
ثمینہ مجید / قصور
یہ انسانی کتے کیا ہیں ؟
توسنیے ٹرانسجینڈر اورایل جی بی ٹی کیو کے بعد کے بعد یورپ کے اندرانسانی کتوں کی تعداد میں دن با دن اضافہ ہوتا نظر آرہا ہے، ہیں تو یہ انسان مگر ان کا کہنا ہے ہمارے اندر کتوں والی خصوصیات پائی جاتی ہیں۔انہوں نے خود کے لیے ایک الگ ملک کا مطالبہ بھی کرلیا اور ساتھ ہی ساتھ اپنے لیے ایک الگ جھنڈا بھی متعارف کرایا ۔اور اس پر جھنڈے پر ہڈی کی شکل بنائی گئی ۔جو کے کتے ہونے کی علامت کو ظاہر کرتی ہے۔یہ نا صرف یورپ میں بالکل کینیڈا میں بڑی تعداد میں نظر آرہا ہیں اصل میں انکو لگتا ہے کہ یہ حقیقت میں انسان نہیں بالکل کتے ہیں۔انکی حرکت و سکنات بھی
کتوں والی ہے ۔گلے میں پٹا پہنا اور منہ پر کتوں والا ماسک اورکتوں کی طرح چلنا اورکتوں کی طرح کھانا
کتوں کی طرح بھونکا ،اور کتوں کی طرح انسانوں کوکاٹنا بھی شامل ہیں کیا لگتا ہے ؟؟؟کتا بنا اتنا آسان ہے
کوئی بھی اٹھے اور خود کو کتا کہے اور کتوں میں شمار کرنا شروع کر دیں ۔نہیں بالکل بھی نہیں
یورپ میں ان کتوں کی ٹریننگ کی باقاعدہ اکیڈمیز بنائی گئی ہیں جہاں پر انکو کتوں کی طرح ٹرین کیا جاتا ہے
تاکہ یہ لوگ کتوں والے اطوار سیکھ سکیں
ابھی بات یہاں ختم نہیں ہوتی
بلکہ انہوں نے مطالبہ کیا پبلک ٹرانسپورٹ کےاندران کے لیے یعنی ہیومن ڈاگز کے لیے الگ مختص سیٹسں رکھی جائےجہاں پر وہ کتوں کی طرح بیٹھ کر سفر کریں گے۔اور ان کتوں کا واضح فرق نظر آسکیں ۔ان انسانی نما کتوں کی تعداد میں دن با دن اضافہ ہو رہا ہے ۔صرف اور صرف برطانیہ کے 10 ہزار لوگ سامنے آئے ہیں اور باقی ملکوں میں بھی بھاری تعداد سامنے آرہی ہیں ۔ان میں صرف کتے نہیں بلکہ کتیاں بھی ہیں ۔ یعنی وہ عورتیں جن کو لگتا ہے ان کے اندر بھی کتیوں والی خصوصیات یا حرکات ہیں۔ ان کتوں میں کوئی عام انسان نہیں بلکہ اعلی تعلیم یافتہ اوراچھی پوسٹ پر لگے انسان شامل ہیں اور برطانیہ کے اندران ہیومن ڈاگز کی خدمات کھوجی کتوں کے طور پر بھی لی جارہی ہے
ہائے افسوس۔
ہمارے ہی معاشرے کےبہت سارے لوگ جواس آزادی کی حمایت کرتےہیں اوراس کو بہت اچھا سمجھتے ہیں،
نتائج ہمیں گاہے بگاہے ان کی آزادی کےنظرآتے رہتے ہیں ۔اگر انہیں آزادی ملتی ہے تو یہ لوگ اس آزادی کی وجہ سے نکل کرسامنے آتے ہیں اور دنیا میں کچھ نیا متعارف کرواتےہیں ۔ہمیں اللہ سبحانہ و تعالیٰ کا بہت بہت شکر ادا کرنے کی ضرورت ہے، سب سے پہلے ہمیں مسلمان بنایا اورساتھ ہمیں اشرف المخلوقات ہونےکے درجے پربھی فائزکیااورہمیں ایک مخصوص مقام عطا فرمایا ۔
علامہ اقبال نے کیا خوب کہا تھا
دیارِ مغرب کے رہنے والو! خدا کی بستی دکاں نہیں ہے
کھرا جسے تم سمجھ رہے ہو، وہ اب زرِ کم عیار ہو گا
تمہاری تہذیب اپنے خنجر سے آپ ہی خود کُشی کرے گی
جو شاخِ نازک پہ آشیانہ بنے گا، نا پائیدار ہ و گا
اللہ سبحانہ و تعالیٰ سے ڈھیروں دعائیں ہیں کہ اس فتنے سے ہمیں اور ہماری آنے والی نسلوں کو محفوظ رکھے۔




































