
سعدیہ عمیر
سلمہ کی شادی کو ایک مہینہ ہو گیا تھا۔ ساس سلمہ سےبہت خوش تھیں۔ ایک تو سلمہ ٹرک بھرکے جہیز لائی تھی دوسرا ہر کام میں ماہر تھی۔ سلائی،
کڑھائی ہو یا کھانا پکانا سارے کام سلیقے سے جھٹ پٹ میں کر لیتی تھی۔
عمر تو ویسے ہی بیوی کا دیوانہ تھا۔
جب ماں بھی تعریفیں کرتی تو مزید خوش ہو جاتا۔ یکے بعد دیگرے دو بیٹیوں نے آکر گھر میں رونق لگادی۔ عمر اپنی بیوی کو اپنے سب ملنے والوں سے بڑے فخر کے ساتھ متعارف کرواتا تھا۔ اسی طرح ایک دن عمر نے سلمہ سے کہا آج شام تیار رہنا کسی سے ملوانے لے کر جانا ہے۔ سلمہ وقت پر تیار ہوگئی جب ان کے گھر پہنچے تو پتہ چلا کہ جن کے گھر آئے ہیں وہ عمر کی استاد رہ چکی ہیں جن سےعمر کسی زمانے میں بہت اٹیچڈ تھا۔ پھر شادی کے بعد وہ دوسرے شہر چلی گئیں اور کچھ عرصہ پہلے ہی اپنے تین بچوں کو لے کرشوہر سے لڑ جھگڑ کرواپس آئیں تھیں۔
عمر کو جیسے ہی خبر ملی وہ سلمہ کو لے کر ان کے گھرچلا گیا۔ سلمہ کو عمر کی استاد ثمرین بہت اچھی لگیں۔ انہیں اپنے گھر آنے کی دعوت دے کر دونوں گھر واپس آگئے۔ دونوں بہت اچھی سہلیاں بن گئیں۔ ایک دن عمر نہانے گیا ہوا تھا کہ اس کا موبائل بجنے لگا۔ پہلے تو سلمہ نے دھیان نہیں دیا لیکن متواتر بجنےپر اٹھا لیا کہ شاید کسی نے بہت ضروری بات کرنی ہو۔ جیسے ہی موبائل دیکھا تو ثمرین کا نمبر اسکرین پر جگمگا رہا تھا۔ سلمہ نے بنا کوئی غلط مطلب نکالے کال رسیو کر لی جیسے ہی ہیلو بولا ثمرین نے فون بند کر دیا۔
سلمہ کوعجیب تو لگا لیکن نظر انداز کر دیا۔ پھر اکثر ہی ایسا ہوتا کہ عمر کے موبائل کی میسج ٹون پرنظر پڑتی تو ثمرین کا میسج آیا ہوتا۔ سلمہ نے ان چار، پانچ سال میں کبھی عمر کا موبائل چیک نہیں کیا نہ ہی شک کیا لیکن ثمرین کے اتنے میسج کرنے پر وہ متجسس ہو گئی اورایک دن موقع پاتے ہی ان باکس چیک کرنے لگی۔ ثمرین کے میسجز پڑھ کر سلمہ کا دماغ ہی گھوم گیا۔ عمر اور ثمرین کی باتوں سے ایسے لگ رہا تھا جیسے دونوں عاشق و معشوق ہوں۔
سلمہ سے مزید پڑھا نہیں گیا۔ اس نے عمر سے بات کرنے کی ٹھانی کہ آئندہ وہ ثمرین کو میسج نہیں کرے گا۔ ابھی ثمرین نے بات شروع ہی کی تو عمر ہتھے سے اکھڑ گیا کہ وہ ہوتی کون ہےجو بنا اجازت کے موبائل کو ہاتھ بھی لگائے۔ اب تو یہ روزانہ کا معمول بن گیا۔ وہ گھر جو کچھ عرصہ پہلے تک جنت کا نمونہ پیش کرتا تھا، اب میدان جنگ بن گیا۔ بہر حال بات عمر کی اور ثمرین کی شادی تک پہنچ گئی۔ سلمہ کو ہر گز گوارہ نہ ہوا کہ جس پر اس نے اتنا اعتماد کیا وہی اس کا گھر اجاڑنے کا باعث بنی۔ سلمہ نے عمر سے خلع لےلی۔ عمراب ثمرین اور اس کے بچے پال رہا ہے جب کہ اس کی اپنی بچیاں باپ کے پیار کو ترس رہی ہیں۔




































