
شاہدہ اقبال/ لاہور
عشق نبی ہر مسلمان دل میں جلتا چراغ ہے۔۔۔ایک لعل وگہرجو دنیا کی سب سے قیمتی متاع ہےاس کے پاس۔ایک قوت جس کی بدولت وہ دنیا کی ہرطاقت کے
آگے کھڑا ہوسکتا ہے ۔
مسلمان کو ویسے بھی دنیا کی امامت کے لیے پیدا کیا گیا ،اس کا فرض عین و نصب العین ہےکہ وہ دنیا میں اسلام کو غلبہ دے ،اس بڑے مشن کے لیے اس کے پاس نبی سےعشق کی قوت موجود ہےاوراسی بنا پر وہ سنت رسول کا دلدادہ ہے۔
سنت رسول اس کی پوری کردارسازی کرتی ہے۔۔۔۔ اتباع اوراطاعت سکھاتی ہے۔۔۔اورایسی محبت جونبی کا پیروکار نہ بنائے،نبی کی محبت کی علمبردارنہیں، یہ محبت دھوکہ ،فریب، نفاق، جھوٹ اور دکھاوا ہے۔چال ڈھال اوراخلاقیات میں نبی کا امتی پہچانا نہ جائے تو وہ امتی کہلانے کا حقدار نہیں۔عدل و انصاف ،امانت ،اخلاق و کردار ،مسجد اور گھر، سیرت نبوی کی عکاس نہی تویہ رسول اللہ سےوفا نہیں ۔وفا کا حق ہے کہ ہم پورے کے پورے خود کو بدلیں اور نظام دنیا کو بدلیں ۔ اج اپنی قوم اور امت مسلمہ اخلاقی ، معاشی اور سیاسی حالت کو دیکھ لیں ۔
اسلام دشمن وہ مخالف قوتوں کو دشمن حق کے طور پر دیکھ لیں ۔
اورآج کے مسلمان کی تصویر دیکھ لیں ۔وضع میں نصاری یہود ،عیش کوشی اورحرام و حلال کی تمیزسے ماورا،عیش وطرب کا دلدادہ، لعوولہب کا قیدی،طلب دنیا کا متلاشی جب فلسطین پکارے تو اندھا بہرا۔۔۔ گونگا!شیطانی قوتوں کا آسان شکار۔
حق وفا کیا ہے ؟
قوت عشق سےہرپست کو بالا کر دے
دہر میں اسم محمد سے اجالا کر دے




































