
لبنی ثاقب
" ٹن ٹن گھنٹی بج رہی تھی۔" کہاں ہو سب کب سےگھنٹی بج رہی ہے سب کہاں ہیں کوئی تودروازہ کھولے"
فاخرا بیگم نےکمرے سے آواز لگائی.
"جی جی ہم جارہے ہیں سارا نےکہا۔ اس نے بھاگ کر دروازہ کھولا۔ "اوہ یہ تو میری دوست آئی ہے"سارا خوشی سے بولی۔
سمینہ سارا کی دوست دروازے پرجھنڈیاں لئےکھڑی تھی۔" آؤ آؤ اندر آؤ "سارا خوشی سے بولی. سمینہ اندر آئی مہمان خانے میں بیٹھی۔ "یار کل چودہ اگست ہے ہمارے پیارے ملک کی آزادی کا دن تم نے اپنے گھر جھنڈیاں نہیں لگائیں ،چلو ہم دونوں اور ساجد اور بلال کو بھی بلالو (سارا کے چھوٹے بھائی) مل کر جھنڈیاں لگاتے ہیں اور اگرتمہارے پاس ایک بڑا جھنڈا ہے تو وہ بھی لے آؤ،رسی، قینچی اور گوند یا لئی بھی، اس سے جھنڈیاں لگ جاتی ہیں".
چلو ہاں یہ ٹھیک ہے بلال ، ساجد کہاں ہو تم چلو آؤ چھت کی جھنڈیوں سے سجاوٹ کرتے ہیں" سارا نے اپنے بھائیوں کو آواز دی۔سب نے کہا" واؤ اب تو خوب مزاآنے والا ہے چلو چلو گھر کوجھنڈیوں سے سجا دیں".
پھر سب نے مل کر ایک ایک کر کے ساری جھندیاں لگانا شروع کیں۔
"ملی نغمے بھی لگاؤ نہ بلال بولا۔
سارا نے ملی نغمے لگائےاس طرح خوب اچھی طرح ان کی شام پر رونق ہوگئی ۔
فاخرا بیگم نے چائے سموسوں سےتواضح کی اور ساجد نے جھنڈا لگایا۔
"واہ واہ یہ تو خوب سجی سجی چھت لگ رہی ہے" فاخرا بیگم بولیں.
"امی ہم نے نہ صرف گھر کو سجایا ہے اب میں گھر کے باہر ایک پودا بھی لگاؤں گا اور ملک میں صفائی کا بھی خیال رکھوں گا جگہ جگہ کچرے کا ڈھیر ہوتا ہے اسےکچرےکےڈبے میں پھینکوں گا ۔بزرگوں کا احترام کروں گا "۔بلال بولا۔
سمینہ یہ سن کر بہت خوش ہوئی اور بولیں ۔"ہاں بلال کچھ ایسا کریں ملک کے لئے کہ اسےاورعوام کو فائدہ پہنچے
صرف سجاوٹ نہ ہو اچھے کام بھی ہوں برائیوں کا خاتمہ کرنےکی کوشش بھی کریں توپاکستان بہت جلد ترقی کرے گا.
" امی پتہ ہے میں نے اسکول میں "اس ملک کی ترقی کےلئے ہم کیا کر سکتے ہیں" کے عنوان سے تقریربھی لکھی ہے،آپ دعاکریں کہ میں کامیاب ہوں جاؤں۔" .
"آمین اللہ تمہیں ہرقدم پرکامیاب کرے بچے"۔
آج کی شام تو بہت خوش گوار گزری ہے واہ سمینہ اب اگلی دفعہ میں تمہارے گھرآؤں گی مل کر چھت کی سجاوٹ کریں گے۔ " سارا بولی۔ "ہاں بلکل"۔ سمینہ بولی اور ایک خوبصورت شام اختتام ہوئی ۔




































