
حسنہ ناز
عید در اصل وہ عظیم دن ہےجوکہ اللہ تعالی نےرمضان المبارک کے مہینےکے روزے رکھنے اور پورے ہو جانے
کے بعد سجدہ شکر بجالانے کے لئے مناتے ہیں عید دراصل عربی لفظ ہے جس کے معنی واپس آنے والی چیز کے ہیں۔
عید الفطر اورعید الاضحیٰ کو چونکہ ہرسال تہوار کےطورپرمنایا جاتا ہے،اس لئے اس دن کوعید یعنی خوشی کے بار بار لوٹ کر آنے کے نام سے موسوم کیا گیا۔
عید الفطر کی ابتداءہجرت کے دوسرے سال 2 ہجری میں ہوئی۔ اس سال رمضان کے روزے بھی فرض ہوئے تھے اور یہی وہ مبارک موقع تھا جب آنحضرت ﷺ جنگ بدر کے شاندار فتوحات کے بعد واپس تشریف لائے تھے۔ آپ ﷺ کی تشریف آوری کے آٹھ دن بعد عید الفطر آئی۔ یہ مسلمانوں کے لئے خاص طور پر بڑی مسرت کا موقع تھا۔ کئی باتیں ایسی تھیں جن کی خوشیاں اکٹھی ہوگئی تھیں چنانچہ حضور ﷺ نے عید کے موقع پر اجتماعی خوشی و مسرت کے اظہار کو پسندفرمایا۔ حضرت انسؓ فرماتے ہیں کہ جب نبی کریم ﷺ ہجرت کے وقت مدینہ تشریف لائے تو آپ ﷺ نے دیکھا کہ اہل مدینہ دو دن خوشی مناتے ہیں ۔ یہ دو دن کیسے ہیں؟ وہ بولے ''زمانہ جاہلیت میں بھی ان دنوں میں خوشی منایا کرتے تھے۔تب آپ ﷺ نے فرمایا۔اللہ نے ان کے عوض ان سے اچھے اور بہتر دن دیئے ہیں۔ عید الاضحی اور عید الفطر اس کے بعد آپ ﷺ نے عید کا اہتمام کیا۔ اور اپنا بہترین لباس زیب تن کیا۔
عید الفطر یکم شوال کو منائی جاتی ہے عید کے علاوہ بھی شوال کا مہینہ بڑی اہمیت کا حامل ہے مسلمانوں کے لئے بڑی اہمیت یوں بھی ہے کہ اس بابرکت مہینے میں روزے رکھنے کے ساتھ ساتھ نمازیں۔ عبادت اور تراویح وغیرہ کا اہتمام با قاعدگی سے چلتا ہے۔ اور اس مہینے میں اللہ تعالیٰ نے اپنے نیک بندوں کے لئے بڑی نعمتیں اور برکتیں رکھی ہیں۔ جو شخص بھی اس مہینے کو پالے اسے چاہئے کہ روزے رکھنے کے ساتھ ساتھ تمام عبادتیں کرے کیونکہ یہ رمضان المبارک کے بعد ہی اللہ تعالی نے مسلمانوں کے لئے یہ انمول تحفہ عید کی شکل میں ہمیں نواز دیا ہے۔ عید کے نام لیتے ہی ہمارے ذہن میں ایک خوشی اور مسرت جنم لیتی ہے جو کہ عید خوشی و انسباط کی کلیاں چننے بکھیرنے اور دامن دل کو کشادہ کرتے ہوئے انہوں نے غیروں سبھی کو گلے لگا کر دلوں کو کد روتوں اور نفرتوں سے پاک کرنے کا دن ہے۔ اور یہ ایک عظیم دن ہے لیکن مسلمانوں پر یہ اللہ تعالیٰ کا احسان عظیم ہے کہ ماہ شوال کو مسلمانوں کے لئے خوشی اور مسرت کے اظہار کا ذریعہ بنا دیا۔ خاص طور پر اس ماہ کی پہلی دوسری اور تیسری تاریخیں جو دوسری قوموں کے لئے بربادی کا سبب بنیں۔ مسلمانوں کے لئے مسرت و شادمانی کی نقیب بنیں۔ عید الفطر کے مقدس مذہبی فریضے کی غرض و غایت یہ ہے کہ ہم اپنے معبود حقیقی کی ان رحمتوں اور برکتوں کا خلوص دل سے شکر یہ ادا کریں۔جو
ہمیں روزہ نماز، اور زکوة کے سلسلے میں ملی ہیں۔ 2 ہجری تمام مسلمان عید منا کر اپنی روحانی خوشیوں میں اضافہ کرتے ہیں۔
عید کے دن ہمیں اپنے غریب بھائیوں کو نہیں بھولنا چاہئے۔ اور جہاں تک ہو سکے تو ہم ان کی مددکر کے اور زکوة فطرہ اداکر کے کر سکتے ہیں۔ کیونکہ عید غریب، امیر دونوں کے لئے یکسانیت رکھتی ہے۔
عید مختلف ادوار میں مختلف اندازسے منائی جاتی ہے۔ایک عید تو وہ تھی جو حضور ﷺ کے دور میں منائی جاتی تھی اور جو در حقیقت عید کہلانے کی مستحق بھی تھی اس زمانےمیں آنحضرت ﷺ کی موجودگی ہی عید کا سب سے بڑا انعام تھا۔
عیدتو اب بھی مناتے ہیں لیکن اب عید صرف شاپنگ کرنے، نت نئے کپڑے بنانے اور بنے سنورنے کی حد تک محدود ہو کر رہ گئی ہے ہر سال کی طرح اس سال بھی عید الفطر کا تہوار اپنی روایتی جوش وخروش کے ساتھ منایا جا رہا ہے۔
عید کے لئے لوگ خاص اہتمام کرتے ہیں اور ان کی عید کی تیاریاں رمضان سے پہلے سے شروع ہو جاتی ہیں جو کہ چاند رات تک جاری رہتی ہیں۔ چاند رات کو زیادہ تر خواتین چوڑیاں پہننے جاتی ہیں جس کی وجہ سے چاند رات کو بازاروں میں ہجوم صرف چوڑیوں کی دکانوں پر زیادہ نظر آتا ہے۔ بازاروں میں گہما گہمی، دکانوں پر خریداروں کا ہجوم، آسمان سے باتیں کرتی مہنگائی کا شکوہ اپنی جگہ اور عید کی تیاری، عید کا اہتمام اپنی جگہ اور خوشیوں سے جگمگا تا یہ دن سال میں صرف ایک مرتبہ آتا ہے اور اپنے ساتھ بہت سی نعمتیں اور برکتیں لاتا ہے۔ ہلال عید روزے داروں کے لئے تو خیر و برکت کا پیغام لے کر آتا ہی ہے لیکن وہ لوگ جو اپنی مجبوری اور غربت وجہ سے خوشیاں دو چند ہو جاتی ہیں۔ کیونکہ انہیں اپنے لئے کپڑے، جیواری، مہندی، جوتے اور چوڑیاں وغیر ہ ہی کا اہتمام نہیں کرنا پڑتا بلکہ گھر کے دوسرے افراد خاص طور پر بچوں کے لئے ان کی پسند کی چیزوں کی خریداری کرنا بھی کچھ کم اہم مسئلہ ثابت نہیں ہوتا۔ اس لئے عید کی شاپنگ میں خواتین زیادہ نمایاں نظر آتی ہیں۔
اس کے ساتھ ہی انہیں آرائش خانہ کی چیزیں خریدنے کا بھی خصوصی اہتمام ہوتا ہے کہ عید کے دن ملنے ملانے آنے والے گھر میں خوبصورتی اور ندرت پائیں۔ عید کے موقع پر گھر کی سجاوٹ اور نت نئے ملبوسات کا اہتمام کرنے کی روایت ہماری دیر بینہ روایت ہے۔ مسلمان دنیا کے کسی بھی خطے اور کسی بھی ملک میں کیوں نہ ہوں ان کی عید کی تیاریاں کم و بیش یکساں ہی ہوتی ہیں۔
عید کی آمد کے ساتھ ہی ہر طرف ایک پر مسرت اور بے حد کیف پرور فضا طاری ہو جاتی ہے۔ روزوں کی پُر نور گھڑیاں، افطار کی رونقیں اور پھر شام کےااُجالوں کے ساتھ بازاروں کی چہل پہل، روشنیاں اور دمکتے چہروں کیساتھ بڑے اور بچوں کا خریداری کرنا۔ گو یہ تمام مناظر تقریبا ہر سال ہی دیکھنے میں آتے ہیں مگر مسائل کی کڑی دھوپ نے گزرتے وقت کے ساتھ ان رونقوں کو ماند کر دیا ہے۔ لوگ اب بھی یہ سب کچھ کرتے ہیں مگر زیادہ تر فرائض کی ادائیگی کی حد تک عید کی یہ روایتی تیاریاں یوں تو ہر خاص و عام طبقہ کرتا ہے۔ مگر لوگوں کی ہمیشہ یہ خواہش ہوتی ہے کہ وہ اپنے چھوٹے بڑے تمام رشتے دار اور ملنے ملانے والوں کے ساتھ عید کی خوشیاں دوبالا کریں کیونکہ عید نام ہی ہے خوشیوں اور شادمانی کا۔
برصغیر پاک و ہند میں تیاریاں رمضان شروع ہوتے ہی شروع ہو جاتی ہیں۔ پندرہویں روزے کے بعد تو بازاروں میں اس قدر گہما گہی ہوتی ہے کہ یوں محسوس ہوتا ہے کہ عید میں ایک دو روز ہی باقی رہ گئے ہیں لیکن اصل لطف چاند رات کا ہوتا ہ ہے کہ اس رات ہر کوئی اپنی اپنی تیاری مکمل کرنے کے لئے دوڑ بھاگ میں بتلا ہو جاتا ہے۔ خاص طور پر خواتین اور لڑکیوں کے لئے تو یہ رات انتہائی مصروف اور اہم ہوتی ہے۔ کہ رات کے چند گھنٹوں میں انہیں گھر سنوار نے کھانا پکانے کے ساتھ ہی خود کو سنوار نے مہندی لگانے اور چوڑیاں وغیرہ خریدنے کے لئے بازار جانا بھی ہوتا ہے پہلے مہندی گھروں میں لگ جایا کرتی تھی اب یہ کام بیوٹی پارلر والوں نے سنبھال لیا ہے۔ اس لئے خواتین جوق در جوق ادھر کا رخ کرتی ہیں اور ہاتھ پیروں پر خوبصورت منائی گل بوٹے بنوانے کے ساتھ ساتھ حسن و دلکشی میں اضافے کے لئے دوسرے لوازمات بھی کروالیا کرتی ہیں کوشش یہی ہوتی ہے کہ وہ خوب سے خوب تر نظر آئیں اس خوب تر نظر آنے کے لئے خوب صورت رنگین جھلملاتے کپڑے اور نا زیورات کے ساتھ ساتھ پھولوں کے گہنے اور گجرے بھی عید اور عید کی خوشیوں میں مزید رنگ بھرنے کے لئے کام آتے ہیں۔
عید کے کو موقع پر عید کارڈوں کے ذریعے دور دیس بنے والوں کو ہم عید کی خوشیوں میں شریک کر لیتے ہیں۔ اس سے دوسرے بھی خوش ہوتے ہیں کہ ہم کو اتنی دور بھی عید کے موقع پر یاد کیا اور ان کے دلوں میں عید کی خوشیاں دوبالا ہو جاتی ہیں۔
عید لفظ اپنے اندر جو حسن اور رنگینی رکھتا ہے۔اس سےبچے، بڑے کم و بیش سب ہی واقف ہیں۔ عید کا لفظ زبان سے ادا کرتے ہی ساعتوں میں نہی کی جلترنگ قہقہوں کی جھنکاراورخوش کن آوازوں کا لمس جاگ اٹھتا ہے۔ تصور کے افق پر بہت منظر، بہت سے رنگ کہکشاں بن کر اتر آتے ہیں بڑوں کے ذہن کے پردوں پر بیتے دنوں کے خوشگوار یادوں کی فلم سی چل جاتی ہے۔ اور بچوں کی زبان ہر کھٹے میٹھے ذائقے کھلنے لگتے ہیں۔ عید مختلف کیفیتوں کے جلو میں آتی ہے۔ اور احساسات کو نئے رنگ بخش کر کچھ نی عید الفطر معبود حقیقی کی جانب سے اپنے اطاعت گزار بندوں کے لئے ایک حسین تحفہ ہے۔
رمضان کے بعد عیدکی آمد کےذکرکے ساتھ ہی مسلمان گھرانوں میں عید کےاستقبال کا اہتمام شروع ہو جاتا ہے۔ صدقہ و خیرات زیادہ سے زیادہ دیئے جاتے ہیں تا کہ غریبوں کی عید بھی خوش گوار گزرے۔ مسلمانوں کی خاطر و مدارات کی خصوصی تیاریوں کے ساتھ ساتھ گھر کی سجاوٹ اور نئی ترتیب پر بھی خاص توجہ دینی پڑتی ہے۔
عید کی رونقوں کو دوبالا کرنے کے لئے نت نئے انداز اختیار کئےجاتےہیں،اس موقع پر خلوص و مسرت کے اظہار کے لئے دوست احباب اور عزیزوں کو عید کارڈ بھیجے جاتے ہیں۔ جب کوئی عید کارڈ عین عید کے روز موصول ہوتا ہے تو اس دن کی خوشی دو بالا ہو جاتی ہے۔ عید کے موقع پر سہیلیوں اور عزیزوں کو تحفے تحائف پیش کرنا بھی ایک خوبصورت روایت ہے۔ چاند. رات کو اکثر گھرانوں میں لڑکیاں بالیاں اکٹھی ہو کر مہندی لگاتی ہیں۔ ہاتھ پیروں پر دلفریب گل بوٹے بناتی ہیں۔ مل جل کرادھ سے ملبوسات مکمل کئے جاتے ہیں۔ میں دوپٹوں پر کرن لگ رہی ہوتی ہے تو کہیں کرتے کے بٹن ٹانکے جاتے ہیں عید کے لئے خریدی گئی رنگ برنگ چوڑیاں ایک دوسرے کی کلائیوں میں پہنا کر اپنی اپی محبتوں کا اظہار کیا جاتا ہے۔ یہ سب مشرقی روایات کا حصہ ہے۔
عید کی شب یعنی چاند رات کو بازاروں میں خریداروں کے ہجوم کےباعث میلےکا سا سماں ہوتا ہے۔ عید کی مناسبت سے خوش رنگ و دیدہ زیب ملبوسات جہاں آپ کی شخصیت کو نکھارتے ہیں وہاں چوڑیاں، مہندی اور پھولوں کا استعمال عید کے موقع پر روایتی حیثیت رکھتا ہے۔ ہلکے پھلکے ریورات جو لباس سے مناسبت رکھتے ہوں اچھے لگیں گے۔ لیکن پھولوں کے گہنے بھی حسن سادہ میں اضافے اور طبیعت میں فرحت و تازگی کا باعث بن سکتے ہیں۔ پھول اخلاص و محبت اور سچے جذبوں کے اظہار کے علمبر دار سمجھے جاتے ہیں۔ پھولوں کے جادو سے کون واقف نہیں ہے۔ ایسے مواقعوں پرانہیں گلدانوں میں سجا کر نہ صرف ماحول کی خوب صورتی اور فسوں اضافہ کیا جاسکتا ہے بلکہ گلاب، موتیے کے گجروں کا استعمال آپ کی شخصیت میں بھی انفرادیت پیدا کرتا ہے۔ چھوٹی چھوٹی ایسی ہی بعض باتوں کا خیال رکھ کر ہم عید کی خوشیوں کو آپس میں بانٹ سکتے ہیں خدا کرے کہ ہر سال عید ہمارے لئے خوشیوں اور محبتوں کا پیغام لے کر آتی رہے عید کی خوشیاں مسلمانوں کے قومی اور ملی جشن کا دن ہے۔




































