری میں سر گرم تھیں ۔وہاں مچھے ایک بہت بڑا بورڈ دیکھنے میں ملا جس پر بہت بڑے لفظوں میں لکھا تھا کہ گداگری ہمارے ملک کی سالمیت کے لیے نقصان دہ ہے اور اگر آپ کو کوئی ایسا شخص سوال کرے تو آپ ان نمبروں پر اطلاع کریں ۔ میں نے جب یہ تحریر پڑھی تو بعد میں کسی گداگر کو کچھ نہیں دیا بلکہ احتاط کی کہ کسی حقدار کا حق نہ مارا جائے۔ میرے شوہر بھی ساتھ تھے۔ انہوں نے یہ تحریر دیکھی نہیں تھی مجھے کہنے لگے آج کوئی مجھے بہت ہی مجبور ملا جس کو اچھے خاصے ریال وہ دیکر آئے تھے ۔
میں نے انہیں جب اس تحریر کا بتایا تو کہنے لگے مجھے تو پتا نہیں کہ یہاں منع ہے ۔خیر بات صرف اتنی ہے کہ میں نے دیکھا کہ اگر آپ کسی وجہ سے وہاں کسی حادثے کا شکار ہو جائیں تو آپ اپنے گھر والوں کو کال کر کے پیسے منگوا،سکتے ہیں اور اگر آپ عمرہ ادا کرنے جائیں تو نیت عمرے کی ہی رکھیں تاکہ گناہوں کا ازالہ ہو سکے،
اب بات اس پہ آتی ہے کہ جہاں سے یہ برائی شروع ہوئی اس کی وہاں سےجڑ کاٹی جائے۔ 14اگست کے موقع پر بھی حیرت میں گم ہوکر رہ گئی کہ تمام گداگر سبزہلالی پرچم پہنے مکمل تیار ہوکر خاندان سمیت اس آزادی کے دن کو گداگری کے نام کرنے میں مصروف تھے جن میں بچے جوان بوڑھے اور عورتیں بھی شامل تھیں اور ہم جیسے لوگ ان کو پیسے دینے پر مجبور ہو جاتے ہیں کہ راستہ روک کر اور اس قدر تنگ کر کے رکھتے ہیں کہ انسان جان چھڑانے کے لیے پیسے دینے پر مجبور ہوتا ہے جس کا نہ تو دنیا میں کوئی فائدہ ہے نہ ہی آخرت میں ۔ویسے معاملات تو بے شمار ہیں جو ٹھیک نہیں چل رہے مگر ان میں ایک یہ مسئلہ جس پر اگر حکومت کوئی روک تھام کرے تو یقیناَ اس بےجا بڑھتے رحجان پر قابو پایا جاسکتا ہے اور جس کی وجہ سے اصل حقدار کی حق تلفی بھی نہیں ہوگی۔ انشاء اللہ




































