
فاطمہ احمد
اگر دیکھا جائے تو عمومی طور پر عام عوام اور خواص کا یہ رویہ بن گیا ہے کہ وہ ہر وقت مسلمانوں کے حالات حاضرہ پر مایوس کن خیالات کا تبادلہ
کرتے ہیں۔۔مسلمان کسی کام کے نہیں،انگریزوں کو دیکھو، چائنہ والے تو چاند پر جا پہنچے اور ہم ابھی تک یہیں کھڑے ہیں وغیرہ وغیرہ۔۔ستم بالائے ستم کہ مسلمانوں پر انگلیاں دراز کرنے میں ہمارے اکثر صحافی بھی سرفہرست ہیں جبکہ دیکھنا چاہیے کہ مسلمانوں کی کامیابی اور عروج کس بات میں پنہاں ہے؟ کیا چاند پر جا پہنچنے میں؟ یا کفر کی شکست اوراسلام کی بالا دستی میں ؟ مگر جن کے نزدیک فقط مادی ترقی ہی کامیابی کا معیار ٹھہرے ان کو کون سمجھائے اب۔
ہم اس بات کو کیوں بھلا دیتے ہیں کہ ہماری اپنی ایک جداگانہ تہذیب ہے۔۔جو تہذیب ہمارے وقاراورشان و شوکت کا ذریعہ ہے۔اگر پاکستان کی بات کی جائے تو یہ عالم اسلام کا پہلا اور دنیا کا ساتواں ایٹمی ملک ہے۔اگر پوری امت کی بات کی جائے تو اب بھی امت مسلمہ کے کل ممالک کو ملا کر مسلمانوں کی سرزمین آدھی دنیا پر پھیلی ہوئی ہے۔۔۔اگر شام،عراق، غزہ کی بات کی جائے تو امت اب بھی خون دے رہی ہے،کیونکہ یہ امت کی سنت چلتی آرہی ہے کہ آزادی اور انقلاب خون سے ہی خریدا جاتا ہے پر امت تو اب بھی اسی سنت پر عمل پیرا ہے۔
امریکہ جیسے ملک کی ہمت نہیں ہے کہ پاکستان جیسے ایٹمی ملک کی طرف میلی نظروں سے بھی دیکھے۔بقیہ مذاہب مغربی تہذیب میں اپنے آپ کو ضم کر کے وحدت ادیان کی خوبصورت چال کا شکار ہوچکے ہیں جبکہ اسلام کا پرچم اب بھی پورے وقار سے لہرا رہا ہے۔۔مسلمان مغلوب ہوں تب بھی اعدائے اللہ مسلمانان کے نام سے کانپتے ہیں۔۔۔
مجاہدین کی کاری ضرب جب اسلام کے دشمنوں پر پڑتی ہے تو ان کی چیخیں یہ پیام دیتی ہیں کہ مسلمانوں! خوش ہوجاؤ تمہاری ضربیں اور قربانیاں رنگ لارہی ہیں۔اسلام پر عمل پورے زور و شور سے جاری ہے۔۔سن دوہزار کے بعد سے اب تک ہر سال ہزاروں لوگوں کا مسلمان ہونا اسلام کی حقانیت کی دلیل ہے۔ اسرائیل نے اہل غزہ کو صفحہ ہستی سے مٹانا چاہا پر اہل ایمان نے ان کو ناکوں چنے چبوادیے ہیں۔افغانستان میں دو سپر پاروز کو پسپا ہوکر نکلنا پڑا۔نیٹو اور اس کی کی اتحادی فوج بھی افغان اسٹوڈنٹس کو جھکا نہ سکی۔
اہل صومالیہ والے اسلامی نظام کی جدو جہد کے لئے جانیں لٹا رہے ہیں۔دشمن جہاں جاتا ہے منہ کی کھاتا ہے۔محاذ چاہےنظریاتی ہو یا سرحدی، دشمن نے ہر کوشش کی کہ نوجوانان اسلام کے حوصلے نڈھال ہوجائیں پر ہمارا بچہ بچہ اب الجہاد کے نعرے لگانے لگا ہے۔غزہ والوں کو دیکھیں تو اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ گھر گھر سے مجاہد نکلے گا ، تم کتنے مجاہد مارو گے؟ غرضیکہ مسلمان ڈگماجاتے ہیں پر پھر جب حوصلہ پکڑتے ہیں تو پہلے سے مصمم ارادے رکھ کر اٹھتے ہیں۔۔۔جھپٹتے ،پلٹتے دشمن کو نوچ لیتے ہیں۔یہ اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ ہم ابھی زندہ بیدار کھڑے ہیں۔




































