
مائدہ نوید/ نگران حریم ادب /گوجرانوالہ
اشفاق احمد
یوم وفات :۷ ستمبر ۲۰۰۴۔
۷۹ سال کی عمر میں لاہور میں ان کی وفات ہوئی اور ماڈل ٹاؤن کے قبر ستان میں آسودۂ خاک ہیں
اردو ،پنجابی کے نامور ادیب
افسانہ نگار اور ڈرامہ نگار اور دانشور
براڈ کاسٹر صوفی اشفاق احمد ۲۲ اگست ۱۹۲۵ میں بھارت پنجاب میں مکستر ضلع فیروزپور میں پیدا ہوئے
اردو کے اعلی بلند پایا ادیب تھے وہ ایک ایسی شخصیت تھے جنہوں نے اپنے الفاظ کے ذریعے کڑوڑوں لوگوں کے دلوں کو مسحور کیا اور ایک فکری روشنی سے مالا مال کیا " افسانہ نگاری " سے اپنے ادبی سفر کا آغاز کیا ان کی کہانیوں میں انسانی جذبات ، سماجھی مسائل اور روحانیت کے موضوعات کو بڑی خوبی سے بیان کیا گیا ہے
ان کی تحریروں میں گہرائی ، سادہ پن اور انسانیت سے محبت کی جھلک نمایاں ہے
ان کی تصانیف میں انسان کی داخلی کیفیات اور معاشرے کے مسائل کو بڑی گہرائی سے بیان کیا ہے
حکومت پاکستان کی طرف سے انھیں "صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی " ستارہ امتیاز "اور "ہلال امتیاز "سے نوازا !
ان کے ابتدائی افسانوں میں گڈریا ،مہمان ،اور بہار شامل ہیں ان کے علاوہ بیشمار تصانیف اور ریڈیو پاکستان کی ۴۱ سال ایک پروگرام "تلقین شاہ " کے رائٹر تھے یہ پروگرام ریڈیو پاکستان کے آسمان پر ستارہ بن کے چمکتا رہا
اردو کی نامور ادیبہ بانو قدسیہ ان کی شریک حیات ہیں
ان کے ایک انٹرویو میں انہوں نے محبت کو اپنے لکھنے کے انداز کی اول کڑی بیان کیا ہے میں یہاں ان کی زبانی ہی یہ تحریر رقم کر رہی ہوں
ان کا کہنا تھا
کہ ابتدا میں گائوں میں رہتے تھے۔ گائوں کے لوگ کچھ گھامڑ اور سیدھے ہوتے ہیں۔ باوجود کھردرے اور کرخت ہونے کے ان میں محبت کا عجیب سا انداز ہوتا ہے مثلاً گائوں کی ایک اَن پڑھ ماں جو اپنے بچے کو پھٹے پرانے کپڑوں میں لیے پھرتی ہے‘ ایسی محبت مجھے شہروں میں نظر نہیں آئی۔ جب میں یونیورستی کا علم حاصل کر چکا اور لکھنا شروع کیا تو محبت ہی کے موضوع پر لکھتا رہا۔ بچے کی کھلونے یا کتے سے محبت‘ یا نانی اماں کی اپنے پوتے سے محبت۔ یہ لوگ محبت کرتے سمے کبھی یہ نہیں کہتے کہ وہ محبت کر رہے ہیں۔ اس کا اظہار تو ان کے رویے سے ہوتا ہے۔ میں نے بچپن میں محبت کے جتنے مظاہر دیکھے تھے جب انہیں لکھ چکا تو عمر کے اس مرحلے میں مجھے ضرورت محسوس ہوئی کہ میں بابا لوگوں کے پاس جائوں۔ پھر مزاروں پر فقیروں کے ڈیرے پر جانے لگا۔ ان کے ہاں بھی میں نے یہی دیکھا کہ سب سے زیادہ جلوہ محبت ہی کا کارفرما ہوتا ہے۔ کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ شاید میں صوفی بن گیا ہوں۔ نہیں ایسا نہیں ہے۔ میں تو ان لوگوں کو دیکھ کرتحیر میں مبتلا ہوں۔ میں نے محبت کرنے والے گیارہ آدمیوں کو اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے اور جتنے لکھنے والے ہیں ان میں شاید ہی کوئی ایسا خوش نصیب ہوگا جس نے تین‘ چار محبت کرنے والے بھی دیکھے ہوں۔ محبت کرنے والے سے مراد ہیر رانجھا اور سوہنی مہینوال نہیں بلکہ وہ محبت ہے جو صلے اور ستائش کی تمنا سے بے نیاز ہو کر خلق خدا سے کی جائے۔ میرے ایک بابا ہیں۔ بابا فضل شاہ۔ میں نے ایک بار ٹٹولنے کی غرض سے ایک شخص کے خلاف انہیں انگیخت کیا اور کہا کہ وہ بڑا مکار شخص ہے اور آپ کی عدم موجودگی میں آپ کو برا بھلا کہتا رہتا ہے اور اب کی اس نے ایسا کیا تو ہم اسے زدوکوب کریں گے۔ بابا نے جواب دیا ’’نہیں‘ وہ برا آدمی نہیں ہے‘ وہ صرف علم کی کمی کی وجہ سے ایسا ہے لہٰذا اسے تم برا نہ کہو۔‘‘ دیکھیے یہ محبت کی وہ شکل ہے کہ جب آدمی اس میں ایک بار مبتلا ہوتا ہے تو پھر اس محبت کی حالت میں وہ فوت ہوتاہے۔ فوت نہیں ہوتا‘ امر ہو جاتا ہے۔
ان کے خیال میں انسان محبت ہی سے سب سیکھتاہے اور محبت بانٹنا ہی اس کی زندگی ہونا چاہیے ان کی تصانیف !
ایک محبت سو افسانے (مطبوعہ 1951ء۔ 13 افسانے)
توبہ
فہیم
رات بیت رہی ہے
تلاش
سنگ دل
مسکن
شبِ خون
توتا کہانی
عجیب بادشاہ
بندرابن کی کنج گلی میں
بابا
پناہیں
امی
* اُجلے پھول (مطبوعہ 1957ء۔ 8 افسانے، 1رپورتاژ)
اُجلے پھول
گُل ٹریا
تنکہ
حقیقت ست نیوش
توشے بلے
صفدر ٹھیلا
گدڑیا
برکھا
ایل ویرا (روم سے رپورتاژ)
* سفرِ مینا (مطبوعہ 1983ء۔ 11 افسانے)
اٹوٹ مان
قاتل
قصہ نل دمنیتی
چور
مانوس اجنبی
بیا جاناں
محسن محلّہ
پانچ میل دور
کالج سے گھر تک
گاتو
فُل برائٹ
* صبحانے فسانے
اماں سردار بیگم
خود بدولت
آڑھت منڈی
بٹیر باز
ماسٹر روشی
خانگیٔ سیاست
مسرور مرثیہ
شازیہ کی رخصتی
بے غیرت مدت خان
بندر لوگ
ڈھور ڈنگر کی واپسی
رازداں
پلِ صراط اور پاسپورٹ
وکھو وکھو
قصہ شاہ مراد اور ایک احمق چڑیا کا
مہمان عزیز
بیک گراؤنڈ
زرناب گل
دم بخود
بدلی سے بدلی تک
چاند کا سفر
سہیل کی سالگرہ
* پھلکاری
داؤ
اپنی ذات
رشوت
سلامتے کی ماں
* غیر مطبوعہ افسانے (مختلف مجلات اور ادبی رسائل میں شائع ہوئے)
گھر نائیاں اور گھروندے
سونی
قصاص
طنز و مزاح
ترمیم
* قلمکار
* گرما گرم
ناولٹ
ترمیم
* مہمانِ بہار (مطبوعہ 1955ء)
* کھیل تماشا
دیگر
ترمیم
* ہفت زبانی لغات
* ایک ہی بولی
* بابا صاحبا
* طلسم ہوش افزاء
* زاویہ
* مہمان سرائے
* شہر آرزو
* عرض مصنف
* پڑاؤ (تلقین شاہ)
* آشیانے (تلقین شاہ)
* بندۂ زمانہ (تلقین شاہ)
سفر نامہ
ترمیم
* سفر در سفر
تراجم
ترمیم
* ودائے جنگ (ارنسٹ ہیمنگوے کے ناول اے فیئر ویل ٹوآرم کا ترجمہ)
* چنگیزخان کے سنہری شاہین (ریٹا رتاشی کے ناول دی گولڈن ہاکس آف جنگس خان کا ترجمہ)
* دوسروں سے نباہ (ہیلن سیڈمن شیکٹر کے ناول گیٹنگ الانگ ود ادرز کا ترجمہ)
شاعری
ترمیم
* کھٹیا وٹیا (پنجابی شاعری)
ٹی وی ڈرامے
ترمیم
* ایک محبت سو ڈرامے (1988ء)۔
* قلعہ کہانی (1990ء)۔
* ٹاہلی تھلے
* اچے برج لاہور دے
* ننگے پاؤں (1991ء)
* اور ڈرامے (1993ء)
* حیرت کدہ (1995ء)
* توتا کہانی (1998ء)
* بند گلی
* شاہلہ کوٹ
* مہمان سرائے
* من چلے کا سودا
* تلقین شاہ
گلدان
جنگ بہ جنگ
حسرتِ تعمیر
دھینگا مشتی
ڈھنڈورا
شورا شوری
زاویہ (90 اقساط)
فیچر فلم
ترمیم
* دھوپ اور سائے (بطور مصنف و ہدایت کار)




































