
نیرنگِ خیال /عریشہ اقبال
زبان سے توعقیدت کے نذرانےپیش کرنے کو تیارہیں
یا رسول اللہ ہم تو آپ پر جان بھی وارنے کو تیار ہیں
آپ کے معراج پرتشریف لےجانے کے واقعے سے لے کر آپ کے طائف کی قربانی تک کے قصے سنانے کوبھی تیار ہیں ۔کتنا آسان ہے نایہ سارے دعوے کرنا مگرکبھی میرا اور آپ کا دل اس کیفیت میں مبتلا ہواکہ وہ جو آنکھیں اشک بار ہوئیں ۔وہ جو صبر و استقامت کا عظیم نمونہ امت کے لیے نبی مہربان بطور امانت رکھ کر گئے۔
وہ راہ حق پر چلنے اوراس کی خاطر مصائب و الام کے جواب میں امید کا دامن تھامے رکھنا اور ان الفاظ کا زبان مبارک سےادا ہونا کہ گویا کسی مالا کے خوبصورت موتی ہوں کہ فرشتے کہ رہے ہیں آپ ایک حکم دیں تواس بستی کوتلپٹ کردیں مگراللہ کی رحمت کی امید کا منظر تودیکھیےکہ مجھے امید ہے کہ ان کی نسل سے اسلام پھیلے گا ،پھر ان تمام خیالات کےگرد سفر کرتا ہوئے میرے دل نے ایک صدا لگائی اورجانتے ہیں وہ صدا کیا تھی۔
یا رب امتی !
کچھ یاد آیا یقیناً یاد آگیا ہوگا ، یہ وہ الفاظ ہیں جن کو آج ہم آپ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کےنام نہاد امتی لے رہےہوتے ہیں گویا یہ حق تو ہمیں ماں کی گود سےبغیر کسی محنت کےمل گیا ہو کہ آپ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کے امتی ہیں تو سیدھا جنت میں جائیں گےمگر یہاں آکر مجھے اورآپ کو ٹھہرنے کی ضرورت ہے کیونکہ جس محبت کا دعویٰ ہم نبی آخر الزماں حضرت محمد صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم سےکررہے ہیں کیا،وہ ہم سےصرف اتنا ہی مطالبہ کرتا ہے؟ کیا صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین جو رسول اللہ کی محبت کا ایک ایسا مظہر اور ایک ایسی جیتی جاگتی مثال ہیں کہ امت کی راہنمائی اورمحبت رسول کے ضابطے اور اس کے تقاضے ان کی پوری زندگی میں ہمیں نظر آتے ہیں کیا عشرہ مبشرہ جن کو جنت کی بشارت دنیا میں ہی دے دی گئ وہ ایسے ہی اس کے حقدار ہوگئے تھے ،نہیں بلکل نہیں انہوں نے محبت کا حق ادا کیا تھا
سمعنا واطعنا کا رویہ اختیار کیا تھا
جو نبی تمہیں دیں وہ لے لو اور جس چیز سے منع کریں اس سے رک جاؤ(القرآن)اور اس جیسی کئی آیات کو اپنے عمل میں ڈھال کر بتایا تھا یہ ہے اصل عقیدت و محبت کا مفہوم جو امت محمدیہ کو سمجھنے کی ضرورت ہے جس میں مرد و عورت کی کوئ تخصیص نہیں اور اپنی نسلوں تک منتقل کرنے کا فریضہ ان کا منتظر ہے ۔
میں سمجھتی ہوں عمل کے بغیر ہر تجویز ادھوری ہے نامکمل ہے وہ انگریزی کی ایک کہاوت ہےنا اعمال الفاظ سے زیادہ بلند ہوتے ہیں ۔
الاقصی منتظر ہے میری اور آپ کی عافیہ صدیقی کو تلاش ہےاس حجاج بن یوسف اور محمد بن قاسم کی
امت کو ضرورت ہے اس نور الدین زنگی کی،آج کے دور کو تلاش ہے حسن البنا کی ،یہ اور اس جیسے کئی عاشق رسول صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے سامنے مثالوں کے طور پرموجود ہیں اب میرا اور آپ کا کام یہ ہے کہ ہم نے عشق رسول صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کا حق ادا کرنا ہےاور اپنا کردار ادا کرنا ہے،اس شفاعت کے لیے یا رب امتی ۔




































