
رشیده صدف/ گجرات
سب وعدے ، جذبے اور رستے
اک خواب ہوئے افسانہ ہوئے
صفیہ خالہ کا گھرانہ ان گھرانوں میں سے ایک تھا جن کی خواتین نے گھر بیٹھےتحریک پاکستان میں اپنا کردار ادا کیا تھا ،وہ ایک پڑھے لکھے کھاتے پیتے گھرانے کی نوجوان لڑکی تھی جب ہر طرف ایک ہی آواز تھی،ایک ہی سچ تھی ،ایک ہی نعرہ تھا ،بن کے رہے گا پاکستان ،بٹ کے رہےگا ہندوستان،
جذبوں کو زنجیر نہیں ڈالی جا سکتی،جوانی بھی ہو،شعور بھی ہو اورپھرمقصد کی لگن بھی تو کام کی رفتار تیز ہو جاتی ہے ۔
مسلم لیگ کا جلسہ ہوتا تو صفیہ ہی اپنی سہیلیوں کے ساتھ مل کر چاند تارے والی ٹوپیاں بناتی اور مل کر قائد اعظم کی زندگی کی دعائیں مانگتیں اور قائد اعظم کے ساتھی جو جلسہ کراتے جلوس نکالتے ان کو چھت پر چڑھ کر محبت سے دیکھنا اور دبی آواز میں نعروں کا جواب دینا پھر گنگناتے رہنا ۔ پاکستان کا مطلب کیا۔لا إله إلا الله
یہ کلمہ گویا دیپک تھا اور ہر اک تھا بس پروانہ پھر کیا ہوا سچے جذبے ، ان تھک محنت۔۔۔اور لاکھوں جانوں کی قربانی سے ، گرتےپڑتے پاکستان بن گیا ۔قافلے بے سروسامانی کے عالم میں پاکستان کی زمین تک پہنچے تو بے اختیار سجدوں میں گر گئے۔ اس پاک سر زمین کو چوم لیا سب کچھ لٹا کر بھی لگتا تھا سب کچھ پالیا ۔ صفیہ خالہ بھی بچ بچا کر پاکستان پہنچ گئی مگر زخمی حالت میں ۔ زخموں کی ٹیسیں بھی۔ اس کے خوابوں میں رنگ بھر رہی تھیں۔ نہ اُسے بھوک بہت تنگ کرتی تھی ،نہ گھٹن سفر، نہ پیاس بس کیمپ میں دوسروں کو حوصلہ دیتی ۔کبھی کسی زخمی کی مرہم پٹی کرتی نظر آتی تو کبھی اپنوں کو تلاش کرتی۔اپنے ادھورے خواب کی تکمیل کے لیے کبھی روتی کبھی ہنستی ۔
کچھ رشتہ دار پہلے ہی پاکستان آچکے تھے انہیں خبرملی تو صفیہ اوراس کے بھائی اور ماں کو وہ گھر لے گئے۔امرتسر میں اتنا بڑا گھر چھوڑ کر آنے والے یہ لوگ اس چھوٹے سے گھرمیں آکر بہت شکر کر رہے تھے ،پھر جو جو ہوا الگ داستان ہے ۔ایسی کہ لکھوں تو صفحوں کے صفحے خون رنگ ہو جائیں ۔ " سب ٹھیک ہو جائے گا "
" خیر ہی ہے "
سنتے سنتے ،کہتے کہتے سال پر سال گزر گئے۔
شادی کے صفیہ خالہ کے تین بچے بھی اب جوان ہونے لگےمگر صفیہ خالہ کو اپنے خواب بکھرتے نظر آنے لگے ۔ دشمن بھی تاک میں رہتا ہے۔ کب کس وقت پشت سے حملہ آور ہو جاتا ہے۔ ستم ظریفی صفیہ خالہ کے گھرانے پر بھی ہوئی ۔اپنے ہاتھوں سے سبز ہلالی پرچم بنانے والی ، گلیوں سے اُٹھا کر چومنےوالی اونچی جگہ پہ رکھنے والی، آنکھوں سے لگانے والی اپنے گھر پر سبز ہلالی پرچم نہ لہر ا سکی ۔ اپنا بیٹا ہی باغی ہو گیا ۔ حالات کی تنگی ، اپنوں کی بے اعتناعی ، ہر کاروبار میں بار بار ناکامی نے اُسے پاکستان سے بددل کر دیا ۔ نفرت کی آگ ایسی کہ نظریہ پاکستان تقسیم ہند اور اکابرین جنہوں نے اپنی ہر چیز اس پاکستان کے لئے وار دی تھی اُن کے خلاف بے تکان بولتا تو صفیہ خالہ کی آنکھوں سے آنسوؤں کی جھڑی لگ جاتی ۔
شوہر دلاور پہلے ہی اللہ کو پیارا ہو گیا تھا، اب بڑے بیٹے سےامیدیں وابستہ تھیں۔ دن گزرتے رہے ، حالات میں اُتار چڑھاؤ آتا رہا ۔ اس کے ہاتھ مشین کے پہیے کے ساتھ مشین بنے رہے ۔ آنے والے وقت سے ان کی امیدیں ٹوٹنے لگتیں تو اپنے جوان ہوتے اورتعلیم یافتہ بیٹوں کو دیکھ کر مسکرانے لگتیں۔ جسے کسی نے بجھتے دیے میں تازہ تیل ڈال دیا ہو ۔صفیہ خالہ نے حالات سنوارنے اور اپنا آشیانہ بنانے کیلئے تمام تر وسائل استعمال کئے جیسے تیسے ہوا قرض لے کر بڑے بیٹے کی اچھے گھر میں پڑھی لکھی لڑکی سے شادی کی دوسرے بیٹے کی منگنی کر دی مگر یہ کیا ؟ صفیہ خالہ کے سر پر اُس دن بم گرا جب بیٹے نے آکر ماں کو اطلاع دی میں اور آمنہ لندن جا رہے ہیں ،ساتھ ہی پاکستان کو صلواتیں سنا دیں ۔ صفیہ خالہ کو جیسے کسی نے کلیجے میں گھونسا مار دیا ہو ۔ بڑا بیٹا تو چلا گیا صفیہ خالہ کچھ عرصہ جدائی میں آنسو بہاتی رہی پھر ممتا کی ماری نے صبر کر لیا ۔ سب سے زیادہ صفیہ خالہ اُس دن ٹوٹی جب اپنی سی وی اور انٹرویو کی فائلیں چھوٹے کامران نے لا کر صحن میں رکھ کر آگ لگا دی اور پاگلوں کی طرح اول فول بکنے لگا ۔ کامران بھی عثمان کی طرح اپنے مسائل کا ذمہ دار ملک و قوم کو ٹھہرا رہا تھا اُسے ہر خرابی اپنے وطن میں نظر آ رہی تھی۔ یوں لگتا تھا ابرہیم کے گھر آزر پیدا ہو گیا ہے ہو ۔
صفیہ خالہ اُسے سمجھاتی سب ٹھیک ہو جائے گا بیٹا،آج نہیں تو کل حالات بہتر ہو جائیں گے کامران تو بس ہوا کے گھوڑے پر تھا حال کو کوسنے لگا - ماں یہ سب؟؟ آپ کی وجہ سے ہورہاہے ۔
یہ امانت دیانت اور سچ کا سبق ہی ہمیں ے ڈوبا ہے ۔ان حالات میں بہن کی شادی کیسے ہوگی؟؟
اماں ہجرت کا شوق بھی آپ کا تھا ،پھر حلال رزق کی نصیحتیں آپ ہی کی تھیں ناں ہر وقت وطن کی محبت کے گیت آلاپتی رہتی ہیں مجھے بتائیں کیا دیا ہی ہمیں اس ملک پاکستان نے ؟؟بھوک ، مہنگائی ،کرپشن یہ ہی ہے آپ کا پاکستان ؟؟پھر بھی آپ اس کے ساتھ چمٹے رہنا چاہتی ہیں آج امریکہ ویزے کھول دے تو پورا پاکستان خالہ ہو جائے یہ سچ ہے ۔میں تو وطن چھوڑ رہا ہوں مجھے دیں جو جمع پونجی ہے ۔بس مجھے نہیں رہنا اس ملک میں۔ورنہ میں ۔۔۔
کامران دھمکیوں پر اتر ایا،مصلحت کی بنا کرماں اور بہن چپ ہوگئیں گر کامران کےمطالبے میں شدت ہی تھی ۔
صفیہ خالہ نے ہر طرح سے سمجھایا اپنی بہت سمجھدار دوست منور صاحبہ سے مشورہ کیا ،روتے روتے بےحال ہوگئیں ۔منور بہن یہ آج کل کے لڑکوں کو اپنی مٹی کی مہک محسوس کیوں نہیں ہوتی یہ کیوں نہیں سمجھتے دوسرے ملکوں میں جاکر ان کی چاکری کرکے جوانی کا رس ،اپنی نسلیں چند ٹکوں کے عوض بیچ دیتے ہیں ۔ایک نسل کے بعد دوسری نسل تو انکی ہی ہوتی ہے ناں منور بہن!
منور صاحبہ نے مشورہ دیا کے چلو اگر نہیں سمجھتا تو یورپ کی جگہ سعدیہ یا دوبئی جانے پر آمادہ کرلو۔جوان بچوں کے سامنے ضد نہیں چلتی ۔
صفیہ خالہ کی آنکھیں باربار چھلک پڑتیں اور چہرے کا رنگ سفید پڑگیا،بولیں دیکھتی ہوں ،مگر کیسے؟؟
آواز ایسے جیسے گہرے کنوئیں سے آرہی ہو
تجدیدِ وفا کے موقع پر
یہ پوچھ رہی ہے ارض خدا ؟؟
یہ وطن ابھی آزاد نہیں ؟؟
یہ نگر ابھی آزاد نہیں ؟؟
منور بہن!لویہ انگوٹھی اور بالیاں بیچ دو جو میں نے ہانیہ کے لیے مشین چلا چلا کر بنوائی ہیں ۔ بند مٹھی کیاکھلی سارے خواب ایک پل میں اڑ گئے ۔۔
اس کے خوابوں کی دنیا اجڑ گئی ہے ،یہ کہتے ہوئے گھر جانے کو تیار ہوئی ۔




































