
دعا
خلیل اللہ یعنی حضرت ابرہیم علیہ السلام اللہ کے پیارے نبی تھے،انہوں نے کبھی بھی شرک نہیں کیا۔ اللہ نےانہیں مختلف آزمائشوں سے گزارا لیکن انہوں نے
کبھی بھی شکوہ نہیں کیا ۔ ہمیشہ اللہ کا شکر ادا کیا۔ایک دن آپ نے خواب دیکھا کہ اللہ تعالیٰ نے خواب میں آپ سے فرمایا کہ اپنی سب سے پیاری چیز قربان کردیں۔ آپ نے اللہ کے حکم پر عمل پیرا ہو کر اللّہ کی راہ میں سو اونٹ قربان کردیے ،پھر کچھ دن بعد آپ کو پھر سے وہی خواب نظرآیا۔ آپ نے پھر سو اونٹ قربان کر دیے۔ اسی طرح تیسری مرتبہ بھی کیا مگر پھر بھی یہی خواب آیا تو آپ سمجھ گئے کہ اللہ تعالیٰ ان سے ان کے پیارے بیٹے حضرت اسماعیل کی قربانی مانگ رہے ہیں کیونکہ حضرت ابرہیم کو حضرت اسماعیل سے بہت محبت تھی لیکن حضرت ابرہیم نے اس بات کا ثبوت دیا کہ وہ اللہ کے لیے سب کچھ قربان کر دینے کو تیار ہیں ۔ انہوں نے جب یہ خواب اپنے بیٹے کو بتایا تو بیٹے کی فرمانبرداری کو سلام۔
یہ فیضان نظر تھا یا کہ مکتب کی کرامت تھی
سکھائے کس نے اسماعیل کو آداب فرزندی
جنہوں نے کہا کہ بابا جو اللہُ تعالیٰ کا ارشاد ہے ۔ وہ آپ کریں۔ باپ اور بیٹا دونوں چل پڑے ۔بیٹے نے کہا بابا آپ اپنی آنکھوں پر پٹی باندھ لیں تاکہ آپ کی محبت کہیں جوش میں نہ آ جائے اور آپ اللہ کے حکم کو پورا نہ کرپائیں۔ حضرت ابرہیم نے ایسا ہی کیا ۔آنکھوں پر پٹی باندھ لی اور بیٹے قربان کرنے کےلئے لٹا دیا ،جیسے ہی آپ نے چھری پھیری تو اللہ تعالیٰ نے چھری کو حکم دیا کہ مت کاٹ۔
مشیت کا مگر دریائے رحمت جوش میں آیا
کہ اسماعیل کا اک رونگٹا کٹنے نہ پایا
اس کی جگہ اللہ نے ایک دنبہ رکھ دیا اور وہ حضرت اسماعیل علیہ السلام کی جگہ قربان ہوا ۔
غرض دنبہ ہوا قربان اسماعیل کے صدقے
ہوئی ایمان کی تکمیل اس قربانی کے صدقے
اسی لیے ہمیں بھی اپنے انبیاء کرام علیہم السلام کے طریقوں پر عمل پیرا ہونا چاہیے اور اللہ کی خوشنودی ہماری زندگی کا مقصد ہونا چاہیے ۔ قربانی کے وقت ہماری نیت صاف ہونی چاہیے ۔ہمارے دل میں یہ خیال ہونا چاہیے کہ ہم قربانی اللہ کی رضامندی اور خوشنودی حاصل کرنے کے لیے کر رہے ہیں ۔ ہمیں اپنی سب سے زیادہ پیاری چیز بھی اللہ کے راستے میں قربان کرنے سے دریغ نہیں کرنا چاہیے ۔اللہ ہم سب کو خالص نیتوں کے ساتھ قربانی کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین کیونکہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
”اللہ تعالیٰ کو ان جانوروں کا گوشت اور خون ہرگز نہیں پہنچتا بلکہ اسےتمہاری جانب سے تمہارا تقوی پہنچتا ہے“(سورۃ الحج:37)




































