
قدسیہ بانو
زندگی کی کامیابی حساب کی اسی سائنس میں پوشیدہ ہے۔انسان کامیابی کوچاہتا ہے۔برکت سےمحبت کرتا ہے۔مشکلات اورمسائل پرغالب آناچاہتا ہے۔ ناکامی سےڈرتاہے۔اپنی فطرت
کےپیش نظرانسان کو"سماجی حیوان" کہاجاتا ہے۔جب قران کےفطری پیغام کو پڑھنےکاآغاز کرتا ہےتوساتھ ہی اس پیغام کوموجود پاتا ہے کہ
ایاک نعبدو، وایاک نستعین
کہ اے اللہ!ہم تیری ہی بندگی کرتے اورتجھ ہی سےہم مدد کے طلب گار ہیں۔ ہمیں صراط مستقیم دکھا
گویا کہ رب العالمین کےنزدیک دنیاوی زندگی میں کامیابی کے لیے جمع ہونا،مل کر زندگی بسرکرنا،ازحد ضروری ہے۔
فرمان ربانی اسی کی طرف اشارہ کر رہا ہے کہ : واعتصموا بحبل اللہ جمیعا ولا تفرقوا
تم سب مل کر (جمع ہو کر) حبل اللہ (اللہ کی رسی، اس کا دین، اس کا قران) مضبوطی سےتھام لواورتفریق میں نہ پڑو
یہ کوئی مشکل سائنس نہیں۔انسان کوپرسکون زندگی بسرکرنےکےلیےپرسکون معاشرہ (ماحول) مطلوب ہے۔ اس معاشرے کو بنانےمیں اجتماعی جدوجہد درکارہوتی ہے۔ سکون کو غارت کرنے کے لیے باطل دراندازی کرتا ہے۔ شیطانیت سکون غارت کرنا چاہتی ہےجس کے لیے وہ اجتماعیت کو توڑتی اور تفریق میں مبتلا کرتی ہے۔
بچپن ہی سے مثالیں دی جاتی رہی ہیں ،لکڑیوں کے گٹھے اور قریب المرگ کسان کے بیٹوں کی۔ جال میں پھنس جانے والے کبوتروں کی ترکیب کی۔اتحاد میں برکت ہے اوراکثریت اتھارٹی ہے۔جب بھی حضرت انسان باہم پھٹا، ناچاقی کا شکار ہوا،مغلوب ہوا تو اپنے حقوق سے محروم ہوا ۔
تقسیم کرو اور حکمرانی کرو دنیا کا آزمودہ فارمولا ہےجس کےذریعےقوموں،قبیلوں اورانسانوں کو غلام بنایا جاتا ہے جب کہ رب العالمین اپنےبندوں کوان ہی جیسے بندوں کی غلامی سے نکال کر ایک اعلیٰ تر بزرگ ہستی کے غلامی میں دیتا ہےتاکہ سب کو مساوی حقوق مل سکیں اور فسطائیت کا ظالمانہ نظام فروغ نا پاسکے۔
مگربسااوقات جمع ہونااورضرب پانا،تفریق وتقسیم سےبھی کئی گنا زیادہ نقصان کاباعث بن جاتاہےجب یہ اکھٹ باطل پر یا منفی خطوط پرہوتاہے تو تب انسان انتہا درجے تک شعورسےعاری ہوجاتا ہےاس کی نگاہ کوتاہ ہو جاتی ہے۔ وہ جانور بلکہ جانوروں سے بھی بدتر ہوجاتا ہےکیونکہ وہ اپنی حسیات سےکام نہیں لیتا ،یہ حالت انسانی آقاؤں کوحد درجہ خوش کرتی ہے اوران کی خدائی ہمارے اس جہل سےتقویت پاتی ہے۔
ایسا ہی کچھ حال آج پاکستانی معاشرے کاہےاول تو ہمیں قوم برادری قبیلے اورمسلک پر بانٹاجاتا ہے۔تفریق پیدا کی جاتی ہے ہمیں تقسیم کرکے باہم لڑوایا جاتا ہے۔تیری پارٹی،میری پارٹی،تیرا لیڈرمردہ باد،میرا لیڈر زندہ باد کے نعرے بھی لگوائے جاتےہیں اورہمیں ہمارے ہی حقوق سے محروم رکھا جاتا ہے۔ یہاں تک کہ جینا دوبھرہو گیا ، سانس لینا دشوار ہو گیا ۔ ہمارے پیسوں پروسائل زندگی مہیا کرنے والوں نےخوب ہاتھ صاف کیے۔ مفت بجلی، پیٹرول، مفت گاڑیاں ڈرائیور،ملازمین، گھر، شاہی پروٹوکول اور بیرون ملک مفت علاج ،یہ سب مفت خوریاں عوام کےٹیکسوں سےپوری کی جارہی ہیں۔اپنی اس حاکمیت کوقائم رکھنےکےلیےاپنےدوراقتدار میں یہ لوگ عوام کو جاہل اور بے شعور رکھنے کا بھرپور اہتمام کرتے رہتے ہیں۔
اب جب کے ظالمانہ بل،مہنگائی، پٹرول آئی پی پیزکے نام پر لوٹ مار نےعوام کی چیخیں نکال دی ہیں تو کچھ تنگ آمد بجنگ آمد کے مصداق بیداری کی لہر پیدا ہو رہی ہے،اس تناظر میں یک آواز اورفعال ہونے کی اشد ضرورت ہے۔عوام کے حق کے عوامی ایجنڈے کو زیادہ سےزیادہ اٹھایا جائے۔ اپنی تعداد کوجمع کیا جائے اوراسے ضرب دی جائے تاکہ شعوراجاگر ہو۔ پارٹی پارٹی کا کھیل بند ہو۔جذبہ حب الوطنی کےتحت ایک اور امت بن کر دکھایا جائے۔ انسانوں کے ساتھ کھلواڑکرنےوالوں کوناکوں چنےچبوائےجائیں۔ باطل کےایوانوں میں لرزہ پیدا کرنے کے لیے بنیان مرصوص کو بطور چیلنج قبول کیا جائے۔ایک ہی صف میں محمود ایاز کھڑے ہو جائیں یک رنگ ہو کرنکلیں کہ سارے رنگ چھوٹ جائیں۔
الحکم للہ والملک للہ، کا نعرہ مستانہ بلند کیا جائے۔
نوٹ : ایڈیٹر کا بلاگر کےخیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں ( ادارہ رنگ نو )




































