
ام یحییٰ
لوگوں نے پوچھا یا رسول اللہ ! کون سااسلام افضل ہے ؟ تو نبی ﷺ نےفرمایا وہ جس کےماننےوالےمسلمانوں کی زبان اور ہاتھ سے سارے مسلمان
سلامتی میں رہیں۔ (صحیح بخاری#11)۔
ہم مسلمان ہیں مگر مسلمان ہونے کیلئے ایمان کےادنیٰ درجے بلکہ اس سےبھی شاید کوئی نچلادرجہ ہوتواس پربراجمان ہیں۔ایسے مسلمان جو آنکھوں کے سامنے ظلم ہوتا دیکھتے ہیں اور خاموش رہتے ہیں، اس لیے کہ ہمیں اپنی جان پیاری ہے ،وہی جان جس کے ایک لمحے کا بھی پتا نہیں کہ کب اللّہ تعالیٰ واپس بلا لے ۔ہم وہ بےحس مسلمان ہیں جو حادثات کو دیکھ کرلمحہ بھر کے لیے رکتے ہیں کہ خبر لے لیں کیا ہوا ہے آگے کے مراحل جس پر گزری وہی جانے۔
ہم بےحسی کےاعلیٰ درجے پرفائزہیں کہ انصاف کا ساتھ دینےکیلیےایسےہیں کہ جن کےلیےرب نے قرآن مجید میں فرمایا۔
(سورہ نمبر. 2 آیت نمبر-18)۔(بہرے گونگے اندھے ہیں ۔ پس وہ نہیں لوٹتے )
ہمارے سامنے عزتیں پامال کی جاتی ہیں۔خاموش ۔۔۔ہمارے سامنے بے حیائی پھیلائی جاتی ہے۔۔۔۔ خاموش۔ہمارے اردگرد زیادتیاں کی جاتی ہیں۔۔۔۔خاموش۔بے عزتیاں کی جاتی ہیں۔۔۔۔۔خاموش،رشوت لی اور دی جاتی ہیں۔۔۔۔خاموش۔جھوٹی گواہیاں دی جاتی ہیں۔۔۔۔۔۔خاموش۔وراثت کے حقوق غصب کئے جاتے ہیں۔۔۔۔ ۔خاموش۔اسلامی جمہوریہ پاکستان میں ہولی تہوار منایا جاتا ہے۔۔۔۔۔خاموش۔اسرائیلی مصنوعات بیچی اور خریدیں جاتی ہیں۔۔۔۔۔۔۔خاموش۔۔۔۔ اور ہم واقعی خاموش رہتے ہیں ۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے :اور حق کو باطل کے ساتھ خَلط مَلط نہ کرواورنہ حق کوجانتےبوجھتےچُھپانےکی کوشش کرو۔(سورہ نمبر. 2 ۔آیت نمبر42 )۔
ہم بحیثیت مسلمان اخلاقی پستیوں کا شکار ہیں۔ ہمارا ایمان کمزور پڑ چکا ہے ۔اپنے مسلمان بھائی کو روتے سسکتے دیکھ کر افسوس کرکے رہ جاتے ہیں اس کے لئے آواز اٹھانے کی جرات نہیں کرتے۔ کیا ہمیں اپنے ایمان کی تجدید کی ضرورت نہیں ؟ رب العالمین نے امت مسلمہ کو ایک جسم کی مانند بتایا ہے کیاہم یونہی اپنے جسم کی دھجیاں اڑتے دیکھتے رہیں گے؟ کیا اب بھی ہم کلمہ حق بلند نہیں کریں گے ؟اپنے حکمرانوں کو جگانے کی کوششیں نہیں کریں گے۔تو بس پھر اللّہ تعالیٰ سے دعا کریں کہ ابابیل ہی بھیجیں کہ وہی ظالموں کو مٹا دیں کہ ہم تو ابابیل جتنی قوت بھی نہیں رکھتے؟بےشک میرا رب خوب جانتا ہے اور تمام قوتوں پر غالب ہے یا ذالجلال والاکرام )۔




































