
لبنیٰ مزمل
پی ٹی وی کے دور کی بات ہےجب ایک ڈرامےنے بےحد متاثر کیا - کم عمری کی وجہ سےاس وقت تو وہ ڈرامہ سمجھ نہیں آیامگرڈرامے کا نام اور کردار
ذہن میں بس گیا-چند سال وہ ڈرامہ نشر مکررکے طور پردکھایا جاتا رہا جس سےڈرامے کا سیاق وسباق بھی از برہوگیا اور والد محترم کی زبان سےمتعدد مرتبہ سناجانے والا جملہ ( ترکھان کا بیٹا بازی لے گیا) بھی سمجھ آ گیا-
جی ہاں یہ زکرہے 1908 میں پیدا ہونےوالےعاشق رسول غازی علم دین شہید کاکہ جنہوں نےصرف 19 سال کی عمر میں حضور صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کرنے والےایک ہندو ناشرراج گوپال کوچاقو کے پےدر پےوار کر کے جہنم واصل کیا اور بھاگنے یا چھپنے کی بجائےپولیس کے آنےپربرملا اپنے جرم کا اعتراف کیا اوراسی جرم کی پاداش میں انہیں پھانسی کی سزا سنائی گئی۔اس سزا کوغازی علم دین شہید نے نہایت ہمت اوربہادری کے ساتھ قبول کرکے غازی اور شہید کا رتبہ حاصل کیااورعاشقان رسول کی فہرست میں شامل ہوئے-اس موقع پرعلامہ اقبال کےالفاظ رہتی دنیا تک یاد رکھے جائیں گے-
ہم تو باتیں کرتےرہ گئے ترکھان کا بیٹابازی لےگیا-
یہ بازی عشق کی بازی ہے ۔
نبی مہربان کی محبت ہرمسلمان کےدل میں ہرلمحہ موجزن رہتی ہے،چاہے وہ سوبرس پہلےغازی علم دین شہید ہوں یاآج کےعامر چیمہ شہید یا ممتاز قادری شہید۔
غلامی رسول میں موت بھی قبول ہے ۔




































