
عالیہ شمیم
القدس سےمراد مسلمانوں کےقبلہ اول بیت المقدس اورانبیاء علیہم السلام کی سرزمین مقدس فلسطین ہیے ۔وہ
فلسطین جہاں ہزاروں انبیاء علیہم السلام کی آمد رہی اور پھر معراج کے لئے سفر مبارک کے وقت پہلے آپ (ص) کو بھی مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ جو کہ سر زمین فلسطین پر واقع ہے یہاں لایا گیا تھا ۔
سرزمین مقدس فلسطین اور اس کےباسی سنہ 1948ء سےعالمی سامراج کی شیطانی چالوں کا نشانہ بن کر یہاں قائم کی جانے والی یہودیوں کی غاصب اور جعلی ریاست اسرائیل کے شکنجہ میں ہیں۔ یہاں کے باسی گزشتہ ایک سو برس سے اس زمین پر صہیونیوں کی مکاریوں اور فریب کاریوں کا سامنا کرتے آئے ہیں۔
صہیونیوں کے مقاصد میں جہاں فلسطین پر یہودیوں کے لئےعلیحدہ ریاست قائم کرنا تھا وہاں ساتھ ساتھ قبلہ اول بیت المقدس پر بھی صہیونی اپنا مکمل تسلط چاہتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ صہیونیوں کی ریاست اسرائیل کے پشت پناہ امریکی حکومت مسلسل کوشش کر رہی ہے کہ بیت المقدس پر ہی فلسطینی صہیونیوں کا مکمل تسلط قائم کر دیا جائے۔
ارض فلسطین جسےانبیاء کی سرزمین کہا جاتا ہےاوربیت المقدس جو مسلمانوں کا قبلہ اوّل ہے،اس وقت سےغاصب صہیونی ریاست کے قبضے میں ہے جب سے ایک عالمی سازش کے تحت برطانیہ اوراس کے ہم نواوں کی کوششوں سے دنیا بالخصوص یورپ کے مختلف علاقوں سے متعصب یہودیوں کو فلسطین کی زمین پر بسایا گیا۔ صہیونیوں کے اس سرزمین پر آتے ہی وہاں کے مقامی فلسطینی باشندوں کو کنارے لگادیا گیا اور آہستہ آہستہ فلسطینیوں پر ظلم و ستم اس سطح پر پہنچ گئے کہ فلسطینیوں کواپنےہی ملک میں تیسرے درجے کا شہری بننا پڑایا مجبور ہوکر انہیں ترک وطن ہونا پڑا۔فلسطین کے ساتھ ساتھ فلسطین کی مخلص اور مجاہد قیادت کو یہ ادراک ہونے لگا کہ صرف زمین اور علاقائی مسئلہ سمجھ کر فلسطین پر قابض نہیں ہونا چاہتا بلکہ اس کے پیچھے امریکی حکومت نے غصب کرنے کے منصوبہ کو عملی جامہ پہنانےکی کوشش کی ہے تاہم یہ منصوبہ بھی تاحال فلسطینیوں کی مزاحمت اور استقامت کے باعث ناکام ہو چکا ہے۔
عالمی اداروں کی خاموشی، عرب حکمرانوں کامنافقانہ رویہ انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں کے دہرے معیار اور عالمی برادری کی عدم توجہ اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ امت مسلمہ اتحاد و وحدت اور اسلامی یکجہتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے فلسطین کے
مسئلے کے حل کےلئے میدان عمل میں آجائےیوم القدس اس بات کا بہترین موقع ہےکہ ہم امت واحدہ کی صورت میں اپنے تمام تر فروعی اختلافات اور مسائل کو بالائے طاق رکھتے ہوئے اپنے قبلہ اوّل کی آزادی کے لئے سراپا احتجاج بن جائیں۔ امام خمینی (رح) کے بقول یوم القدس یوم اسلام ہے اور امام خمینی کے بقول
''اہم چیز یہ ہے کہ اسلامی دنیا کو فلسطین کے مسئلہ سےغفلت نہیں کرنی چاہیے۔۔۔ امریکہ اور صہیونیوں کے حامیوں کی ہمیشہ کوشش رہی ہے کہ مسلمان فلسطین کو بھول جائیں لیکن امت مسلمہ اور ایرانی عوام کوچاہیے کہ فلسطین کے مسئلہ کو نہ بھولیں۔''
''خود فلسطین کے اندر بھی اس مقدس شعلےکو بھڑکتارہنا چاہیے۔وہ جوان وہ خواتین وہ مرد اوروہ تمام ایسے فدا کار لوگ جو فلسطین کے اندر رہ کر غاصب حکومت کے ساتھ مقابلہ کر رہے ہیں، ان کو معلوم ہونا چاہیے کہ اصلی نقطہ وہی ہے جس پر انہوں نے ہاتھ رکھا ہے، یہ وہی مقام ہے جہاں پر دشمن کو شکست ہو گی۔ یہ جو فلسطینی سرحدوں سے باہر بیٹھ کر یہ آرگنائزیشنیں آپس میں مذاکرت کے لئے اکٹھے ہوتی ہیں اور تقریروں میں خود نمائی کر رہی ہیں، ان سے یہ مشکل حل نہیں ہو گی۔ باہر سے اسلامی دنیا کی حمایت اور اندر سے فلسطینی عوام مل کر اس مسئلے کو حل کر سکتے ہیں۔ اور یوںفلسطین کے دشمن کو عبرتناک شکست ہو گی۔''
یوم القدس کو منانا چاہیے اوراس کا احترام کرنا چاہیے،اگر دنیا کا میڈیا اس کو منعکس نہ بھی کرے تو نہ کرے ہمارا فرض ہے کہ نیت اور عزم سےقوت بن جائیں اورہم اپنےفلسطینی و مظلوم عوام پر اندھا دھند بمباری کی پرزور مذمت کرتے ہیں۔
ضروت اسی امرکی ہےکہ ہم پاکستانی عوام اپنےفلسطینی عوام کوتنہائی کا احساس نہ ہونے دیں،ان کا ساتھ دینے ہی میں دین کی۔۔ ایمانی حمیت کی بقا ہے اور اسلامی بیداری ہے۔




































