
ارم نفیس
ایک چھوٹےسےعلاقےمیں کچھ دین دارعورتوں کا ایک گروپ تھا،جسے"خدمتِ خلق کمیٹی" کےنام سے جاناجاتا تھا۔ ان خواتین کو ایک ادارے کی طرف
سےمالی امداد فراہم کی گئی تھی تاکہ وہ اپنے علاقے کے حاجت مند لوگوں کی مدد کریں اور ان کی مشکلات کم کریں۔ان میں سے ایک خاتون، جس کا نام رابعہ تھا، کمیٹی کی سربراہ مقررکی گئی۔ وہ بہت مذہبی تھی اورلوگوں کو اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کے فضائل بتاتی تھی لیکن اس کے ساتھ ساتھ اس کا رویہ سخت اور طنزیہ بھی تھا۔
جب بھی کوئی حاجت مند ان کے پاس امداد کے لئےآتاتووہ پہلےاس سےبہت سےسوالات پوچھتی اس کےحالات کا تفصیل سےجائزہ لیتی اورپھراسےپیسےیااشیاء فراہم کرتی مگرساتھ ہی اس کی عزت نفس کو مجروح کرتی، طنزکے انداز میں اسے یہ یاد دلاتی کہ وہ کتنا محتاج ہےاوران کےبغیرکچھ نہیں کرسکتا۔رابعہ نے اکثر لوگوں کے حالات اوران کے مالی مسائل کو دوسروں کے سامنےبیان کرنا اپنا معمول بنا لیا تھا،جس سے حاجت مندوں کی عزت نفس کو ٹھیس پہنچتی۔
کبھی کبھار وہ محفلوں میں کھلم کھلا کہہ دیتی کہ "ہماری کمیٹی نہ ہوتی تو پتہ نہیں تم لوگ کیا کرتے؟" ان کے یہ الفاظ لوگوں کے دلوں میں زخم بن کر رہ جاتے۔ کچھ لوگ اس کی باتوں کی وجہ سے مدد لینےسے گریز کرنے لگے، حالانکہ انہیں شدید ضرورت ہوتی تھی لیکن رابعہ کی طرف سے ملنے والی ذلت سے بچنے کے لئے وہ خاموش رہتے۔
آخرکارعلاقے کے لوگوں نے اس ادارے کوخط لکھا اورانہیں اس بات سے آگاہ کیاکہ کس طرح کمیٹی کے نام پر ان کی عزتِ نفس کو مجروح کیا جا رہا ہے۔ادارے نے اس معاملے کی تحقیقات کی اوررابعہ اور اس کی کمیٹی کو فارغ کر دیا۔ نئے انتظامات کے تحت ایک اور کمیٹی بنائی گئی، جس نے نہایت شفقت اور احترام سے لوگوں کی مدد کا سلسلہ شروع کیا۔
رابعہ کو احساس ہوا کہ خدمت خلق کا اصل مطلب لوگوں کی مدد کرنا ہےنہ کہ ان کی عزت نفس کومجروح کرنا۔ اس واقعے کے بعد رابعہ نے اپنی اصلاح کی اوراللہ سے معافی مانگی کہ آئندہ اگر خدمت کا موقع ملے تو وہ لوگوں کی دل آزاری کے بجائے ان کا احترام کرے گی۔




































