
ربیعہ مسکان
''کبھی بھی اپنی خوشیوں کےلیےدوسروں پر انحصار مت کیجیے."
وہ اپنی تقریرکی آخری سطرکہہ کر اپنی نشست کی جانب بڑھ رہی تھی کہ اس کےکانوں میں آواز پڑی.
"بیٹا!مانا کہ یہ پروگرام آج کی نوجوان نسل کوہدایت پربلانےکےلیےہےلیکن غالباًہم بوڑھوں کوبھی ہدایت کی ضرورت ہے." وہ یہ آواز سن کر یک لخت پیچھےمڑی اوروہ یہ دیکھ کر حیران رہ گئی کہ یہ سرعابد تھے۔اس کی زندگی کی وہ شخصیت جنہوں نےاسے اس کی زندگی کے تاریک دورسے نکالا تھا۔ وہ اسٹیج پرگئی اور اپنے استاد کوسلام کیا۔
"مجھ سے آپ نےاس پروگرام کے بعد ملنا ہے۔''انہوں نے ہلکی آوازمیں کہا۔ وہ اپنی نشست پرآکر بیٹھ گئی اور باقی لوگوں کی تقاریرسننے لگی۔
پروگرام ختم ہونے کے بعد وہ سرعابد سے ملی۔ رسمی سلام دعا کے بعد وہ سرسے پوچھنے لگی .
''کیا مجھے اپنی کہانی شائع کرنی چاہیے؟''
''جی بالکل کرنی چاہیے،مجھے پڑھ کر خوشی ہوگی اوریہ آج کی نوجوان نسل کے لیے سبق آموز کہانی ہوگی۔'' اس کے بعد انہوں نےکچھ دیرگفتگو کی اور پھر اپنی راہ پرگامزن ہو چلے۔
اگلی صبح اٹھ کر اس نے نماز ادکرنےکے بعد قرآنِ مجید پڑھا اورایک کپ دودھ لیا اوراپنی کرسی پرآکر بیٹھ گئی اس کے سامنے میزپرچند کاغذ اور قلم پڑے تھے۔ اس نے کہانی لکھنا شروع کی۔
ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک لڑکی جس کا نام ارسا تھا ۔ وادی میں رہتی تھی۔ وہ اپنی شکل وصورت اور پڑھائی میں معمولی بچیوں کی طرح ہی تھی۔ وہ اپنا مڈل کا امتحان پاس کر چکی تھی۔ اب اس کے والدین اسے ایک اچھے ادارے سے تعلیم دلوانا چاہتے تھے جس کے لیے وہ شہر کی طرف کوچ کر گئے۔ وہاں پر چند ہی دنوں میں اس کی ایک دوست قصوا بن گئی اور وہ دوستی ابھی اور گہری ہونے والی تھی کہ قصوا اسکن کینسر کی وجہ سے اس دنیا سے رخصت ہو گئی۔ اس الم ناک سانحے پر ارسا کو اتنا دکھ پہنچا کہ وہ بستر سے لگ گئی اور ایک مہینے تک اسکول نہ جا سکی۔ ارسا کی اس حالت پر اس کے والدین بہت پریشان تھے۔ اس صورت حال کو دیکھتے ہوئے انہوں نے سر عابد سے بات کی۔؎
اگلے دن سر عابد ارسا کے گھر آئے اور رسمی سلام دعا کے بعد اسے سمجھانے لگے۔
"دیکھیں بیٹا سب کچھ اللہ تعالیٰ کی مرضی کے مطابق ہوتا ہے۔ زندگی اور موت کا اختیار اللہ تعالیٰ کے پاس ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قصوا کو جتنی زندگی دی تھی وہ اس نے احسن طریقے سے گزاری اور اللہ تعالیٰ نے آپ کو جو زندگی دی ہے، آپ اسے احسن طریقے سے نہیں گزار یں۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو قصوا کے جانے کا غم اس لیے دیا کیوں کہ اللہ تعالیٰ کو معلوم تھا کہ آپ اس دکھ کو برداشت کر سکتی ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ سورۃ بقرہ کی آیت نمبر 286 میں فرماتے ہیں۔
"اللہ تعالیٰ کسی جان کو اس کی طاقت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتا''
بیٹا اللہ تعالیٰ سے صبر اور نماز کے ذریعے مدد مانگیں۔ ایک دوست چلی گئی تو اللہ تعالیٰ سے اپنے لیے ایک اور اچھی دوست مانگیں اور معلوم ہے نا کہ جب کوئی تکلیف پہنچے تو کیا دعا مانگنی چاہیے؟"یہ کہہ کر سر عابد اور اس کے والدین کمرے سے باہر چلے گئے۔
رات کے دس بج رہے تھے کہ وہ تازہ ہوا لینے کےلیے چھت پر چلی گئی اورابھی تک سرعابد کی باتیں اس کے دماغ میں گھوم رہی تھیں۔ اچانک سے اس کو سر عابد کی دعا کی بات یاد آئی۔ وہ بے دھیانی میں دعا کی عربی پڑھنے لگی اور ترجمہ اپنے ذہن میں یاد کرنے لگی۔
اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاْجِعُوْنَ اَللّٰھُمَّ عِنْدَکَ احْتَسَبْتُ مُصِیْبَتِیْ فَاْجُرْنِیْ فِیْھَاْ وَعُضْنِیْ مِنْھَاْ۔ (سنن ابن ماجہ : 1598)
ترجمہ : ہم اللہ ہی کی ملک ہیں اور اسی کی جانب لوٹ کر جانے والے ہیں، اے اللہ! میں نے تجھی سے اپنی مصیبت کا ثواب طلب کیا، تو مجھے اس میں اجر دےاور مجھے اس کا بہتر بدلہ دے۔
وہ یہ دعا پڑھ رہی تھی کہ ایک دم وہ آخری الفاظ پرچونکی کہ قصوا سے بہتر دوست میرے لیے کون ہو سکتی ہے۔ اب اسے اس دعا کے متعلق ایک واقعہ بھی یاد آیا کہ ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ابوسلمہ رضی اللہ عنہ نے ان سے بیان کیا۔انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا، جس مسلمان کو کوئی مصیبت پیش آئے، تو وہ گھبرا کر اللہ کے فرمان کے مطابق درج بالا دعا پڑھے۔ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: جب ( میرے شوہر ) ابوسلمہ رضی اللہ عنہ کا انتقال ہو گیا، تو مجھے وہ حدیث یاد آئی، جو انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سن کر مجھ سے بیان کی تھی، چنانچہ میں نے دعا پڑھی اور جب «وعضني خيرا منہا» مجھے اس سے بہتر بدلا دے کہنے کا ارادہ کیا تو دل میں سوچا: کیا مجھے ابوسلمہ رضی اللہ عنہ سے بہتر بدلہ دیا جا سکتا ہے؟ پھر میں نے یہ جملہ کہا تو اللہ تعالیٰ نے مجھے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کے بدلہ میں دے دیا اور میری مصیبت کا بہترین اجر مجھے عنایت فرمایا۔
اس واقعہ نے اسے تسّلی دی اور وہ سوچ ہی رہی تھی کہ میرے لیے قصوا سے بہتر کون ہو سکتا ہے کہ اس کی والدہ اس کو نیچے سے آواز دینے لگیں اور وہ نیچے چلی گئی۔
دو دن بعد وہ اسکول گئی۔ اسکول میں بہت کچھ بدل چکا تھا، اب وہ لطف نہیں رہا تھا، ہر طرف ویرانی کے بادل چھائے ہوئے تھے۔ دیواروں پر سے پرانے چارٹ اتار لیے گئے تھے اب ہر جگہ نئے چارٹ تھے۔ وہ اسکول کی ہر چیز کو غور سے دیکھ رہی تھی لیکن دماغ اس کا ابھی بھی رات کی الجھنیں سلجھا رہا تھا کہ ایک دم سے اس کی نظر دیوار پر لگے ایک چارٹ پر پڑی۔
اللہ تعالیٰ کا دوست ہونا کافی ہے اور اللہ تعالیٰ کا مددگار ہونا بس ہے. (سورۃ نساء : 45)
یہ آیت پڑھ کر اسے اپنا آپ اس بحری جہاز کی مانند معلوم ہوا جو ساری رات سمندر میں سمندری طوفان کے باعث ہچکولے کھاتا رہا ہو اور صبح کو سکون میں آیا ہو۔
اسے ایک دوست مل چکا تھا جس کا قصوا کے ساتھ مقابلہ ناممکن تھا۔ یہ دیکھ کر اس کی آنکھوں سے بے اختیار آنسو نکل گئے کہ وہ کتنی آشفتہ سر تھی اس فانی دنیا کے پیچھے بھاگ رہی تھی جبکہ وہ لا فانی اسے زندگی کے ہر موڑ پر دعوت دے رہا تھا۔ وہ اپنے آپ کو اب احمق سمجھ رہی تھی کہ وہ یہ بات کیوں نہ سمجھ سکی کہ اللہ تعالیٰ اس سے قصوا کو چھین کر اپنے قریب کرنا چاہتے تھے۔ وہ بس اتنا ہی لکھ سکی تھی۔ وہ اب اشک بار تھی اور اسے یقین تھا کہ اس کی کہانی کو پڑھ کر ہر کوئی اشک بار تو نہیں ہوگا لیکن کچھ نہ کچھ ضرور سیکھے گا۔




































