
فوزیہ اسرار/ مریدکے
اٹھارہ سو ستاون کی جنگ آزادی نے مسلمانوں کو بہت پیچھے چھوڑ دیا۔ان کا دین اور مذہب بس چند رسومات تک محدود ہو کر
رہ گیا۔اور وہ رسومات بھی ہندووں کے ساتھ رہنے کی وجہ سے ایک آمیزہ بن گئی تھیں جس میں مختلف مذاہب کے رنگ اور خو شبو ملتی تھی۔کہیں بالکل ہی ہندو اور انگریزوں سے احتراز تھا اور کہیں سر سید احمد خان اور دوسرے رہنماؤں کی کوششوں سے درمیان کی راہ اختیار کر لی گئی تھی لیکن خالص اللہ کی وحدانیت اور اسلام کا تصور کہیں گم سا ہو گیا تھا ۔
ایسے میں بہت سے بندگان خدا نے لوگوں کو اصل حقیقت اور اسلام کی طرف لانے کی کو شش کی۔انہی میں مولانا مودودی رحمتہ اللہ علیہ بھی شامل ہیں۔مولانا صاحب کا کارنامہ یہ ہے کہ انہوں نے اسلام کو جامد اور ساکن بنا کر پیش نہیں کیا بلکہ متحرک مربوط کیا۔اسلام کا جو اصل طریقہ تھا کہ اس کی اشاعت کی جائے تاکہ یہ اگلی نسلوں تک پھیلے، اس کو جاری کیا۔مولانا مودودی رح نے اس مقصد کے لیے اخبار میں اشتہار دیئے جو لوگ اسلام کو جان بوجھ کر قبول کرناچاہتے ہیں وہ اکٹھے ہوں اور یوں 26 اگست 1941 کو جماعت اسلامی کی تشکیل عمل میں لائی گئی۔
یہ جماعت 75 نفوس اور 75 روپے کے قلیل سرمائے سے شروع کی گئی۔ اس تحریک کے اجتماعات میں کلمہ طیبہ پڑھا کر تجدید ایمان بھی کروایا جاتا اور اس پر غوروفکر کی دعوت بھی دی جاتی۔اس کے علاوہ حلف رکنیت جس میں اپنی ساری زندگی اللہ کے آحکام کے تابع گزارنے کا عہد کیا جاتا ہے۔تعلق باللہ،تعلق بالقران،توکل علی اللہ،حاکمیت الہیہ،اقامت دین،جیسی اصطلاحات کو متعارف بھی کروایا اورسمجھایا بھی۔
جماعت اسلامی کے قیام کے بعد مولانا مودودی رح کو لوگوں نے اس کے امیر کے طور پر چنا۔مولانا مودودی مرحوم نے اس جماعت اور تحریک کو قائم کرتے ہوئے اس کے نام ،طریقہ کار،لائحہ عمل سب کو واضح کیا۔مولانا مودودی مرحوم کی تقاریرجماعت اسلامی کے لئے گراں قدر سرمایہ ہیں۔آج بھی یہ تقاریر تمام کارکنان کو پڑھائی جاتی ہیں۔مولانا مودودی (رح )نے تفہیم القران لکھ کر مسلمان امت پر احسان عظیم کیا ہے۔
یہ آسان فہم تفسیر پڑھے لکھے اور کم پڑھے لکھے طبقے کے لئے مشعل راہ بنی۔ قیام پاکستان سے پہلے مولانا مودودی مرحوم کا نظریہ تھا کہ ہمیں اسلام پسند اور باعمل مسلمانوں کا ایک گروہ عظیم تیار کر لینا چاہیے جو علیحدہ ملک کی باگ دوڑ جب سنبھالے تو قیادت کی بنیادی خوبیوں سے متصف ہولیکن اس وقت اٹھنے والی تحریک پاکستان نےپاکستان کے قیام پر جاکر اختتام کیااور ایسے میں مولانا مودودی کی اس سوچ کی وجہ سے ان پر الزام عائد کیا گیا کہ وہ قیام پاکستان کے خلاف تھے۔
قیام پاکستان کے وقت جماعت اسلامی کو بھی دو حصوں میں تقسیم کر دیا۔ جماعت اسلامی پاکستان کے پیش نظر پہلا کام اسلامی قانون کی تشکیل تھا۔اس کے لئے 1949 میں جو قرار داد مقاصد منظور ہوئی اس میں جماعت اسلامی کی خدمات شامل تھیں ۔اس کے بعد جب اور جہاں ملک کو ضرورت پڑی جماعت اسلامی اپنے تمام وسائل کے ساتھ میدان عمل میں موجود رہی ۔قادیانیوں کو کافر قرار دینے کے لئے جماعت اسلامی نے ہی تحریک اٹھائی اورقادیانیوں کو اسلام سے خارج قرار دیا گیا۔اس کے بعد مولانا محترم پر مسئلہ قادیانیت لکھنے کی وجہ سے سزائے موت سنائی گئی لیکن مولانا صاحب نے تاریخی قول کہا کہ اگر اللہ کی مرضی نہیں تو یہ مجھے لٹکانے والے خود لٹک جائیں گےاور پھر عالمی دباءو پر مولانا صاحب کو بری الزمہ قرار دیا گیا۔یوں جماعت اسلامی ہمیشہ پاکستان کے ساتھ کھڑی نظر آتی ہے۔
مولانا مودودی مرحوم کے بعد،مولانا طفیل محمد،قاضی حسین احمداوران کے بعد منورحسن،سراج الحق اوراب محترم حافظ نعیم الرحمن صاحب کی قیادت میں یہ جماعت اپنے 83 سال مکمل کر رہی ہے۔الحمدللہ اس جماعت نے پاکستان کو ھیرے اور موتیوں سے قیمتی انسان دیےجن کے دامن کرپشن کے داغ سے پاک ہیں جن کی نیتیں بھری ہیں جن کے دل بڑے ہیںجو اسلام کے پرچار کے جذبے سے سر شار ہیں اور اس وقت اس کے اراکین کی تعداد ہزاروں اور شاید لاکھوں میں ہے۔
اللہ کے بندے مقدور بھر کوششیں کر رہے ہیں اور اسلامی انقلاب کے امید وار ہیں۔اس کام میں اپنا مال ،وقت،صلاحیتیں سب لگا رہے ہیں۔دیکھیں اللہ کب اس ملک میں اسلامی انقلاب دیکھنا نصیب کرتا ہےلیکن جماعت اسلامی آپ کو رب سے جوڑتی ہے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت پیدا کرتی ہےاورصحبت صالحہ فراہم کرتی ہے۔
جماعت اسلامی کا مردوں،عورتوں،بچوں اور جوانوں سب میں منظم کام ہے۔اس کے علاوہ جماعت اسلامی یونیں کونسل کی سطح سے لے کر مرکز کی سطح تک ہے۔اس میں تربیتی سٹیجز کارکن،امیدوار اور رکنیت تک ہیں۔اس کاحلقے سے لے کر مرکز تک نظم موجود ہے۔اس کی کارکردگی دعوت تربیت اور تنظیم کے نکات کے تحت جانچی جاتی ہے۔یہ دعوت کے تمام ذرائع ،ملاقاتیں،لٹریچر،دعوتی اجتماعات کا استعمال کرتی ہے۔تربیت گاہیں اس کے افراد کی تربیت کے لئے رکھی جاتی ہیں اور اس کے علاوہ ہر سطح پر جائزے کے اجتماع رکھے جاتے ہیں۔جماعت اسلامی کے کارکنان تا ارکان سب اعانت دیتے اور فنڈز بھی اکٹھا کرتے ہیں ۔جماعت اسلامی کے بیت المال کا آڈٹ بھی ہوتا ہے اورایک ایک پیسے کا حساب رکھا جاتا ہے۔
جماعت اسلامی کے ادارے بھی ہیں، جیسے آغوش ہوم جو یتیم بچوں کی کفالت کے لئے ہے۔ الخدمت کی خدمات سب کے سامنے ہیں۔الحمدللہ لوگ الخدمت پر بھروسہ اور اعتماد کرتے نظر آتے ہیں ۔غرض مولانا مودودی صاحب اپنے پیچھے وہ صدقہ جاریہ چھوڑ گئے ہیں کہ جس سے روزانہ کی بنیاد پر لاکھوں کروڑوں نیکیاں ان کے نامہ اعمال میں لکھی جاتی ہوں گی۔اللہ جماعت اسلامی کی اسلامی انقلاب کےلئے کی جانے والی کاوشیں قبول فرمائے۔اور جماعت سے وابستہ تمام افراد کو اس زمہ داری کو سمجھنے کی توفیق دے۔




































