
بنت عائشہؓ
چلو آؤ ایک محفل سجاتے ہیں
مل کر محبت کی بات کرتے ہیں
جانتے ہو محبت کسے کہتے ہیں
چلو محبت کو ڈیفائن کرتے ہیں
محبت پتا ہے کیا ہے؟
کہ آپ کہیں معاف کر دے اوروہ معاف کر دے آپ پھر غلطی کریں اور کہیں معاف کر دے اوروہ پھر معاف کر دے آپ پھرغلطی کریں اور کہیں معاف کر دے اور وہ کریم پھرمعاف کر دے۔۔۔۔اور وہ آفر لگا دے آسمان و زمین کو بھر دو غلطیوں سے اور کہو معاف کر دے اور وہ پھر معاف کر دے اورپوچھے بھی نہ کہ دوبارہ تو نہیں کرو گے یا یہ کہے دوبارہ نہیں کرنا ایسا۔
محبت پتا ہے کیا ہے؟
وہ صدیوں پرانی بات ہے چودہ سو سال پہلے ایک ہستی۔۔۔اندھیری رات کو اٹھتی ہیں اپنی روشن آنکھوں سے میرے لیے آنسو بہاتی ہیں۔۔۔وہ آنکھیں جنھوں نے رب کا دیدار کیا ہے۔۔ وہ آنکھیں میرے لیے روتی ہیں حالانکہ میرا وجود بھی نہیں ہے۔۔۔قربانم یاحبیبتی یاخاتم الانبیاء یارسول اللہ ﷺ
محبت پتا ہے کیا ہے؟
گھر میں کچھ کھانے کو نہیں ہے کئی دن ہو گئے ہیں ایک بول پردنیا و آخرت کی بہترین اشیا آپ کے سامنے حاضر ہو سکتی ہیں مگر صبر کا پیکر ہیں، رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور اپنی بیویوں کو حق دیتے ہیں کہ تم میں سے جو جانا چاہتی ہے جا سکتی ہے۔۔ اللہ اکبر!
پھر امی عائشہؓ فرماتیں ہیں یا رسول اللہ نہیں، میں نہیں جاؤں گی۔۔۔اور رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں عائش! اپنے ماں باپ سے مشورہ کر لو!!!
اور رسول کی عائش کہتی ہیں یا رسول اللہ! نہیں، ہرگز نہیں! میں آپ کے بارے میں ان سے مشورہ کیوں کروں، میں کسی سے مشورہ نہیں کروں گی۔ میرے ماں باپ آپ پر قربان آپ کے ساتھ رہنا ہی رہنا ہے بس۔
سلام علیک یا امّ المومنین
محبت پتا ہے کیا ہے؟
بھری محفل ہے اور آپ ﷺ سے پوچھا جاتا ہے سب سے زیادہ محبوب کون ہے؟ اور آپ برملا اظہار محبت سے فرماتے ہیں عائشہ سے
(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، رضی اللہ عنھا)
اللھم اجعلنی رفیقۃ امی عائشہؓ آمین
محبت پتا ہے کیا ہے؟
رسول کریم ﷺ کے شہر کی گلیاں گواہ ہوں ارض وآسماں گواہ ہوں صحابہ چشم دید گواہ ہوں اور رسول اللہ سفارشی ہوں اللہ اکبر!!
حضرت مغیث رضی اللہ عنہ رسول ﷺ کے در پہ عرض کریں رسول اللہ ﷺ بریرہ (رضی اللہ عنھا) سے کہیں نا میرے ساتھ رہے اور بریرہ کہیں یا رسول اللہ مجھے نہیں رہنا۔۔ رسول اللہ ﷺ سفارش کریں مغیث تم سے محبت کرتا ہے اس کیساتھ رہو اور بریرہ کہیں یہ حکم ہے یا مشورہ۔۔۔ حکم ہے تو اطاعت ہو گی مشورہ ہے تو مجھے نہیں رہنا یا رسول اللہ ﷺ۔۔۔اور ایمان کا تقاضا یہ ہے بشر سے جو محبت ہے نا وہ حاوی نہ ہونے پائے اللہ کی محبت پہ!
کیسے؟
ایسے کہ جب آزمائش آئے تو اللہ کی محبت میں سب محبتیں قربان ہو جائیں،پھر وہ ایک ماں ہے ماں۔۔
اپنے چاروں بیٹوں کو راہ جہاد میں قربان کر دیتی ہے۔
پھر وہ غسیل الملائکہ ہیں جو اپنی بیوی کو چھوڑ کر راہ جہاد میں اللہ کا دین بلند کرنے چل پڑتے ہیں۔
پھر وہ امت کے امین ہیں جو جنگ کے میدان میں اپنے کافر باپ کو قتل کر کے اس بات کا ثبوت دیتےہیں. الحب فی اللہ البغض فی اللہ
پھر وہ رب کی محبت میں اذیت سہنے والے ہیں اندھیری راتوں میں تکبیر کہنے والے ہیں
ہم جس معاشرے میں رہ رہے ہیں وہاں سیکولرزم لبرلزم نے محبت جیسے خوبصورت جذبے کو بےحیائی سے ہی جوڑا ہے۔۔۔مگر جب ہم اسلام کو سمجھتے ہیں نا تو معلوم ہوتا ہے محبت تو ہمارے ہر کام کی اساس ہے، گو کہ اس کائنات کا وجود بھی محبت کی اساس ہے۔
اسلام دین فطرت ہے اور کسی سے محبت ہونا فطری عمل ہے مگر حدود اللہ کراس کرنے کی اجازت نہیں ہے اسلام دین فطرت ہے اسی لیے اسلام نے ہمیں سکھایا
حدیث شریف میں ہے:
"عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَمْ نَرَ لِلْمُتَحَابَّيْنِ مِثْلَ النِّكَاحِ»."
محبت کرنے والوں کے لیے نکاح سے اچھی کوئی شے نہیں
(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم،رضوان اللہ علیہم اجمعین)




































