
خالدہ خرم
حیا کےمعنی شرم کے ہیں ۔ اصل میں اس نام میں ہی اتنی خوبصورتی اورکشش ہے کہ سننے میں ہی ایک بردباری عزت اور ایک قسم کا رکھ رکھاؤ اورحسن جھلکتا ہے ۔ ویسے
تو انسان کو اس کی اہمیت حضرت آدم علیہ السلام اور بی بی حوا کے وقت سے ہی ملی ہے،اگر غورکریں تولیکن پھراس کے بعد صدیوں تک اس کی قسمیں بدلتی رہی اور پھرایسے ایسے دور گزرے کہ عورت کو ادنی اور بہت ہی کم درجے کی مخلوق سمجھا گیا اوراسلام سے پہلےتو عورت کو ایک ذر خرید غلام سے تشبیہ دی گئی اور کبھی پیر کی جوتی سمجھا گیا ، حد تو یہ تھی کہ پیدا ہوتے ہی زندہ دفن کر دیا جاتا تھا مطلب ہر شعبے میں ہر رشتے میں اس کا معیار گرا ہوا رہا اوربہت زیادہ اس صنف نازک نے نشیب و فراز دیکھے پھرایک ایسا دور آیا کہ اس عورت کو عزت اور تمام مقامات ملے۔
معاشرے میں بلند ترین حیثیت دی گئی گھر کی ملکہ سمجھا گیا،قانونی اور دینی لحاظ سے حیثیت ملی اوراس کی عظمت کو قیمتی چیزسمجھا گیااور قدروعزت کی نگاہ سے دیکھا جانے لگا یہ جو انقلاب برپا ہوا صرف اور صرف (ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ والہ وسلم) کے اسلام لانے اور اللہ کی وحدانیت سے متعارف کروانے کے بعد ملا ۔
ہر مسلمان مرد اور عورت یہ بات سمجھتی ہےکہ آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نےدین اسلام کو اتنی آسانی سے نہیں منوایا تھا ، ظلم اور ستم کی ایک لمبی داستان ہےجولفظوں میں بیان نہیں کی جاسکتی لیکن جب ہم آج اپنے ارد گرد نظر ڈالتے ہیں تو بہت افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہےکہ حیا ، حجاب اور نقاب کو فئشن بنا لیا گیا ہے ۔
آج کی عورت کا جب دل ہوتا ہے برقعہ پہن لیتی ہے ۔جب دل ہوتا ہے نقاب لگا لیتی ہے، یعنی اسے پردے کا مطلب اورمقصد ہی نہیں معلوم ۔ اس سلسلے میں ہمارے پیارے نبی کی بہت احادیث ہیں جن میں سے میں چند ایک بتاتی چلوں ، آپ صلی (اللہ علیہ والہ وسلم)کا فرمان ہے کہ جب تجھ میں حیا نہیں توجو تیرادل چاہے تو وہ کر۔
ایک اور بہت پیاری حدیث ہےکہ ہر دین کا ایک اخلاق ہوتا ہے اور اسلام کا اخلاق حیا ہے۔ (ابن ماجہ ) کی حدیث ہے یہ اور اس کے علاوہ (سورہ نور)میں میں پڑھ رہی تھی ہمارادین تو اتنا پیارا ہے کہ عورت کو اٹھنےبیٹھنےبولنے اور ہنسنے کے بھی طور طریقے سکھائے ہیں ۔
سورہ نور میں ہے کہ اور وہ اپنے پاؤں زمین پرمارتی ہوئی نہ چلے جوزیورانہوں نے پہنے ہوئے ہیں اس کی آواز یعنی جھنکار سنائی نہ دے۔ بس مختصراً یہ کہ اللہ جل شانہ ہمیں نمائش حسن اورشیطانی ہتھکنڈوں سےدور رکھے اور اپنی بتائی ہوئی ہدایت پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین ثم امین




































