
عریشہ اقبال
لمحاتِ مسرت کہوں یا رب کریم کی رحمتوں کا سرچشمہ کہوں کیفیت قلب کوبطور گواہ سوچتی ہوں تو ہرگزرتا لمحہ اس رب کی بندگی کا حق ادا کرنے کا پیغام
دیتا نظرآتا ہے۔جہاں اس رب کائنات کی جانب سےکی گئی بےشمار عنایتوں میں سےایک مجھ عاجز وناتواں وجود کےکاندھوں پرقلم کی امانت کا فریضہ ہےمگر اس فریضے کی ادائیگی کا شعوراپنے رب سے پہلے بھی مانگتی آئی تھی اورخواہش ہے کہ آخری انجام کار تک یہ استعانت طلب کرنےکا اور اللّٰہ کے حضورالتجائیں کرنےکا یہ سفر جاری و ساری رہےکیونکہ جب کتابوں سےرشتہ جڑجاتا ہے تومیں سوچتی ہوں کہ ان سےحاصل کیا جانے والا علم کسی بھی شخص کواسی وقت نفع پہنچا سکتا ہےجب اس علم کی جانب رغبت میں صداقت اوراخلاص شامل ہواور یہ بہرحال حقیقت ہےکہ صدق اور اخلاص یہ دو عنصر ایسے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے جذبات کی صورت میں تخلیق کیا ہےمگرمیں جب اس کے نظامِ قدرت کے متعلق مزید گہرائی سے سوچتی ہوں تو اس حقیقت کا ادراک ہوتا ہوتا ہےکہ یہ صداقت یعنی سچائی اور اخلاص دو ایسے رنگ ہیں جن رنگوں سےمزین ہوکر محبت کارنگ وجود میں آیا اور اس محبت کے مفہوم کو اگر کسی بھی شخص نے گہرائی سے سمجھ لیا جس محبت کے ذریعے ان بلند پایہ مقاصد کی تکمیل ممکن ہوئی اوران جلیل القدر شخصیات کی اعلیٰ مثال ہمارے سامنے بطور بہترین نمونہ ہے جو لوگ اللّٰہ اوراس کے رسول صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کی تعلیمات کے مطابق اپنی زندگی کے ہر لمحے کو اس حقیقی محبت کے رنگ سے آراستہ کرتے ہیں اور جن کی کامیابی دونوں جہانوں میں یقینی طور پررب کے حضور پیش کیے جانے والے نوشتے میں ثبت ہے،میں سمجھتی ہوں کسی بھی فریضے کی انجام دہی اورمقصد کی تکمیل میں سب سے بڑا اور بنیادی کردارادا کرنے والا عمل اس محبت کے رنگ کوجو اخلاص اور صداقت سے مل کر وجود میں آیا ہواپنی زندگی میں شامل کرلینا ہے،جس کے نتیجے اس رب کی کبریائی اوراس کی بڑائی اور رحمت کا احساس اس قدر پختہ ہوجاتا ہے کہ صبر و استقامت کی دعائیں لبوں پر،شکر گزاری کی کیفیت سے اشکبارہوتی آنکھیں اور دھڑکتا دل اس دعویٰ محبت کی دلیل بن جاتا ہے اورہر طلب کے ساتھ ہر خواہش پر وہ جستجوئے عشق غالب آجاتی ہےجس جستجو کے سفر میں ہر مشکل نعمت اور ہر کامیابی رحمت نظر آتی ہے خلاصہ یہ کہ ذندگی بس سفر ہے،اللّٰہ سے اللّٰہ تک ساری حمد اور سارا شکراس رب کائنات کے لیے جس کی تعریف کے لیے سمندر کی تمام روشنائیاں بھی اکھٹی ہو جائیں تو تعریف کا حق ادا ہونا ممکن نہیں ۔
اللّٰہ تعالیٰ اس ایوارڈ کو دنیا و آخرت میں سرخروئی کا ذریعہ بنادیں اور اپنی رحمت سے اپنی بارگاہ میں قبول فرمائیں ۔آمین یا رب العالمین




































