
عریشہ عاصم
دونوں خاموشی سےبیٹھی تھیں آمنےسامنے ،نماز پڑھنے کے بعد صفوں پر بیٹھ کر آرام سےرو لینےکا مزہ ہی کچھ اور ہے۔۔ کوئی سوال نہیں کوئی بات
نہیں ۔ دونوں جانتی ہیں کہ کچھ نہیں ہوا،خاموشی ۔۔۔۔ گہری خاموشی ۔۔ شور، لوگ ، ہسنے کی آوازیں ،کھانا پینا ، آس پاس سب چل رہا تھا۔۔ پر کس کو کیا خبر نقاب کے فائدے ہی بہت ہیں ۔۔۔
کائنات کیا تمہیں رنگ اچھےلگتے ہیں ۔۔خاموشی میں سوال نےخلل پیدا کیا ۔۔
رنگ ؟ ہاں پتا نہیں ۔۔ سیاہ اور سفید صحیح لگتا ہے ۔۔ سفید میں سکون ہے،پاکیزگی ہے اور سیاہ میں راز ہیں،گہرائی ہے،سہ جانےکااحساس ہے، ڈھانپ لینے کی صلاحیت ہے۔۔۔
باقی رنگ ۔۔ دُور دُور سے اچھے لگتےہیں۔ اللہ کی بنائی چیزوں میں ،پھولوں میں ، آسمانوں میں ۔۔۔ لیکن قریب سےرنگوں کو دیکھوں تو ایک دھوکہ لگتے ہیں،ایک خواب لگتے ہیں ،جھلملاہٹ آنکھوں میں کَھٹکتی ہے۔۔اس لیے رنگین کپڑے نہیں پہنتی ۔۔ مسئلہ رنگوں میں نہیں ہے۔۔بس انتخاب انتخاب کی بات ہے۔۔
ہاں اگر سوال یہ ہوکہ تم کوئی رنگ پانا چاہتی ہو؟؟
تو میں کہوں گی " ہاں "
پتا ہےکون سا رنگ ؟؟
صبغت اللہ ۔۔ہاں میں صبغت اللہ پاناچاہتی ہوں ۔۔اللہ کارنگ۔۔ خالص رنگ،جس کہ بعد کوئی رنگ اچھا نہ لگے،جس کے بعد کسی رنگ کی چاہت نابچے ۔۔۔
اصل میں صرف میں نہیں ہم دونوں ہی اُس مقام پرآچکے ہیں کہ اب تو صبغت اللہ ہی کی چاہ ہے۔۔۔
یہ جو اللہ کا رنگ ہےنا یہ ایسے ہی تھوڑی مل جاتا ہے۔۔اس کی چاہ تک آنے کا بھی سفر ہے جو کچھ لوگ تہیہ کرلیتے ہیں پھروہ صبغت اللہ پانے کا سفر شروع کرتے ہیں۔۔اور پتا ہے اس رنگ میں ڈوبنےکہ لیے اپنی ذات ،اپنےنفس اورمعاشرے کےسارے رنگ اُتارنے پڑتےہیں۔۔ پھر ہی تو اصل رنگ ملتا ہے۔۔ جب باقی رنگ اُتررہے ہوتے ہیں تو ایک تکلیف تو ہوتی ہے۔۔روح بھی زخمی ہوتی ہے۔۔ پر ہم سمجھ نہیں پا رہےہوتے کہ آخر ایسا کیا ہو گیا ہے کہ یہ آنسو نہیں تھم رہے۔ ایسا کیا ہوا ہےکہ مسکرانے کی جگہ عجیب سی ہنسی ہے۔۔ ایسا کون سا غم ہےجو اندر سے سب کھا رہا ہے۔۔۔ ابھی رنگ اُتررہےہیں جب مکمل بے رنگ ہو گئےتو صبغت اللہ ہمارا ہو گا۔ ان شااللہ ۔۔۔بےرنگ ہونا آسان نہیں پرجنتوں کے رنگوں کےآگے بھلا یہ رنگ بھی کوئی رنگ ہیں۔۔۔
کائنات۔۔ میں نے کتناعام سا سوال کیا تھا اورتم کہاں سے کہاں نکل گئی۔۔۔ یہ سب کہاں سے آتا ہے تمہارے ذہن میں ؟
ہاہاہا ۔۔زندگی سب سکھا دیتی ہے بچےےے۔۔۔۔
اب چلو دیرہو جائے گی ۔۔۔(کہیں میں صبغت اللہ پانے میں بہت دیر نہ کر دوں ۔۔ اب وہ اپنی دنیا میں تھی ، سوچ کی دنیا ) ۔۔۔
صِبۡغَةَ اللّٰهِ ۚ وَمَنۡ اَحۡسَنُ مِنَ اللّٰهِ صِبۡغَةً وَّنَحۡنُ لَهٗ عٰبِدُوۡنَ ۞
ہم نے تو اختیار کرلیا ہے اللہ کے رنگ کو اور اللہ کےرنگ سےبہتراورکس کا رنگ ہوگا ؟ اورہم توبس اسی کی بندگی کرنےوالےلوگ ہیں ۔۔




































