
زہرا یاسمین
ارض مقدس کے دلیر و جانباز محافظ یوسف الملاوی اخنس ثقفی کے ساتھ اسرائیل کے حملے ناکام بنانے کے لیے کچھ نئی منصوبہ بندی کر رہے تھے،
بے سروسامان وبے گھر ہوتے ہوئے بھی کٹھن حالات میں پر عزم باحوصلہ ، نہ عمر کی پروا،نہ جان کی پروا، روح اور جسم کے زخموں سے لاپروا،بے غرض بے لوث نڈر مجاہد بیت المقدس کی حفاظت کے لیے کمر بستہ تھے۔ اچانک خبر پہنچی کہ یحییٰ السنوار بھی شہید کردیے گئے۔ پہلے اسماعیل ہانیہ اہل خانہ سمیت شہید کردیے گئے۔ آنکھ سے آنسوٹپکے، منہ سے اللہ اکبر اور تقبل اللہ منا کہا پھر عزم کیا۔
یہ بازی خوں کی بازی ہے جیسے چاہو لگادو ڈر کیسا
ہر گھر سے مجاہد نکلے گا تم کتنے مجاہد ماروگے
کے ساتھ دوبارہ اپنے مشن میں مگن ہوگئے وہ شہید کی موت کو قوم کی حیات گردانتے ہیں۔ چٹانوں جیسے مضبوط عزائم اور سیسہ پلائی دیوار کی مانند اسرائیل کو ناکوں چنے چبوانے کے عظیم ترین مشن سے وابستہ ہیں، انہیں بخوبی علم ہے کہ یہ جنگ انہیں صرف اللہ عزوجل کی مدد سے لڑنی ہے۔
علامہ اقبال نے غالباً انہی کے لیے کہا تھا
دو نیم ان کی ٹھوکر سے صحرا و دریا
سمٹ کر پہاڑ اُن کی ہیبت سے رائی
شہادت ہے مطلوب مقصود مومن
نہ مالِ غنیمت نہ کشور کشائی
کشاد در دل سمجھتے ہیں اس کو
ہلاکت نہیں موت ان کی نظر میں
اسی اثنا میں اچانک
کمسن سعدالفیصل اور احمد الغازی نے اپنے دادا اخنس ثقفی سےکہا آپ لوگ ہمیں بتائیں ہم اس جنگ میں کیسے اپنا حصہ ڈال سکتے سکتے ہیں؟ ہم نے دو دن کی محنت سے اپنے گھر و۔ کے ملبے سے کچھ چلے ہوئے اور کچھ ڈبے میں پیک کارتوس اور بندوقیں بھی ڈھونڈ کر نکالی ہیں ،کچھ بندوقیں کام کی لگ رہیں ہیں۔ آپ لوگ انہیں دیکھ لیں۔ اتنے میں ان کا چچا زاد بھائی یوسف کا پوتا سعداللہ اپنی زخمی ٹانگ کے ساتھ لنگڑاتا ہوا چلا آیا اور بولا یا اخی آپ لوگ یہ مصالحے تو بھول کر آگئے تھے ۔ یوسف الملاوی نے پوچھا کیسے مصالحے؟ احمد بولا یا جدا ملبے سے کچھ کیمیکل کے پاؤڈر کی تھیلیاں بھی ملی ہیں جو ہم لوگ اپنے اسکول کے پروجیکٹ کے لیے لایا کرتے تھے ۔ اخنس اور یوسف نے ان کیمیکلز کو دیکھا اور بچوں کو شاباشی دیتے ہوئے کہا کہ ہم ان سے چند چھوٹے بم بنا کر ایک ساتھ اسرائیلیوں کی طرف پھینکیں گے ان کی آواز اور ان سے ہونے والی تباہی سے ان بزدلوں کے دلوں پر رعب پڑے گا اور ہم تعاقب میں آنے والوں کو گرفتار کرکے انہیں جہنم میں جھونک کر انکا اسلحہ چھین سکتے ہیں۔ الحمدللہ کثیر۔ ہذا نصرا من اللہ۔ سبحان ربی لک الحمد وحدہ لا شریک لہ۔
لا تحزنوا ان اللہ معنا نصرا من اللہ و فتح قریب ،ان شا اللہ۔ ہمارے ساتھ اللہ کی مدد ہے دلوں میں ایمان ہے اورحوصلے بلند اور امید کا دیا روشن ہے یقینا انہیں معروف شاعر ماہر القادری کے اس شعر پر پورا یقین ہے کہ
شہیدوں کے لہو سے جو زمیں سیراب ہوتی ہے
بڑی زرخیز ہوتی ہے بہت شاداب ہوتی ہے
جہاں سے غازیانِ ملّتِ بیضاء گزرتے ہیں
وہاں کی کنکری بھی گوہرِ شب تاب ہوتی ہے




































